100روزہ پلان سے تین مائنس ہو چکے ہیں:میاں افتخار حسین

100روزہ پلان سے تین مائنس ہو چکے ہیں:میاں افتخار حسین

پبی ( نما ئندہ پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ 100روزہ پلان سے تین دن مائنس ہو چکے ہیں ہنی مون پیریڈ قوم کو لالی پوپ پالیسیوں اور اعلانات پر ضائع کرنے کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں، وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتساب کابینہ سے شروع کرنے کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے ، مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چل رہا ہے اور 20رکنی کابینہ میں 12مشرف کے ساتھی ہیں جن کے خلاف کرپشن کے مقدمات ہیں ، اب ان لوگوں کا احتساب کیسے ہو گا؟انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کیوں اتنے بے اختیار ہیں کہ اپنی مرضی سے کابینہ بھی تشکیل نہیں دے سکتے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب جعلی مینڈیٹ سے حکومت بنے گی تو ایسے ہی لوگوں کے اقتدار میں آنے کی توقع کی جا سکتی تھی،انہوں نے کہا کہ عوام کو دھوکہ دینے کیلئے اعلانات کئے جا رہے ہیں خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن کا حال قوم دیکھ چکی ہے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے اور گورنر ہاؤسز کو ختم کرنے سے مسائل زیادہ بڑھیں گے قوم کا پیسہ بچانے کی بجائے مزید ضائع کیا جائے گا ، سالہا سال سے موجود عمارتوں کو مسمار کر کے اس پر نئی تعمیرات سے خزانے کو ڈبل نقصان پہنچایا جائے گا ، کاش حکومت یونیورسٹی کے قیام میں مخلص ہو تو اس کیلئے ماحول کے مطابق زمینیں اور پیسہ موجود ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پانچ سال خیبر پختونخوا میں حکومت کے باوجود پی ٹی آئی نے صوبے میں کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی ،جبکہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کو ختم کرنے کے دعوے بھی اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب اپنے وزیر اعلیٰ کیلئے سی ایم ہاؤس میں سوئمنگ پول بنا دیا گیا۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے جو بات کی گئی اس میں ابہام موجود ہے ، شاہ محمود قریشی اپنے دفتر میں خارجہ پالیسی بنائیں یا کسی اور کے ملک کیلئے صرف آزاد خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے ،ملک کی خوش قسمتی ہو گی کہ وزیر خارجہ ڈکٹیشن کے بغیر خارجہ پالیسی بنائیں ،انہوں نے کہا کہ عمران کے قول و فعل میں تضاد ہے ،قوم سے خطاب میں وہی باتیں دہرائی گئیں جو وہ اپنے جلسوں میں کرتے رہے تقریر میں نہ وژن تھا نہ پالیسی ،100روزہ پلان پر عملدرآمد کا وقت گزرتا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران سہاروں کی بنیاد پر وزیر اعظم بنے ہیں ایک سہارا چھٹنے کی صورت میں وہ کرسی سے محروم ہو جائیں گے،انہوں نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ سے مخصوص ایجنڈے کیلئے وزیر اعظم قوم پر مسلط کیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ جھوٹے اعلانات سے قوم کو گمراہ کرنے کی بجائے وزیر اعظم اصل حقائق کی جانب آئیں۔بچت کے چرچے کرنے والے جان لیں کہ نواز شریف تمام اخراجات اپنی جیب سے کرتے تھے قوم کو دھوکے میں نہ رکھا جائے ، قبل ازیں انہوں نے تھرٹ الرتس کے خلاف صوابی میں نوجوانوں کی طرف سے مظاہرہ کرنے پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں پر فخر ہے کہ وہ اپنے مشران اور اسلاف کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ ہیں ، انہوں نے کہا کہ تھرٹس انہی کو ملتے ہیں جو قوم سے مخلص ہوں اور اس قسم کی دھمکیاں مجھے اپنے مشن سے نہیں روک سکتیں،انہوں نے کہا کہ میرا نظریہ اور مشن قوم کی فلاح کیلئے ہے اور اسی وجہ سے ملک دشمن مجھے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر