جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع
جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع

  


وزیر اعظم عمران خان کے پاس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں تین سال کی توسیع وزیر اعظم کا آئینی اختیار تھا جو انہوں نے استعمال کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توسیع کا فیصلہ کیوں کیا گیا، اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ اس طرح کے بڑے فیصلوں کے پس منظر میں کئی حقائق ہوتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس وقت وطن عزیز بحرانی کیفیات کا ہی شکار نہیں، حالت جنگ میں بھی ہے۔ آئے دن بھارت لائن آف کنٹرول پر پر امن اور نہتے شہریوں پر گولے برسا رہا ہے جو مودی کے جنگی جنون کا مظہر ہے۔ اس وقت ملک کو سخت سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور ایسے میں حکومت اور فوج کا ایک پیج پر ہونا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مشترکہ دورہئ امریکہ بھی اسی حوالے سے تھا جو خاصا کامیاب رہا اور اس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے عمران خان اورمودی سے فون پر بات چیت کی اور صدر ٹرمپ نے مودی سے خاص طور پر پاک بھارت کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ کا اس طرح براہ راست مودی سے مطالبہ کرنا عالمی مبصرین کے مطابق اہمیت کا حامل ہے اور مودی کو اس پر سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا جو پاکستان کے لئے خوش آئند ہے۔ مودی کسی بھی طور پر صدر ٹرمپ کی بات کو یکسر نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ امریکہ کے اس دورے کے دوران پینٹاگون میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو 21توپوں کی سلامی دی گئی جو اس بات کی مظہر ہے کہ امریکہ انہیں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

عمران حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں قمر جاوید باجوہ جیسی زیرک فوجی قیادت میسر آئی۔ اگلے دن ایک ٹی وی چینل پر ایک سابق جنرل آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ توسیع ایک احسن اقدام ہے، ان حالات میں اگر فوجی قیادت میں تبدیلی لائی جاتی، تو نئے آنے والے فوجی قائد کو ملکی حالات سمجھنے کے لئے کم از کم دو سے تین ماہ کا عرصہ لگ سکتا تھا، جس کے ہم اس مرحلے پر متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ بحرانی اور جنگ کے خطرے کی موجودگی میں ایسا کرنے سے ہمارا دشمن فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ انہی کالموں میں ہم نے بعض ٹھوس حوالہ جات دیتے ہوئے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع ملکی حالات کے پیش نظر بہت ضروری ہے۔ 3 جولائی 2019ء کو موقر عزیز روزنامہ ”پاکستان“کے اپنے کالم میں میں نے کہا تھا یہ ”ملک کو درپیش تشویشناک مسائل کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئے سالانہ بجٹ میں فوج کے لئے کوئی اضافہ نہیں کیا جس کا خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی اعتراف اور تعریف کی ہے۔

چند روز قبل نیشنل ڈیفنس کالج میں ملک کی بحرانی معاشی صورت حال کے پیش نظر آرمی چیف نے واضح طور پر کہا کہ ملک کی بحرانی معاشی صورت حال اور پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی مسائل کے پیش نظر عوامی نمائندوں سمیت ہر ایک کو حکومت کے مشکل فیصلوں میں اس کا ساتھ دینا چاہیے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک محب وطن سپاہی ہیں۔ یہاں اس بات کا اظہار کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں کہ پاک فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ جہاں ایک طرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں، وہاں وہ جمہوری اداروں کے استحکام اورملک وقوم کی فلاح بہبود کے لئے بھی سنجیدہ ہیں …… وہ وطن عزیز کے لئے کی جانے والی ہر اس کوشش کے ساتھ مخلص ہیں جو پاکستان، پاکستانی قوم، جمہوریت اور ملکی استحکام کے لیے کی جائے جو اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے جو وقت کا اہم ترین تقاضا اور ملک وقوم کے مفاد میں ہے“ …… اب ہم بلا خوف تردید یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ عمران خان حکومت کا یہ اقدام بروقت اور دانشمندانہ ہے اور آرمی چیف کی مزید تین سال کی توسیع سے غیر یقینی کی فضا ختم ہوگئی ہے جو بہر طور ملکی اور قومی مفاد میں ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...