اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔آخری قسط

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔آخری قسط
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔آخری قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تقریب شرو ع ہوگئی۔ بیٹے کا شگن تھا ، لیکن منچلوں نے اس کو بھی ’’ یوم اقبال سے تعبیر کیا، ایک طرف صوفہ سیٹ تھے ، ان پر ’’ خان زادے‘‘ اور خان کے احباب فروکش تھے۔ دوسرے طرف عام مدعوین قالینوں پر کھلے بیٹھے تھے ، ایک کونے میں اُستاد جی مشغول تھے۔ اور اُدھر سامنے کے رُخ پر طوائفیں بیٹھی تھیں ۔اُن کے دمکتے ہوئے چہروں کی یکجائی پر دیپ مالا کا قیاس ہوتا تھا، کوئی پچاس کے قریب تھی لیکن ایک کا لباس دوسرے پر بازی لے گیا تھا جن کا سن بیت چکا تھا وہ بھی چکارا نظر آتی تھیں، ان کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ یہ عورتیں نہیں سونا ہیں ، ہمارا ملک زرعی نہیں زری ہے۔ ہم کسی متمول ملک کے باشندے ہیں، یہاں کوئی بھوکا ہے نہ ننگا۔ ہر کہیں رزق اور روپے کی فراوانی ہے ، کوئی شخص خون نہیں پیتا ، سب شراب پیتے ہیں۔

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر 30پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ممتاز اپنی ہجولیوں میں ( CORRECTION SLIP)بنی بیٹھی تھی ہمارے پاس بالکونی میں آئی اور بتایا ۔۔۔ ’’ وہ صاحب جن کے سیاہ چہرے پر برص کی دھاریاں پھیلی ہوئی ہیں ، پہلے فریدہ کو گوانا چاہتے ہیں۔‘‘

ؔ ؔ ’’ یہ کون بزرگ ہیں؟‘‘

’’ بزرگ کہاں ہیں ، برخوردار ہیں ! ماں کی گود سے قسمت کے دھنی ہیں۔پاکستان راس آگیا ہے۔۔۔ چہرے سے تو معلوم ہوتا ہے جیسے کسی بچے نے سلیٹ پر چاک سے لکیریں کھینچ دی ہیں۔‘‘’’ جی نہیں ، فریدہ سے پوچھئے، ان کے میاں ہیں ، وہ کہا کرتی ہے۔‘‘

’’ آبنوس پر ہاتھی دانت کا کام ہے۔‘‘

’’ اچھا ان میں کون کون اچھی گویا ہے؟‘‘

’’ آپا مختار اور آپا شمشاد۔‘‘

’’ لیکن وہ تو ڈھل چکی ہیں۔‘‘

’’ عمر کی بات اور ہے ، لیکن آواز تو اب بھی جوان ہے ، سچ پوچھئے تو یہ دونوں صدا ہیں اور باقی جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں وہ بازگشت ہے۔‘‘

فریدہ نے بول اُٹھایا،

شوق ہر رنگ رقیب سروساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عُریاں نکلا

بوئے گُل ، نالہ دل ، دودِ چراغِ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

ایک گوشہ سے آواز آئی، اس حُسنِ اعتراف کا شکریہ!‘‘

’’ جو تری بزم سے نکلا سو پریشان نکلا۔‘‘

سو روپیہ کا نوٹ، ایک نوٹ ، دو نوٹ ، کئی نوٹ ، ایک نے دس روپے کا نوٹ دکھایا، لیکن اسنے آنکھیں پھرلیں ، دونوٹ ، پہلو بدل لیا۔ تین نوٹ ، پیٹھ کرلی۔ وہ بھی منچلا تھا، دس دس کے دس نوٹ طاؤس کے پروں کی طرح پھیلا دیئے، فریدہ نے مسکراہٹ کے ساتھ سمٹتے ہوئے کہا‘‘، آج کل مندا ہے جیب ہی میں رکھ لیجئے‘‘، اُس نے اس طعن کو گالی سمجھا ، جیب سے سرخوں کی تھئی نکالی اور پاؤں میں بکھیر دی۔۔ نوٹ ہی نوٹ!

اب فریدہ نے گھنگھر و باندھ لئے ، اس کی آواز کا لہرا ہوا کے بازوؤں پر لہرا رہا تھا۔ ایک غزل کے بعد دوسرے غزل،

تم مرے پاس ہوتے ہوگویا

جب کوئی

تیسرا نہیں ہوتا ۔۔۔ ایک نوجوان نے درمیان میں سے کاٹ ڈالا، فریدہ کلامِ اقبال پر آگئی،

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی

مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

’’ مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی‘‘،میں ایک گداز تھا

اس مصرع کو پلٹ کر دہرانا تاثر کی تھاہ تک پہنچ گیا اور پھر مصرع اولیٰ کے نصف اوّل ۔۔۔ وہی میری کم نصیبی ۔۔۔ کو جس انتہا پر لے جا کر جس آہستگی سے لوٹایا ، اس میں ایک ایسا بہاؤ تھا کہ سامعین لوٹ پوٹ ہوگئے۔

چہرامی زندایں مطرب مقام شناس

کہ درمیانِ غزل قول آشنا دارو

اُس نے ایک ہی بول میں کئی حکایتیں کہہ ڈالیں، گو اُس کے جسم کا ایک ایک ٹانکہ بول رہا تھا اور اُس کی پلکوں کے تناؤ میں معافی کا ذخیرہ تھا لیکن کوئی جوہر مفقود تھا، تو وہ نسائیت کا جوہر تھا۔

****

فردوس نے پہلے تو حاضر ین کا جائزہ لیا، پھر ابھی تو میں جوان ہوں،

گانا چاہا، لیکن حاضرین نے اصرار کیا۔۔۔ اقبال

تیور بدلے، اور زاویہ سا بناتے ہوئے فردوس نے بول اُٹھایا ،

نگاہ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے

خراج کی جوگدا ہو وہ قیصری کیا ہے

آواز میں کندن کی سی دمک نہ ہونے کے باوجود آواز کا چکمہ ضرورت تھا۔ ہر شعر معذرت کے لہجہ میں گایا اور ہر نوٹ تشکر کے ساتھ وصول کیا، لیکن اس کے اعضاء کی لچک سے ظاہرہوتا تھا کہ ان ٹہنیوں کی آب مرچکی ہے ، اگر کوئی شے باقی ہے تو وہ ایک خوبصورت خول ہے جس میں شب بسریوں کے بہت سے جوڑ ہیں۔

عنایت ہائی ڈھیرو والی نے غزل چھیڑی،

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

جو مشکل اب ہے یا رب وہی مشکل نہ بن جائے

اور جب مقطع پر پہنچی تو رنگ ہی دگرگوں تھا،

عروج آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ لوٹا ہوا تارہ مہ کا مل نہ بن جائے

ایک دوسری غزل نے محفل لوٹ لی، مطلع تھا،

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے

پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے

مقطع تھا ،

کیا صوفی و ملاّ کو خبر میرے جنوں کی

ان کا سردامن بھی ابھی چاک نہیں ہے

عنایت نے صوفہ نشینوں کے گریبانوں پر حنائی اُنگلیوں کا نشانہ باندھا اور مصرع اولیٰ کو پلٹے ہوئے قدرے لوچدار آواز میں ۔۔۔ کیا صوفی و ملّا کو ۔۔۔ اور قدرے گونجدار آواز میں ۔۔۔ خبر میرے جنوں کی ، دہرایا ، تو اس ادا پر محفل کی محفل نثار ہوگئی ، اِدھر اُدھر سے نوٹوں کی برکھا ہونے لگی، ایک بالا بلند نوجوان نے گریبان پھاڑ ڈالا ، ہر چاک پر سو سو روپے کا نوٹ رکھ کر نذر کیا۔۔۔

جو ہاں ذرا ایک دفعہ پھر ۔۔۔

کیا صوفی و ملّا کو خبر میرے جنوں کی

ان کا سرِدامن بھی ابھی چاک نہیں ہے

ممتاز نے بھی اقبال ہی سے شروع کیا،

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے فکرِ جہاں ، کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

یہ شعر مدعوین کی ذہنی استعداد سے بہت بالا تھے، لیکن سادہ سی غزل سے اس کی دھاک بیٹھ گئی ، چونکہ فنی ہے ، لہٰذا آواز کا جوار بھاٹا سہ آتشہ ہوگیا،

زندگی کے اُداس لمحوں میں بے وفادوست یاد آتے ہیں

خوش رہو اے حسین انسا نو راستے جگمگائے جاتے ہیں

رہوار شب سر پٹ دوڑ رہا تھا ، لیکن رنڈیوں کے قہقہے ، اور سگریٹوں کا دھوآں اس سے بھی تیررو تھے، ممتاز گا چکی تو ایک کونے سے آواز آئی ’’ممتاز‘‘ ممتار نے سُنا تو اس کا چہرہ کھلکھلا اُتھا، گویا سراپا تشکر ہے، پہلے آواز کو پکے راگ سے کھنگالا ، پھر حشر کی غزل گائی،

چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی

خوشبو اُڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی

اس کی آواز میں ابھی تک صبح جوانی کا نور ہے، لیکن زندگی شامِ غریباں تک آ پہنچی ہے۔ ایک طوائف اس وقت بیوہ ہوجاتی ہے جب جوانی بیت چُکتی ہے ، اور یہ احساس مختار کی آواز سے بھی جھلک رہا تھا ، وہ جانتی ہے کہ اب وہ ایک آواز ہے جس کی لذت محض کانوں کے لئے ہے او اس کا دن پان کا پتہ ہے جو پک چکا ہے ، اور اس پر بھی تمت بالخیر کی مہر لگ گئی ہے۔

ایک عورت کے لئے اس سے بڑھ کر صدمہ کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ بوڑھی ہوگئی ہے ، یا اس کا حُسن مر چکا ہے ، عورت ہمیشہ عمر کی زیادتی سے گھبراتی ہے جو عوت اپنی صحیح عمر بتا دے ، سمجھئے کہ وہ اپنی غلطیوں میں کوئی دلکشی پیدا نہیں کر سکتی۔ پھر ایک طوائف جو آہ بن کر اُٹھتی اور آنسو بن کر گرتی ہے۔

شمشاد نے (جس کی عمر اب تھک چکی ہے) پہلے تو عذر چاہا ، لیکن ہمجولیوں کے اصرار پر راضی ہوگئی۔

قیوم نظر کی غزل ،

زندگی چال چل گئی شاید موت بھی آ کے گئی شاید

اور پھر ۔۔۔ اقبال

اگر کج روہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

معلوم ہوا جیسے آواز میں گا رہی ہے لیکن اُس کے چہرے کے شہابی رنگ پر یہ سوال پھیلا ہوا تھا کہ زندگی بڑھاپے سے شروع ہو کر بچپن پر ختم ہوجاتی تو کیاہوتا؟

اس کی آواز اور وقت دونوں اُڑے جا رہے تھے، اور اب تو فضا کا رنگ ہی بدل گیا تھا صوفہ نشینوں کی وضعداریاں ڈھیلی پڑگئی تھیں ، پیالوں کے سُرخ پانی نے حواس کا توازن بلا دیا تھا۔

ایک عجیب و غریب شور میں شہناز نے ناچنا شروع کیا۔ کلائی سے کلائی پر گرہ باندھی ، ایڑیاں ٹھمکا میں ، آواز آئی۔۔۔ ’’ پنجابی‘‘

بڑے اچھے ہاتھ پاؤں کا ایک جامہ زیب نوجوان سامنے آبیٹھا ، غور سے دیکھا، اچکن کی جیبیں ٹٹولیں ، دوسبزے پاؤں پر نچھاور کئے اور کہا ’’شمشاد پنجابی !‘‘۔۔۔ دل تیرے پیاردیاں پاندا اے کہانیاں

شہناز نے دور آئینہ پر ایک نظر ڈالی کہ اس کی لم چھڑی آنکھوں میں ان کہے خیالوں کی بتیاں جھلملا رہی تھیں، اِدھر دائرہ بنا ، اُدھر ہاتھوں کے گجرے حرکت میں آگئے ، بوٹی بوٹی تھرکنے لگی، ایک قوس کہ جس پر نام کی کوئی سی تہمت بھی دھری نہیں جا سکتی ہے اس کا رقص رات کے گھنے پن میں اور بھی گھنا ہوگیا ، زاویے ہی زاویے ۔۔۔ دائرے ہی دائرے

دل وچ درد اے ، تے اکھاں وچ اتھرو

سانبھ سانبھ رکھیاں نے تیریاں نشانیاں

دل تیرے پیاردیاں پاندا اے کہانیاں

(دل میں درد ہے ، اور آنکھوں میں آنسو، اے محبوب ! میں نے تیرے پیار کی نشانیاں بڑی حفاظت سے رکھ چھوڑی ہیں۔ اس لئے کہ دل تیرے پیار کی کہانیاں کہتا ہے)

اُس کا ناچ تیز ہوتا گیا، اس کی دھنیں پھیلتی گئیں، اس کے چہرے کا رنگ سُرخ ہوگیا، اس کی ادائین نکھرتی گئیں، اس کے پھول کھلتے گئے، اس کے شعلے ٹوٹتے گئے، اس کا روپ سوا ہوتا گیا۔ اس کی جوانی کا الاؤ بھڑکتا گیا، کبھی لہروں کی طرح بڑھی ، کبھی پنکھڑیوں کی طرح سمٹی کبھی خوشبو کی طرح پھیلی ، کبھی بجلی کی طرح کوندی،کبھی مینا کی طرح چھلکی ، کبھی ساغر کی طرح کھنکی، کبھی گلاب کی طرح مہکی ، کبھی بلبل کی طرح چہکی، کبھی گھناؤں کی طرح اُٹھی، کبھی میکدے کو نکل گئی، کبھی بتکدے کو آگئی، کبھی آغوش بن گئی، کبھی اُمنگوں میں گھلنے لگی، اور کبھی رنگوں کا پیکربن گئی ۔۔۔ لیکن جیسے جیسے وہ ناچتی گئی، اس کا ہر زاویہ سوال بنتا گیا۔۔۔ فرشتوں کا زہر خند ۔۔۔ قدرت کا نوحہ

وہ ناچ رہی تھی ، ہم دیکھ رہے تھے ۔ ہم دیکھ رہے تھے وہ ناچ رہی تھی،

وقت ناچ رہا تھا ، ماحول ناچ رہا تھا ، دل ناچ رہے تھے ، دماغ ناچ رہا تھا، درودیوار ناچ رہے تھے ، چشم و گوش ناچ رہے تھے، الغرض فضا میں ناچ ہی ناچ تھا، لیکن یہ ناچ ۔۔۔ بکاؤ ناچ۔۔۔ سیاست کے ناچ سے کہیں بہتر ناچ تھا، سیاست کے ناچ میں کئی چیزیں ناچتی ہیں ، قوم ناچتی ہے ، ملک ناچتے ہیں ، غیرت ناچتی ہے ، حمیت ناچتی ہے ، عقیدے ناچتے ہیں اور ابھی پانچ سال پہلے ہزارہا عصمت ناچ چکی ہیں۔ اور یہ ناچ صرف جسم کا ناچ تھا، بیوپار کا ناچ ، لین دین کا ناچ ، مرد کی جیب اور عورت کے جسم کا ناچ ، جس کے ساتھ ضرب تقسیم اور جمع تفریق کا کوئی کانٹا نہ تھا۔۔۔،

دریں زمانہ رفیقے کہ خالی ازخلل است

رات کاسناٹا ختم ہونے کو تھا ، اور ستاروں کے قافلے خلاؤں میں ڈوب جانے کو مدہم ہوگئے تھے ، شہناز کا جسم تھک چکا تھا، لیکن اقبال نے آواز کو سہارا دے رکھا تھا

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی

مرے کام کچھ نہ آیا پر کمال نے نوازی

اور۔۔۔

اب بھنگڑا (پنجابی لوک ناچ) شروع ہوچکا تھا، گھنگھرؤں کے چھنا کے ، ستارے کے لہرے ، طبلے کی دھمک تھپک اور پھر ۔۔۔ ستلج کے گیت، بیاس کے بول ، راوی کے راگ ، چناب کا ماہیا، اور جہلم کے دو ہے

اڑا اڑا دھم ، بھنگڑا۔۔۔ اڑا اڑا دھم ، بھنگڑا

تاتھیا، تاتھیا ، تاتھیا۔۔۔ اڑا اڑا دھم ، بھنگڑا

اڑا اڑا دھم ، بھنگڑا۔۔۔ تا تھیا ، تا تھیا، تا تھیا

رن نہا کے چھپڑ وچوں نکلی

سلفے دی لاٹ ورگی

(دو شیزہ جوہڑ میں سے نہا کر نکلی ، تو محسوس ہوا کہ عورت نہین ، سلفہ کا شعلہ جوالا ہے)

مینوں پنڈ دی کڑی نہ سمجھیں

وے داں تینوں دن بن کے

(مجھے گاؤں کی لڑکی نہ سمجھنا ، میں عورت بن کر بھی دکھا سکتی ہوں‘‘، یہ گاؤں کی لڑکیوں کے بھولپن اور عورتوں کے بانکپن کی طرف اشارہ ہے)

میری لگدی کے نہ ویکھی

تے ٹٹدی نوں جگ جاندا

( جب میں نے پیار کیا تو سب بے خبر تھے، لیکن جب پیار ٹوٹا تو دنیا جانتی ہے)

اگ بال دھوئیں دے پج روواں

تے بھیڑے دُکھ یاریاں دے

(میں آگ جلا کر دھوئین کی آڑ میں رولیتی ہوں ، کیسے کہوں کہ عشق و عاشقی کے روگ کتنے اذیت ناک ہوتے ہیں)

میرا یارنی سُرودابوٹا

تو وہڑے وچہ لار کھدی

(میرا چہیتا سروکا بوٹا ہے۔ کاش میں اسے اپنے صحن میں لگا سکتی)

دمڑی داسک مل کے

منڈا موہ لیا تو پتاں والا

(ایک کوڑی کاہونٹوں پر دنداسہ مل کر تعویذوں والا لڑکا شکارکر لیا ہے۔ پنجاب میں رواج ہے کہ مائیں اپنے بیٹوں کو نظر بد سے بچالے کے خیال سے تعویذ پہنا دیتی ہیں)

ماجھے دیئے بند بوتلے

تینوں پین گے نصیباں والے

(شاعر مجبوبہ سے کہتا ہے ، اے ماجھے (فیروز پور اور امرتسر کا علاقہ جو خود کشیدہ شراب کے لئے مشہور تھا کی بند بوتل (دوشیزہ) تجھے مقدر والے ہی پئیں گے)

تیرے لونگ دا پیا لشکارا

تے ہالیاں نے ہل ڈک لتے

(اے محبوبہ ! تیرے ناک کی کیل کے چمکارے پر کسانوں نے ہل روک لئے ہیں ۔۔۔ یعنی بجلی چمکی ہے ، بادل آرہے ہین اور برکھا ہونے والی ہے)

اڑا دھم ، اڑا دھم ، اڑا دھم بھنگڑہ

اڑا دھم ، اڑا دھم ، اڑا دھم بھنگڑہ

آخر رات بیت گئی ، مجرا ختم ہوگیا ۔ اب فروش زمین پر موتیئے کے آزردہ پھول تھے اور ابریشمی ساڑھیوں کے شکستہ بادلے ، یا پھر بوجھل پلکوں پر نیند کی دبیز تہیں، جنہیں عالمگیری مسجد کے پُرشکوہ میناروں پر بلالؓ کا وارث جھجوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

حی علیٰ الصلوٰۃ۔۔۔ حی علیٰ الصلوٰۃ

ح علیٰ الفلاح ۔۔۔ حی علیٰ الفلاح

(ختم شد)

مزید : کتابیں /اس بازار میں