لاہور ائیرپورٹ پر 3 آدمیوں کی مشکوک حرکتیں، ایف آئی اے اہلکاروں نے پکڑا تو ایسا انکشاف کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا، کچھ سمگل نہیں کررہے تھے بلکہ پیسے دے کر آدمی کو۔۔۔ ایسی خبر آپ نے کبھی نہ سنی ہوگی

لاہور ائیرپورٹ پر 3 آدمیوں کی مشکوک حرکتیں، ایف آئی اے اہلکاروں نے پکڑا تو ...
لاہور ائیرپورٹ پر 3 آدمیوں کی مشکوک حرکتیں، ایف آئی اے اہلکاروں نے پکڑا تو ایسا انکشاف کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا، کچھ سمگل نہیں کررہے تھے بلکہ پیسے دے کر آدمی کو۔۔۔ ایسی خبر آپ نے کبھی نہ سنی ہوگی

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وطن عزیز پاکستان میں غریبوں کی زندگی ایسی دردناک ہو چکی ہے کہ سوچ کر ہی دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جو بے کس دن رات مشقت کر کے دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے وہ بیمار ہو جائیں تو علاج کیسے کروائیں، اور جوان بیٹیوں کو رخصت کرنے کے لئے لاکھوں روپے کا جہیز کہاں سے لائیں؟ تو ایسے میں یہ کون سی اچنبھے کی بات ہے کہ مجبور لوگ اپنے اعضاءبیچتے پھر رہے ہیں۔

دوسری جانب ان لاچاروں کے اعضاءخریدنے والوں کی تو چاندی ہے۔ ان کا دھندہ صرف پاکستان ہی نہیں کئی ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ظالم کیسے مجبور پاکستانیوں کو بیرون ملک لیجا کر اُن کے جسم سے اعضاءنکالتے ہیں، اور اس کے بعد ان بدنصیبوں کے ساتھ کیا ہوتاہے، آپ اس کا اندازہ صحافی راجہ فیصل کی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ سے بخوبی کر سکتے ہیں۔

ویب سائٹ ”ایکسپریس ٹریبیون“پر شائع ہونے والے اپنے بلاگ میں وہ لکھتے ہیں کہ، 32 سالہ محمد رمضان ائیرپورٹ کی جانب جانے والی پرائیویٹ ٹیکسی کی اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا جبکہ 20 سالہ ضیاءعلی اور 35 سالہ عدنان اختر پیچھے بیٹھے تھے۔ عدنان اور رمضان ضیاءکو سمجھارہے تھے کہ اگر وہ پکڑا جائے تو خاموش رہے اور کسی سوال کا جواب نہ دے۔ خاص طور پر جگر کی پیوندکاری کا بالکل ذکر نہ کرے۔ یہ تینوں بیجنگ جانے والی پرواز میں سوار ہونے والے تھے۔ ڈیپارچر کمپاﺅنڈ میں پہنچے کے بعد وہ قطار میں کھڑے ہوگئے۔

بورڈنگ کاﺅنٹر کے قریب ایف آئی اے کے دو اہلکار کالے شیشے کے پیچھے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ ان تینوں کو بوکھلائے ہوئے دیکھ کر انہیں شک پڑگیا کہ معاملہ مشکوک ہے اور انہوں نے ان سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا۔ چند سوالوں نے ہی ضیاءکو پریشان کردیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

باقی دونوں ایک جھوٹی کہانی سنا رہے تھے اور اس پر بضد تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدنان کے جگر کی پیوندکاری کے لئے چین جارہے ہیں اور یہ کہ ضیاءاس کا فرسٹ کزن ہے اور اسے جگر کا عطیہ دینا چاہتا ہے۔ جب ضیاءکو علیحدہ لیجاکر تفتیش کی گئی تو اس نے روتے ہوئے کہا کہ وہ سب کچھ بتادے گا اگر اسے ذوالفقار سے بچالیا جائے، جس نے اسے کوئی بھی راز فاش کرنے کی صورت میں قتل کرنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔

ضیاءنے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا باپ موچی کا کام کرتا تھالیکن اب سنگین بیماری کے باعث بستر کا ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کی تین بڑی بہنیں غیر شادی شدہ ہیں۔ وہ اپنے باپ کے علاج اور بہنوں کی شادی کے لئے بے حد پریشان تھا۔ جب اُسے اور کوئی راستہ نظر نا آیا تو کسی جاننے والے کے ذریعے ذوالفقار سے رابطہ کر لیا، جو دولتمند مریضوں کے لئے غریب افراد کے اعضاءخریدنے کا کاروبار کرتا تھا۔ ضیاءکو پتا چلا تھا کہ وہ اعضاءکے بدلے بھاری رقم ادا کرتا ہے۔ والد اور بہنوں کے لئے پریشان اس نوجوان نے اپنی جان پر کھیلنے کا فیصلہ کیا اور 2 لاکھ روپے میں اپنا جگر بیچنے کی حامی بھر لی۔

دوسری جانب اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر صالح نے عدنان نامی مریض کو جگر کی پیوندکاری تجویز کی اور چین میں کام کرنے والے ڈاکٹر وقاص سے رابطہ کرنے کو کہا۔ جب عدنان نے ڈاکٹر وقاص سے رابطہ کیا تو اس نے پاکستان میں موجود ذوالفقار نامی شخص کی معلومات دیں اور رابطہ کرنے کو کہا۔ یہ وہی ایجنٹ تھا جو غریب لوگوں کو اعضاءفروخت کرنے کے لئے مائل کرتا تھا، اور دراصل ڈاکٹر صالح، ڈاکٹر وقاص، ذوالفقار، اور اُن کے دیگر ساتھی سب ایک ہی سفاک گینگ کا حصہ تھے۔

ذوالفقار نے عدنان اور ضیاءکے ویزے اور دیگر دستاویزات تیار کروائیں جبکہ سرکاری اداروں میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے عدنان اور ضیاءکے آپس میں رشتے دار ہونے کا جعلی ثبوت بھی تیار کروایا۔ یہ سفاک گینگ ضیاءکا جگر نکالنے کے بعد اسے چین سے ہانگ کانگ منشیات کی سمگلنگ کے لئے بھی استعمال کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے تو یہ سب کام انتہائی مکاری سے مکمل کر دیا تھا، اور بس چند لمحوں کی بات تھی کہ یہ تینوں بیرون ملک روانہ ہو جاتے، مگر ایف آئی اے کے اہلکاروں کی حاضر دماغی نے انہیں پکڑوا دیا۔

دیکھئے یہ ہے وطن عزیز کے مظلوموں کا حال۔ کس طرح مالی پریشانیوں نے اس بدقسمت نوجوان کو اپنا جگر بیچنے جیسے فیصلے پر مجبور کر دیا، اور کس طرح سفاک مجرموں کے گینگ، جن میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں، دولت کی ہوس میں بے بس انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے تھے۔ ایف آئی اے اہلکاروں کی فرض شناسی سے یہ ایک کیس تو پکڑا گیا مگر نجانے اور کتنے ہی بدقسمت ضیاءہوں گے جو باپ کے علاج اور بہنوں کے جہیز کے لئے اپنی زندگیاں بیچ چکے ہوں گے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور