اسرائیل کے علاوہ آرمینیا سے عدم سفارتی تعلقات پاکستان کے یوریشین اقتصادی اتحاد کیساتھ تجارتی معاہدے میں بڑی رکاوٹ

اسرائیل کے علاوہ آرمینیا سے عدم سفارتی تعلقات پاکستان کے یوریشین اقتصادی ...
اسرائیل کے علاوہ آرمینیا سے عدم سفارتی تعلقات پاکستان کے یوریشین اقتصادی اتحاد کیساتھ تجارتی معاہدے میں بڑی رکاوٹ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان، مسلم لیگ نواز کے دور حکومت سے برآمدات میں کمی کے باعث نئی مارکیٹوں کو تلاش کرنے کیلئے جدوجہد کررہاہے اور اس تناظر میں پاکستان کے یوریشین اقتصادی اتحاد ” ای ای یو“ کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کے امکانا ت ہیں، اس بلاک میں روس اثرو سوخ رکھتاہے ۔ اس اتحاد میں بیلاروس ، قازقستان ، روس ،آرمینیا اور کرغر ستان شامل ہیں تاہم یہاں پر ایک مسئلہ درپیش ہے کہ اتحاد میں شامل آرمینیا کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات نہیں ہے اور ان تعلقات کی غیر موجودگی معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں امریکہ کے اثروسوخ کے باعث اسلام آباد امریکن اور یورپی یونین پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا جہاں پاکستان کی ٹیکسٹائل سمیت دیگر چیزیں درآمد کی جاتی تھیں تاہم بھارت اور امریکہ کے درمیان عسکری تعاون کے باعث امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں ۔آرمینیا اسرائیل کے بعد وہ دوسرا ملک ہے جسے پاکستان بطور ریاست تسلیم نہیں کرتاہے ، اس کے پیچھے سب سے بڑا مسئلہ ” ناگورنو - کاراباکھ علاقے کا تنازعہ اور آرمینی تحریک کے ترکی کے خلاف دعویٰ ہے ۔

ناگورنو کاراباکھ کا علاقائی تنازعہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ہے جبکہ اس میں دیگر سات اضلاع بھی شامل ہیں ۔اس متنازع علاقے کو ” ریپبلک آف آرٹ ساکھ “ کہا جاتاہے تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے آذربائیجان کا حصہ سمجھا جاتاہے ۔اس تنازعے کا آغاز 1988 میں اس وقت ہوا جب کاراباکھ کے رہنے والے آرمینی شہریوں نے مطالبہ کیا کہ یہ علاقہ آذربائیجان سے نکال کر آرمینیا میں شامل کیا جائے جو کہ وقت کے ساتھ شدت اختیار کر گیا اور 1990 میں اس تنازعہ پر شدید جنگ بھی ہوئی تاہم چار سال کے بعد 1994 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ۔جنگ کے بعد ناگورنو -کاراباکھ کے علاقے میں آرمینی بڑی تعداد میں رہتے ہیں جبکہ اسے دنیا میں کوئی ملک تسلیم نہیں کرتاہے سوائے ” ابکھازیا ، جنوبی اوسٹیشیااور ٹرانسنسٹرکے۔“

پاکستان نے ناگورنو - کاراباکھ جنگ کے دوران اور اس کے بعد ،آذربائیجان کی کھل کر حمایت کی تھی۔تاہم 1992 میں ” کھولجے “ کے علاقے میں آذربائیجان کے شہریوں کے قتل عام پر پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کا موقف ہے کہ یہ نسل پرست حملہ آرمینیا کی فوج کی جانب سے کیا گیا جس میں 161 عام شہریوں کو قتل کیا گیا ۔

ترکی اور رومینیا کے بعد پاکستان وہ تیسرا ملک ہے جس نے آذربائیجان کو تسلیم کیا اور اس وجہ سے پاکستان کے اس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں ،عالمی سطح پر آذربائیجان بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کرتاہے ۔آذربائیجان کے پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات کی وجہ سے آرمینیا نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا لیے ہیں اور کشمیر کے معاملے پر بھارت کی حمایت کرتا ہے ۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 2016 میں نوازشریف نے بطور وزیراعظم آذربائیجان کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا جس میں بیگم کلثوم نواز بھی ان کے ہمراہ تھیں اور انہیں آذربائیجان میں گارڈ آف آنر پیش کیے جانے کے ساتھ ساتھ ان کا شاندار استقبال بھی کیا گیا تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی