ہانگ کانگ میں فوجی ایکشن کی تیاریاں

ہانگ کانگ میں فوجی ایکشن کی تیاریاں
ہانگ کانگ میں فوجی ایکشن کی تیاریاں

  


ہانگ کانگ میں چینی حکومت کے خلاف عوامی تحریک آگے بڑھتی نظر آرہی ہے گزرے اتوار وکٹوریہ پارک سے شروع ہونے والاعوامی احتجاجی مظاہرہ تاریخی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔صحافتی تجزیہ نگاروں کے مطابق 10 لاکھ سے زائد مظاہرین نے ہانگ کانگ کے گلی کوچوں کو مکمل طور پر بلاک کر کے رکھدیا یہ مارچ 2 میل تک چلتے چلتے ایئرپورٹ تک پہنچا اور پھر ہوائی اڈہ مظاہرین سے بھر گیا اور ہوائی آپریشن مکمل طور پر مفلوج ہو گیا۔ ہانگ کانگ کی بہترین فضائی کمپنی کیتھے پیسیفک کے ملازمین بھی عوامی احتجاج کا حصہ بن چکے ہیں اس طرح لوکل ایڈمنسٹریشن پر دباؤ میں اضافہ ہوا اور انہیں چینی حکومت کی طرف سے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا چینی حکام کے شدید دباؤ اور تنقید کے بعد ایئرلائینز کے چیف ایگزیکٹو ہوگ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

کیتھے پیسیفک ایئر لائینز دنیا کا ایک معروف اور قابل بھروسہ برانڈ ہے مرکزی چینی مملکت میں بھی اسکی سروسز کی بہت طلب ہے اسکی قدر کیجاتی ہے چینی حکام اس بات پر زوردیتے رہے ہیں کہ ہانگ کانگ میں کام کرنے والے بڑے چھوٹے عالمی اور علاقائی برانڈز نہ صرف چین کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کریں بلکہ اسے ثابت بھی کریں وگرنہ ان کو چین میں صارفین کی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یہ تحریک جون میں دو عظیم الشان عوامی مظاہروں سے شروع ہوئی مظاہرین کا خیال ہے کہ چینی حکمران شہر ہانگ کانگ پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں انکی آزادیاں سلب کیجا رہی ہیں انہوں نے تحریک کا انداز ایسا رکھا ہے کہ کوئی بھی اس کا لیڈرنہیں ہے ویسے لیڈر تو ہوگا لیکن کوئی سامنے نہیں آیا اور پھر مظاہرے ویک اینڈز پر ہی ہوتے ہیں یہ تحریک گیارہ ہفتوں سے بڑے منظم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اسمیں ایک طرف مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف پولیس تشدد بھی بڑھ رہا ہے گیارہ ہفتوں کے مظاہروں کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے لگتا نہیں کہ تحریک اور سماجی بد امنی ختم ہو جائے گی۔

یہ مظاہرے آزادی اور جمہوریت کے لئے ہورہے ہیں لوکل حکومت اور چینی حکام کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف عوامی مظاہرے بڑھتے بڑھتے جاندار تحریک کا روپ دھار چکے ہیں بیجنگ حکومت ان مظاہروں کو سیاسی تحریک کے طور پر لے رہی ہے انکے مطابق یہ سب کچھ سیاست ہے جسے کسی طور بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چینی حکام، ریاستی عمل داری کے قیام اور استحکام پر لاریب یقین رکھتے ہیں مغربی جمہوریت اور اس سے وابستہ شخصی آزادیاں چینی طرزِ حکمرانی میں قابل قبول نہیں ہو سکتی ہیں چینی حکام، ریاستی اور حکومتی عملداری کے قیام پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں چین نے ہانگ کانگ میں دو نظام ہائے معاشیات کو برابر اور متوازی چلانے کا تجربہ کیا ہے۔

ہانگ کانگ کی برطانیہ سے چین کو حوالگی کے بعد چین نے اس طرزِ معیشت کا تجربہ کیا یعنی یہاں فری مارکیٹ اکانومی کو بھی رہنے دیا جو پہلے سے یہاں چل رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ چینی نظام معیشت کو بھی فروغ دیا اسطرح اب تک 30 سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ سسٹم کامیابی سے چل رہا تھا لیکن جب چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہوئی تو یہاں بھی بے اطمینانی نے فروغ پانا شروع کیا یا یوں کہئے کہ یہاں بھی بے اطمینانی کو فروغ ملنا شروع ہوا۔ امریکہ 5 - جی کے حوالے سے پہلے ہی چینی مصنوعات / درآمدات پر قدغنیں لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کے جواب میں چین نے بھی امریکی درآمدی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے شروع کئے اسطرح چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاملات میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہوا ہے ہواوے کے ساتھ امریکہ نے جو کچھ کیا اور چینی 5 - G کو یورپ میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ سب کچھ امریکہ کی چین دشمن پالیسی کا شاخسانہ ہے۔ معاملات میں بگاڑ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

جولائی میں چینی سیکیورٹی اہلکاروں نے ایئر لائنز کے ایک پائلٹ کو مظاہرین کا ساتھی ہونے اور ہنگامہ آرائی کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا۔ گرفتاری کے اگلے روز ائیر لائینز کے چیئرمین جان سلوسر نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ کمپنی کے ملازمین کے سیاسی افکار و خیالات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ملازمین کے سیاسی خیالات سے کمپنی کو کوئی تکلیف بھی نہیں ہے۔" چئیرمین نے کہا کہ ہم انہیں یہ تو نہیں بتا سکتے کہ وہ کیا سوچیں اور کسطرح سوچیں۔ وہ تمام بالغ ہیں۔ پیشہ ور ماہرین ہیں۔ اپنا برا بھلا سمجھتے ہیں ہم ان سب کا بہت احترام کرتے ہیں " کمپنی کے چئیرمین نے کہا کہ ہم اس الزام کی ضرور تحقیقات کریں گے کہ ہمارے کسی اہلکار/ ملازم نے ہانگ کانگ کی فٹ بال ٹیم کی سفری معلومات کو پولیس تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو چاہئے کہ وہ ایسی پارٹیوں میں شرکت نہ کریں جن کے حوالے سے پولیس نے کلئیرنس نہیں دی ہوتی۔ چین کی بڑی بڑی سرکاری کمپنیوں نے بھی کیتھے پر اپنے اپنے انداز میں پریشر ڈالنا شروع کر دیا ہے تا کہ وہ اپنے ملازمین کو مظاہروں میں حصہ لینے سے روکے کمپنی کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے اس کے ریونیو میں بھی کمی واقع ہونا شروع ہو گئی ہے۔چینی حکام ایسے معاملات میں کسی قسم کی نرمی دکھانے کے قائل نہیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چینی حکام نے ان ہنگاموں کو " آہنی ہاتھوں " سے نمٹنے اور کچلنے کا ایسے ہی فیصلہ کر لیا ہے جیسے 1989 میں تیانامن سکوائر میں جمہوریت پسند طلبہ کی تحریک کو کچلا تھا 1989 کی اس تحریک میں فیکٹری ورکر ریاستی میڈیا،بیجنگ پولیس، ہائی سکول اور یونیورسٹی سٹودنٹس، پروفیسرز، آرٹسٹ اور بزرگ سب کسی نہ کسی طور شامل تھے۔ وردیوں میں ملبوس طلبہ نے تیانا من سکوائر میں نظم و ضبط قائم رکھنے کا بھرپور بندوبست کر رکھا تھا پانی اور کھانے پینے کی اشیاء بھی موجود تھیں۔ پروفیسرز اور دانشور طلبہ کو تاریخی حوالوں سے رہنمائی بھی بہم پہنچا رہے تھے اور انہیں نظم و ضبط قائم رکھنے کی تلقین بھی کر رہے تھے چین میں کیونکہ عوامی نمائندگی کا کوئی انتظام نہیں ہے اسلئے وہاں کے تمام سرکاری اور عوامی معاملات کمیونسٹ پارٹی کے لوگ ہی سرانجام دیتے ہیں 3 جون 1989 کی رات چینی فوج نے چوک کو گھیرے میں لیا اور صبح کے وقت فوجی ایکشن ہو گیا ٹینکوں کا ایسے استعمال ہوا جیسے میدان جنگ میں دشمنوں کا خاتمہ کرنا مقصود تھا طلبہ کی تحریک بری طرح کچل کر رکھدی گئی۔

ریاست نے اپنی منشا ء اور مرضی نافذ کر کے دکھائی۔ہانگ کانگ بیجنگ نہیں ہے ہانگ کانگ تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یہاں برطانیہ نے آزاد معیشت اور جمہوریت کو فروغ دیا ہے یہاں خوشحالی اور ترقی برطانوی نظام حکمرانی کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اب یہاں چین کی عمل داری ہے جس کا نظام حکمرانی آزادیوں کا خوگر نہیں ہے ریاست ارفع و اعلیٰ ہے ہانگ کانگ کے باشندوں کی حالیہ تحریک کو چینی ریاستی میڈیا" غیر ملکی اور ففتھ کالمنسٹ کی کارستانی " قرار دے رہاہے امریکہ چین کی جاری تجارتی جنگ کے پس منظر میں اسے " غداروں کی مہم" سمجھا جا رہا ہے اور اسی تناظر میں اسے کچلنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ ہانگ کانگ کو بھی تیانا من سکوائر بنانے کی پلاننگ ہو چکی ہے اللہ خیر کرے۔

مزید : رائے /کالم


loading...