پی ایس او کے ایم ڈی کی تنخواہ 50 لاکھ اور ڈپٹی ایم ڈی کی 23 لاکھ، مگر ملک بھر میں کتنے سرکاری افسر 15 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لے رہے ہیں اور ان کیساتھ کیا سلوک ہونے جا رہا ہے؟ وہ خبر آ گئی جس کا پاکستانیوں کو شدت سے انتظار تھا

پی ایس او کے ایم ڈی کی تنخواہ 50 لاکھ اور ڈپٹی ایم ڈی کی 23 لاکھ، مگر ملک بھر میں ...
پی ایس او کے ایم ڈی کی تنخواہ 50 لاکھ اور ڈپٹی ایم ڈی کی 23 لاکھ، مگر ملک بھر میں کتنے سرکاری افسر 15 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لے رہے ہیں اور ان کیساتھ کیا سلوک ہونے جا رہا ہے؟ وہ خبر آ گئی جس کا پاکستانیوں کو شدت سے انتظار تھا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کا بال بال قرضے میں جکڑا ہے مگر حکمرانوں کے علاوہ افسران کی عیاشیاں ایسی ہیں کہ ہر کوئی سن کر شرما جائے۔ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ایم ڈی کی تنخواہ 50 لاکھ روپے جبکہ ڈپٹی ایم ڈی 23 لاکھ روپے وصول کرتے ہیں جبکہ ملک بھر میں تقریباً 15 سے زائد ایسے افسران ہیں جن کے 15 لاکھ روپے یا اسے زائد ماہانہ تنخواہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔

نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق پاکستان میں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز ایسی کمپنیاں ہیں جن کی گزشتہ 10 سالوں کے دوران کارکردگی انتہائی خراب رہی اور ان کمپنیوں یا کارپوریشنز کا سالانہ نقصان تقریباً 400 سے 500 ارب روپے تک کا ہے مگر ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی۔ اس سیکٹر میں کچھ تجربے ہونا شروع ہوئے اور یہ منطق سامنے آئی کہ ان کمپنیوں کے سربراہان کی تنخواہیں بھی پرائیویٹ مارکیٹ اور بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق ہونی چاہئیں اور انہیں بھارتی مراعات بھی ملنی چاہئیں تاکہ اچھے لوگوں کی خدمات حاصل کر کے ان کمپنیوں کا خسارہ ختم کیا جا سکے اور انہیں منافع بخ بنایا جا سکے لیکن جب بھرتیوں کا عمل شروع ہوا تو روپے پیسوں کی بارش کر دی گئی۔

مختلف کمپنیوں کے سربراہان کا تقرر شروع ہوا تو پبلک سیکٹر کمپنیوں کے وہ سربراہان جنہیں دو لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک تنخواہ ملتی تھی اور مراعات بھی شامل تھیں، کو بڑھا کر 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک پہنچا دیا گیا مگر اس کے باوجود کمپنیوں کی کارکردگی بہتر نہ ہو سکی۔ پھر یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ پی ایس او کے ایم ڈی 37 لاکھ روپے بنیادی تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ اس میں دیگر مراعات شامل ہونے کے بعد ماہانہ پیکیج 50 لاکھ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی نظر میں پہنچا جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پتہ چلایا جائے کہ ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کتنی تنخواہ لے رہے ہیں اور اگر وہ واقعی 50 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رے ہیں تو اس کا جواز کیا ہے، ان کی تقرری کس بنیاد پر کی گئی، کیا یہ سیاسی تقرری تھی اور ان کے تقرر کیلئے قانونی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا یا نہیں جبکہ اس کے علاوہ ملک بھر کے تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ایسے افسران جن کی ماہانہ تنخواہ پندرہ لاکھ روپے یا زیادہ ہے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں اور رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد نیب نے تحقیقات کا عمل شروع کیا تو نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو یہ خط لکھا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے چھ ہفتوں میں رپورٹ نیب ہیڈ کوارٹر میں دو ستمبر تک جمع کروائی جائے۔ نیب نے ڈائریکٹر جنرلز سے تمام معلومات جمع کر لی ہیں جن کے مطابق اس وقت پاکستان میں مختلف کمپنیوں اور کارپوریشنز اور سرکاری اداروں کے 15 سے زیادہ ایسے افسران ہیں جن کی تنخواہ 15 لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ ہے۔ تحقیقات کے دوران بے شمار افسران ایسے بھی سامنے آئے جن کی تنخواہ 14 سے 15 لاکھ کے درمیان ہے اور چونکہ ان کی تنخواہ 15لاکھ روپے نہیں ہے اس لئے ان کے نام فہرست میں شامل نہیں کئے گئے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کو دو ستمبر تک حتمی رپورٹ جمع کرائی جائے گی اور پھر نیب یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

دوسری جانب نیب حکام جب یہ ساری تحقیقات کر رہے تھے تو انکشاف ہوا کہ پاکستان سٹیٹ آئل کے ڈپٹی ایم ڈی فنانس یعقوب ستار بھی 23 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں اور جب ان کی خصوصیات معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کا تعلق اینگرو گروپ سے رہا ہے اور وہ سابق وزیر پیٹرولیم اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے قابل اعتماد افسر تصور کئے جاتے رہے ہیں۔ جب ایم ڈی پی ایس او کی تقرری کا عمل شروع ہوا تو یعقوب ستار سینئر جی ایم فنانس تھے اور انہوں نے ہی فیڈرل گورنمنٹ کو ایم ڈی کی تنخواہ پرپوز کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کے عوض انہیں خلاف ضابطہ ترقی دے کر ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او تعینات کیا گیا اور ان کی تنخواہ 13 لاکھ روپے سے بڑھا کر 23 لاکھ روپے کر دی گئی۔

یعقوب ستار کو ترقی تو دیدی گئی مگر اس عہدے کیلئے ناصرف انٹرویو لازم تھا بلکہ ٹیسٹ بھی دینا تھا جو پی ایس او کی پالیسی کے عین مطابق تھا مگر ان سے ٹیسٹ لیا گیا اور نہ ہی انٹرویو کیا گیا بلکہ انہیں شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر ترقی دیدی گئی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ کے دوران اس بات پر اعتراض عائد کیا اور یہ آڈٹ پیراز بھی نیب کی ٹیم کو موصول ہو چکے ہیں۔ ڈپٹی ایم ڈی یعقوب ستار کی ماہانہ تنخواہ 23 لاکھ روپے ہے جس میں 15 لاکھ روپے بنیادی تنخواہ، سوا پانچ لاکھ روپے ہاﺅس الاﺅنس، دو لاکھ چھیاسی ہزار روپے جنرل الاﺅنس اور باقی دیگر الاﺅنسز شامل ہیں۔

نیب کی جانب سے یہ رپورٹ مرتب کی جا ری ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد پراسیکیوٹر جنرل نیب دو ستمبر کو اسے سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں گے۔ نیب کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بہت سے افسران جن میں ایس ای سی پی، پی ایل ایل ہے اور او ڈی سی ایل کے چیئرمین بھی شامل ہیں اور دیگر کمپنیوں کے ایم ڈیز کی تنخواہوں پر بہت بڑا کٹ لگنے جا رہا ہے اور جن کی تقرریاں خلاف ضابطہ ہوئی ان سے ناصرف ریکوری ہونے جا رہی ہے بلکہ نیب آرڈیننس سیکشن 9 کے تحت ان کیخلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی 

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد