ادھار واپس نہ کرنے پر دودھ فروش نے بے روزگار نوجوان کو زنجیروں میں جکڑ دیا

ادھار واپس نہ کرنے پر دودھ فروش نے بے روزگار نوجوان کو زنجیروں میں جکڑ دیا

ترنڈہ محمدپناہ(نمائندہ خصوصی) سنگدل دودھ فروش نے ظلم کی داستان رقم (بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

کردی۔ ادھارکے250 روپے ادا نہ کرنے پربیروزگارنوجوان محمدآصف کوزنجیرسے جکڑ دیا آصف کی والدہ نے موقع پرآکرمنت سماجت کی کہ آصف کوچھوڑدوکیونکہ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کیلئے دودھ ادھارلیتارہا ہے آصف حجام کاکام کرتاہے مگر6سات ماہ سے بیروزگارہے ایک دو دن میں پیسے اداکردے گامگردودھ فروش محمدوسیم کورحم نہ آیااوراسے زنجیروں سے آزادنہ کیااورمظلوم کو2گھنٹے تک زنجیروں میں جکڑے رکھا خبرکی اطلاع ملنے پرمسلم لیگ ن کے مقامی رہنماچوہدری شہزادجٹ نے250روپے قرض اداکرکے غریب کی جان بخشی کرائی جبکہ پولیس تھانہ ترنڈہ محمدپناہ اطلاع ملنے کے باوجودموقع پرنہ پہنچی بعدازاں تھانے جاکردرخواست دینے کے باوجودملزم دودھ فروش کیخلاف کاروائی کرنے کے بجائے درخواست گزارکوکل آنے کاکہہ کرٹرخادیا،کل مظلوم کے ساتھ میڈیااورمقامی افرادنے پولیس کودرخواست پیش کی جس پر پولیس نے چھاپہ مارا تودودھ فروش اپنی دکان چھوڑ کر فرارہونے میں کامیاب ہوگیا،عوامی،سماجی،صحافی،سیاسی اورکاروباری حلقوں سمیت محمدرمضان بلوچ کونسلر،شہبازصدیق کونسلر،محمدشہزادجٹ،سجاد فریدنمبردار،اطہرمہدی،ملک عزیزاللہ نمبردار،خادم حسین بلوچ،میرچاکراعظم،محمدخالد،پرویزحسین،ندیم حسین سمیت دیگرزنے شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے اورانسانیت کی تذلیل کی گئی ہے جس کے لیے انسانی حقوق کی محافظ تنظیمیں ،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیراعظم عمران خان اورنومنتخب وزیراعلیٰ سردارعثمان بزداراس ظلم اوربربریت کافوری ایکشن لیں اورسنگدل دودھ فروش کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔مدعی آصف نے روتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پرانے پاکستان میں توایسے واقعات اکثروبیشترہوتے رہتے تھے مگرمیرے ساتھ یہ ظلم نئے پاکستان میں ہواہے میں مطالبہ کرتاہوں کہ میری غربت کامذاق اڑانے، میری ماں کوزاروقطاررلانے اورمیرے اوپرانسانیت سوز ظلم ڈھانے والے دودھ فروش کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔آخری اطلاعات آنے تک پولیس اپنی کاروائی میں مصروف تھی اورملزم کوگرفتار کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے بھی مارے جارہے تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر