عمران کی کابینہ میں مشرف کے ساتھی شامل ہیں ،پیپلزپارٹی

عمران کی کابینہ میں مشرف کے ساتھی شامل ہیں ،پیپلزپارٹی

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ پرانے چہروں پر قائم نئی کابینہ عمران خان کے بیانات کی نفی اور کھلا تضاد ہے ٗپی ٹی آئی اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنا چاہتی ہے جو انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔پی پی رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ رول بیک ہونے کا خدشہ ہے ٗ عمران خان نے وہ باتیں کیں جو ہر شخص حکومت میں آنے کے بعد کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے سول ملٹری تعلقات پر کوئی بات نہیں کی، اپنے خطاب میں این ایف سی کا ذکر نہیں کیا، کیا وہ صوبوں سے اختیارات واپس لینا چاہتے ہیں؟فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزیراعظم عمران نے پارلیمانی کمیشن بنانے کا بھی ذکر نہیں کیا،ان میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کا فقدان ہے،ان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ لڑائی ہوگی،وہ ایسی گاڑی پر سوار ہیں جو آج نہیں تو کل حادثے سے دوچار ہوگی اور ممکن ہے کہ انہیں سول ملٹری تعلقات میں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے۔سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ میں مشرف کے کچھ سابق رفقاء کو بھی شامل کیا گیاہے ٗیہ رفقاء اٹھارویں ترمیم، صوبائی خودمختاری، ٹریڈ یونینز اور فریڈم آف پریس کیلئے ایک کھلی دھمکی ہیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے وفاقی کابینہ کے حلف اٹھانے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہے متحدہ اپوزیشن بہترین طریقے سے پارلیمنٹ کو واچ کرسکتی ہے، اپوزیشن جماعتیں اس طرح منقسم رہیں گی تو ان سے عوام اور تاریخ ضرور سوال کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام جمہوری قوتیں اکٹھی ہو جائیں ٗ اپوزیشن جماعتوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے الجھنا زیب نہیں دیتا،انہیں اس گھمبیر صورتحال کا ادراک ہونا چاہیے۔

پیپلزپارٹی

مزید : صفحہ آخر