عمران خان نجات دہندہ بن پائیں گے ؟

عمران خان نجات دہندہ بن پائیں گے ؟
عمران خان نجات دہندہ بن پائیں گے ؟

  

وزیراعظم پاکستان کی پہلی تقریر سامنے آگئی۔ پہلی بار ایک لیڈر کی فی البدیہہ گفتگو سننے کا موقع ملا ۔خان صاحب نے حتی الامکان کوشش کی کہ موقع کی مناسبت سے جامع گفتگو کی جائے۔ انہوں نے پیپر پر پوائنٹس ضرور نوٹ کر رکھے تھے مگر گفتگو کا زیادہ حصہ وہ عوام سے براہ راست مخاطب رہے۔ان کے اس طرز عمل سے لیڈر کی کوالٹی اور ترجیحات سے بھی آشنائی ہوجاتی ہے کہ ایسا لیڈر قوم کے مسائل کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے مشکلات کا ذکر کیا ان سے مقابلے کا عزم ظاہر کیا اور عوام پاکستان سے تعاون کے طلبگار رہے۔

پاکستان کی معاشی حالات سدھارنا انکی ترجیح اوّل ہوگا ۔ وہ بے باک احتساب کے علمبردار نظر آتے ہیں ۔وزارات داخلہ اور ایف آئی اے بھی انکے ماتحت ہے آنے والے دنوں میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے اسکا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔تعلیم اور صحت انکا خصوصی ٹارگٹ ہیں چھوٹے بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

کراچی میں امن و امان اور معاشی استحکام انکی اولین ترجیح لگتی ہے کیونکہ صدر مملکت۔ گورنر سندھ کے علاوہ چھ وفاقی وزارتیں کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد کو دی جا رہی ہیں۔

صاف پانی کا بطور خاص ذکر کیا گیا شخصیات میں۔ ڈاکٹر عشرت حسین۔ ناصر درانی اور جاوید میانداد کا ذکر خیر کیا۔ناقدین کے پاس ایک ارب درخت اور کتنی بار عینک لگائی اور اتاری کے علاوہ کوء خاص بات نہیں ہوگی۔

کچھ معاملات پر تشنگی نظر آئی جیسا کہ کشمیر کے بارے میں دو ٹوک موقف کا اظہار۔ گستاخانہ خاکوں کے خلاف حکومتی موقف۔ اور دہشتگردوں کے خلاف واضح کارروائی۔ اگر ان موضوعات پر بھی گفتگو ہوجاتی تو تقریر کو چار چاند لگ جاتے عمران خان کا بیانیہ عام آدمی کے دل کی آواز ہے اور اپنے منشور پر وہ عملدرآمد کہاں تک کر پاتے ہیں، یہ دیکھنے والی بات ہوگی،ظاہر ہے ایک تقریر میں ساری باتیں نہیں ہو سکتیں۔ اس لئیے بہت سی باتیں تشنہ طلب ہیں۔

جیسے پاک امریکہ تعلقات کا پیمانہ کیا ہوگا ۔ کلبھوشن یادیو کو پھانسی کب ہوگی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اصل ماسٹر مائنڈ کب کٹہرے میں آئیں گے، محفوظ فیصلے کب غیر محفوظ ہونگے۔

کیا یہ ساری باتیں بیوروکریسی کو ہضم ہونگی، پانچ سال کے دورِ اقتدار میں گزشتہ 70 سال کی محرومیوں کا ازالہ کیسے ہوگا عام آدمی کو حقیقی ریلیف کب ملے گا۔ پانی بجلی اور گیس کے بنیادی مسائل کب حل ہونگے۔وزیراعظم ہاؤس میں نئی یونیورسٹی بنے یا نہ بنے پرانی یونیورسٹیوں کی حالت زار کیسے بہتر ہوگی۔تعلیم سب کے لیئے کا خواب کیسے پورا ہوگا۔

بھاشا ڈیم کی تعمیر کو لے کر انکی کمٹمنٹ نظر آئی جبکہ صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا ذکر ضرور کیا گیا مگر اسکے عملی خاکے کے خدوخال پیش نہیں کیے گئے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ خان صاحب کی تقریر نشستند۔ گفتند اور برخاستند تک محدود رہے گی یا اس ملک کے اٹھانوے فیصد عوام کا مقدر بھی بدلے یا نئے پاکستان میں سب پرانی تنخواہ پر ہی کام جاری رکھیں گے۔عوام کی بڑی اکثریت خان صاحب کو نجا ت دہندہ کے روپ میں دیکھ رہی ہے اور ماضی کو دیکھتے ہوئے انکی توقعات بے جا نہیں ہیں۔

دوسری طرف متحدہ اپوزیشن جو فی الوقت منتشر نظر آرہی ہے کیا وہ خان صاحب کو سکون سے کام کرنے دے گی یا نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن جو کہ عبرتناک شکست کے بعد دائرہ اسلام آباد سے خارج ہوگئے ہیں انکی پھرتیاں رنگ لائیں گی کہ نہیں ۔کیا احتجاجی سیاست پروان چڑھے گی یا فرینڈلی اپوزیشن ہوگی؟ یہ سب جاننے کے لئیے دیکھتے رہیں پردہ سیاست پر بدلنے والے شب و روز اور امید رکھیں کہ سب کہ لئیے ایک پاکستان ہوگا رنگ و نسل مسلک و مذہب کی تفریق کے بغیر نیا پاکستان تبدیلی کا پاکستان۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ