’گوگل پر جاکر سرچ کرو میرا باپ کون تھا‘ نوجوان لڑکی کے پیچھے پڑے آدمی کے کہنے پر اُس نے سرچ کیا تو پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ اس کے باپ نے۔۔۔

’گوگل پر جاکر سرچ کرو میرا باپ کون تھا‘ نوجوان لڑکی کے پیچھے پڑے آدمی کے ...
’گوگل پر جاکر سرچ کرو میرا باپ کون تھا‘ نوجوان لڑکی کے پیچھے پڑے آدمی کے کہنے پر اُس نے سرچ کیا تو پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ اس کے باپ نے۔۔۔

  

لندن(نیوز ڈیسک)جنسی ہراس جیسے قبیح جرم کے بارے میں ہم ہر روز سنتے ہیں لیکن برطانیہ میں ایک نوعمر لڑکی کو ایک عجیب و غریب جنسی درندے سے واسطہ پڑ گیا۔ یہ بدبخت خود تو اوباش ہے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ وہ اس بات پر بھی فخر کرتا ہے کہ اس کے باپ نے درجن بھر خواتین کی عصمت دری کی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق ڈور سیٹ کے موریسنز سٹور پر کام کرنے والی 17 سالہ لڑکی سے جولیان لیم نامی جنسی بھیڑئیے کی ملاقات پہلی بار کیش کاﺅنٹر پر ہوئی۔ جولیان نے لڑکی کا نام معلوم کرنے کے بعد فیس بک پر اُسے ڈھونڈا اور اظہار محبت کے پیغامات بھیجنے شروع کردئیے۔ کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ ایک موقع پر اس نے لڑکی سے یہ بھی کہا کہ وہ انٹرنیٹ پر اس کے باپ کا نام سرچ کرے، جو برطانوی تاریخ کا معروف جنسی مجرم ہے جس نے درجن بھر خواتین کی عصمت دری کی تھی۔

لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ جولیان لیم نامی شخص کئی ہفتوں سے اُس کے پیچھے پڑا تھا۔ ایک دن وہ کہنے لگا ” انٹرنیٹ پر جان لیم عرف ایم فائیو ریپسٹ کو سرچ کرو۔ یہ شخص میرا باپ ہے۔“ لڑکی نے جب یہ نام سرچ کیا تو یہ دیکھ کر کانپ اُٹھی کہ جان لیم نامی یہ شخص ایک عادی جنسی درندہ تھا جسے 1981 میں 12 خواتین کی عصمت دری کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

بورن مارک کراﺅن کورٹ کو بتایا گیا کہ جولیان ناصرف سوشل میڈیا پر لڑکی کو ہراساں کررہا تھا بلکہ اکثر اوقات اس کا تعاقب بھی کرتا تھا۔ اس کی جانب سے مسلسل قابل اعتراض حرکات اورمیسجز کے باعث لڑکی اتنی پریشان ہوئی کہ اپنی ملازمت بھی چھوڑ دی۔ بالآخر جب اسے جولیان کے باپ کے متعلق علم ہوا تو وہ بے حد خوفزدہ ہو گئی اور فوراً پولیس کے پاس جا پہنچی۔

جولیان لیم کو جب پولیس نے گرفتار کیا تو اس کا کہنا تھا کہ پہلی بار جب لڑکی سے ملاقات ہوئی تو وہ اسے دیکھ کر شرمارہی تھی جسے اس نے اظہار محبت کی علامت سمجھا اور اس کے ساتھ رابطے کی کوشش کرنے لگا۔ اگرچہ پولیس کی جانب سے اُسے وارننگ دی گئی تھی کہ وہ لڑکی سے دور رہے لیکن اس کے باوجود وہ باز نا آیا جس پر اُسے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور اب عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ جاری ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ