عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر52

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر52
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر52

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس کے بعد بایزید ادرنہ پہنچا ۔ اور 1397ء میں یونان پر حملہ آور ہوا۔ تھسلی ، فوسیس ، دوریس اور لوکر یس پر قبضہ کرلیا۔ کچھ ہی دن بعد ’’موریا ‘‘ کا تمام علاقہ بھی فتح ہوگیا ۔ یونان کی فتح سے لوٹا تو بایزید نے ایک مرتبہ پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کرلیا۔ حالانکہ معاہدہ کے دس سال پورے نہ گزرے تھے۔ اس نے اپنے خاص ایلچی کے ذریعے شہنشاہ ’’مینوئل‘‘ کو حکم بھیجا کہ وہ تخت سے دستبردار ہوجائے۔ ورنہ شہر بزورِ شمشیر فتح کرلیا جائیگا ۔ لیکن مینوئل نے سلطان کی بات نہ مانی ۔ چنانچہ سلطان نے قسطنطنیہ کا سخت محاصرہ کرلیا۔ لیکن عین اس وقت جب بایزید قسطنطنیہ پر حملہ کی تیاریاں کررہا تھا ۔ اس کے ایشیائی مقبوضات میں نہایت انقلاب انگیز حالات رونما ہورہے تھے۔ جن سے مجبور ہوکر اسے محاصرہ اٹھالینا پڑا.

.......اسی روز سے بایزید کی بدقسمتی کا آغاز ہوا۔ اور آئندہ دوسالوں میں جو اس کی حکومت کے آخری سال تھے۔ اسے اتنی زبردست شکست اٹھانی پڑی کہ اس کی تمام فتوحات پر پانی پھر گیا۔ اور کچھ دنوں کے لیے سلطنت عثمانیہ کی عظمت خاک میں مل گئی۔خود بایزید کا خاتمہ بھی قید کی حالت میں ہوا۔ اس کی یہ تباہی یہ بربادی ’’امیر تیمور ‘‘ کے ہاتھوں ہوئی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر51پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تیمور کی سلطنت ’’دیوارچین‘‘ سے لے کر ’’ایشیائے کوچک‘‘ کی سرحد تک اور ’’بحرارل‘‘ سے لے کر ’’دریائے گنگا‘‘ اور خلیجِ فارس تک پھیلی ہوئی تھی۔ پینتیس 35سال کی عمر میں اس نے سب دشمنوں کو زیر کر کے ’’سمرقند‘‘ کو اپنا پایہء تخت بنایا۔ اس کے بعد آنے والے عرصہ میں اس نے ستائیس 27مملکتیں فتح کیں اور نوشاہی خاندانوں کو فناء کردیا۔تیمور کی سلطنت کے بعد بایزید ہی کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور سلطنت تھی۔ بایزید اپنی سابقہ فتوحات کے نشہ میں اتنا سرشار تھا کہ اس نے تیمور کی قوت کا صحیح اندازہ نہ کیا۔ اور ایک ایسے فاتح کو برانگیختہ کردیا ۔ جس کی دہشت سے بڑے بڑے بادشاہ کانپتے تھے۔ پہلے پہل دونوں کے درمیان نہایت تلخ خط و کتابت شروع ہوئی۔ اور بالآخر نوبت جنگ تک آگئی۔

1400عیسوی میں تیمور نے بایزید کے شہر ’’سیواس ‘‘ کا چھ لاکھ کی فوج کے ساتھ محاصرہ کرلیا۔ سیواس کی حفاظت پر ’’بایزید‘‘ کا سب سے بڑا لڑکا ’’ارطغرل ‘‘مامور تھا ۔ ارطغرل نے ایسی جانبازی کے ساتھ تیمور کا مقابلہ کیا کہ کئی روز تک چھ لاکھ کی فوج کامیاب نہ ہوسکی۔لیکن آخر میں تیمور نے ایک ایسی تدبیر اختیار کی ۔ جس کا جواب محصورین کے پاس نہ تھا ۔ اس نے چھ ہزار مزدور لگا کر دیواروں کی بنیادیں کھودنا شروع کیں اور ان میں شہتیروں کی تھونی لگا کر دیواروں کو روکے رکھا۔ جب کھدائی کا کام مکمل ہوگیا تو شہتیروں میں آگ لگادی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے دیواریں بیٹھ گئیں۔ اور شہر پر فوراً قبضہ ہوگیا۔ تیمور نے اپنی ظالمانہ روایت برقرار رکھیں اور بایزید کے بیٹے ارطغرل کے ساتھ چار ہزار شہریوں کو بھی بے دردی سے قتل کردیا۔ بایزید اس وقت قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ اس نے یہ خبر سنی تو محاصرہ چھوڑ کر آندھی اور طوفان کی طرح تیمور کے مقابلے کے لیے ایشیائے کوچک پہنچا۔ لیکن تیمور شام اور مصر کی طرف روانہ ہوچکا تھا ۔ دوسال کے بعد وہ پھر لوٹا۔ اور پہلے سے بھی زیادہ اختلافات کے ساتھ دونوں کے درمیان خط وکتابت ہونے لگی۔ اور بالآخر چشمِ فلک نے تاریخ کی ا س دردناک جنگ کا نظارہ کیا۔ جس میں دونوں طرف مسلمان سپاہی شریک تھے۔

یہ جنگ ، ’’جنگِ انگورہ ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بایزید ایک لاکھ بیس ہزار فوج کے ساتھ ’’سواس‘‘ کی طرف بڑھا۔ لیکن تیمور نے آٹھ لاکھ کی فوج کے ساتھ بایزید کے شہر ’’ انگورہ‘‘ کو گھیرے میں لے لیا۔ بایزید ’’انگورہ‘‘ کو بچانے کی غرض سے ’’انگورہ ‘‘ کی طرف چل پڑا۔تیمور تاتاری تھا ۔ ادھر بایزید کی فوج میں ایک بڑی تعداد تاتاریوں کی تھی۔ تیمور نے اپنے جاسوس بھیج کر ان تاتاریوں کو ورغلا یا جو عین جنگ کی حالت میں ٹو ٹ کر تیمور سے جاملے اس موقع پر بایزید سے سب سے بڑی حماقت یہ سرزد ہوئی کہ وہ ایک روز اپنی بے خوفی کا مظاہرہ کرنے کے لیے اپنی پوری فوج کو لے کر شکار کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ جس مقام پر شکار طے پایا ۔ وہاں پانی بہت کم تھا ۔اور پانچ ہزار عثمانی سپاہی پیاس کی شدت سے ٹرپ کر مرگئے۔ جو زندہ بچے وہ بھی گرمی اور پیاس سے نڈھال تھے۔ بایزید شکار سے واپس لوٹا ۔ تو اس نے دیکھا کہ اس کی لشکر گاہ پر تیمور کا قبضہ تھا ۔ جس چشمہ سے عثمانی فوج پانی لیتی تھی اس کا رخ بھی تیمور نے پھیر دیا تھا ۔اب بایزید کے پاس ماسوائے فوری جنگ کے اور کوئی راستہ نہ تھا ۔ چنانچہ منگل کے روز سترہ 17ذوالحجہ 804ھ بمطابق 20جولائی 1402عیسوی کو ’’انگورہ ‘‘ کے مقام پر وہ معرکہ پیش آیا ۔ جس نے ...........

’’تیمور کی شہرت و عظمت کو حیاتِ ابدی بخش دی۔ اور بایزید کی ذلت و رسوائی کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنادیا (گبن)‘‘

دورانِ جنگ بہت سے مسلمان سردار بایزید کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ اور بالآخر بایزدی 8لاکھ تاتاریوں کے مقابلے میں صرف دس ہزار ینی چری کے سپاہیوں کے ہمراہ اکیلا رہ گیا ۔ سر بیا کا بادشاہ ’’لارڈ سٹیفن ‘‘ بھی آخری وقت بایزید کے ساتھ اور شکست سے چند لمحے پہلے فرار ہوا۔ بایزید کو محمود خان چغتائی نے گرفتار کرلیا۔ اس کے پانچ لڑکوں میں سے جو لڑائی میں شریک تھے۔ تین دشمن کی زد سے بچ نکلے ۔ ’’شہزادہ سلیمان‘‘ نے یورپ کا رخ کیا ۔ ’’شہزادہ محمد نے ’’اماسیہ‘‘ پہنچ کر دم لیا۔ اور ’’شہزادہ عیسٰی ‘‘ کر مانیا کی طرف بھاگا۔ ’’شہزادہ موسیٰ ‘‘ گرفتار ہوا۔ اور ’’شہزادہ مصطفی ‘‘ کا حشر کسی کو معلوم نہ ہوسکا ۔ ممکن ہے لڑائی میں مارا گیا ہو۔ لیکن کسی کو اس کا سراغ نہ ملا ۔

جنگ کے اختتام پر بایزید کو گرفتار کرکے امیر تیمور نے ایک لوہے کے پنجرے میں ڈال دیا ، تیمور قیدی سلطان کو لوہے کے پنجرے میں بند رکھتا۔ وہ جہاں جاتا اس پنجرے کو ساتھ لے جاتا۔ بایزید اس رسوائی کو برداشت نہ کرسکا۔ اور صرف آٹھ مہینے بعد اس کی روح قفسِ عنصری اور قفسِ فولادی دونوں سے بہ یک وقت آزاد ہوگئی۔ (دولتِ عثمانیہ) ’’جنگ انگورہ ‘‘ کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا بظاہر خاتمہ ہوگیا ۔ عثمانی سلطنت کی تمام باجگذار ریاستیں آزاد ہوگئیں۔ بایزید کے چھ لڑکوں میں سے پانچ اس کے ساتھ جنگِ انگورہ میں شریک تھے۔ چار لڑکے جو زندہ بچ گئے۔ بایزید کی وفات کے بعد مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں حکمران بن بیٹھے۔ اور آپس میں لڑنے لگے۔ بھائیوں کی اس لڑائی میں آخری فتح ’’شہزادہ محمد ‘‘ کو ہوئی۔ اور ’’شہزادہ محمد ‘‘ نے صرف آٹھ سال کے عرصہ میں سلطنتِ عثمانیہ کا کافی حد تک وقار بحال کرلیا۔

’’محمد ‘‘ نے 41سال کی عمر میں 1421ء میں وفات پائی۔ اور ’’بروصا ‘‘ میں دفن ہوا۔ سلطان مراد خان ثانی اسی محمد کا بیٹا تھا ۔ اور اس طرح سلطنتِ عثمانیہ کے سلاطین کا شجرۂ نسب یوں بن گیا کہ ’’عثمان ‘‘ پہلا تاجدار تھا ۔ جو 1288ء میں نمودار ہوا۔ اس کا بیٹا ’’ارخان ‘‘ 1326ء میں ............اس کا بیٹا ’’مراداول ‘‘ 1359ء میں ........اس کا بیٹا ’’بایزید یلدرم ‘‘ 1389ء میں ........اس کا بیٹا ’’محمد اول ‘‘ 1413عیسوی میں ..........مراد خان ثانی ‘‘ 1421ء میں ..........اور اس کا بیٹا سلطان ’’محمد فاتح‘‘ 1451میں تخت نشین ہوا۔سلطان محمد فاتح کے بعد بھی سلطنتِ عثمانیہ کئی سو سال تک قائم رہی ۔ لیکن جو شہرت اور عزت محمد فاتح کے حصے میں آئی وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوسکی۔دراصل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا .........

’’قسطنطنیہ کا فاتح جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

یہ حدیثِ مبارکہ بہت مشہور تھی۔ اور اسی حدیث کا سہرا اپنے سر باندھنے کے لیے اموی حکمران ’’یزید اول ‘‘ سے لے کر بایزید یلدرم اور سلطان مرادخان ثانی تک ..........سب نے قسطنطنیہ پر جارحانہ حملے کیے۔ لیکن کوئی بھی قسطنطنیہ کو فتح نہ کر سکا۔ یہ سعادت سلطان محمد خان فاتح کے حصے میں آئی۔ جس نے 29مئی 1453عیسوی کی رات عظیم آہنگر اربان کی طاقتور توپوں سے بالآخر قسطنطنیہ کی ایک دیوار کو گرادیا ۔ اور یو ں یہ شہر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا استنبول بن گیا ۔(جاری ہے)

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح