ہم آہنگی کا تسلسل

ہم آہنگی کا تسلسل
ہم آہنگی کا تسلسل

  


مثال موجود ہو تو اسے دہرایا بھی جا سکتا ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال کی توسیع دی گئی تھی تو اس قسم کی باتیں کی گئی تھیں جیسے آج جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع ملنے پر کی جا رہی ہیں، خود وزیراعظم عمران خان کے اس انٹرویو کا وڈیوکلپ دھڑا دھڑ شیئر کیا جا رہا ہے جو انہوں نے 2013ء میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیع کے بعد دیا تھا اور کہا تھا کہ کوئی شخص بھی ناگزیر نہیں ہونا چاہیے جنگ ہی کیوں نہ لڑی جا رہی ہو، کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے۔ اب اسے کپتان کا ایک اور یوٹرن قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ اقتدار سے باہر انسان کی کیفیت اور مجبوریاں کچھ اور ہوتی ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد منظر نامہ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ اقتدار سے پہلے عمران خان آئی ایم ایف کے پاس جانے کو بھی زہر قاتل سمجھتے تھے، مگر اقتدار میں آکر انہیں جانا پڑا۔ اب انہوں نے اپنے خیالات کے برعکس اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دے دی ہے تو اسے حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

عمومی طور پر یہ ایک اچھا فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس وقت ہمارے حالات بہت پیچیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے حالات جن کے حوالے سے پیش گوئی بھی نہیں کی جا سکتی۔ کچھ پتہ نہیں کہ افغانستان میں کیا ہو اور یہ بھی علم نہیں کہ بھارت نریندر مودی کے جنون کا شکار ہو کر کیا کر بیٹھے۔ کشمیر پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ جمانے کی جو نئی کوشش کی ہے، اسے دنیا بھر میں کہیں سے پذیرائی نہیں ملی، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی بھارت کی کوشش پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا ہے کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے، جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے۔ کشمیر میں کرفیو لگا کر فوج کے ذریعے کشمیریوں کو محبوس کرکے آخر کب تک نریندر مودی اپنے قبضے کو برقرار رکھ سکتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آرمی چیف نے جب ریٹائر ہونا ہو تو تقریباً تین ماہ پہلے اس کے الوداعی دورے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ آرمی کی ایک دیرینہ روایت ہے، جسے برقرار رکھا گیا ہے۔ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع نہ ملتی تو اب انہوں نے اس روایت کے مطابق الوداعی ملاقاتیں اور دورے شروع کرنے تھے۔ ظاہر ہے اتنے اہم موقع پر جب ہر روز یوں لگتا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر مظالم سے توجہ ہٹانے کے لئے حملہ کر دے گا۔ فوج میں کمانڈ کی تبدیلی اس یکسوئی کو متاثر کر سکتی تھی جو ان حالات میں ضروری ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نومبر2019ء میں ریٹائر ہونا تھا۔ اب وہ 2022ء میں ریٹائر ہوں گے۔ گویا پاک فوج کی چیف آف کمانڈ بغیر کسی تبدیلی کے اپنا کام کرتی رہے گی جو خطے کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے ایک مثبت عمل ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ افغان مسئلے کو حل کرانے کی کوششوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ افغان مسئلے کے تینوں بڑے فریق امریکہ، افغان حکومت اور طالبان ان کی سوچ اور فکر سے آگاہ ہیں۔ پھر اپنی تین سالہ مدت کے دوران انہوں نے افغان بارڈر سے دراندازی اور پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کے حملوں کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا فیصلہ بھی انہوں نے کیا اور شمالی و جنوبی وزیرستان سے دہشت گردی کے سب ٹھکانے بھی ختم کئے۔ آج اگر امریکہ، افغان حکومت اور طالبان مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں تو اس کے پیچھے جنرل قمر جاوید باجوہ کا ہاتھ اس طرح ہے کہ انہوں نے پاکستان میں اچھے یا بُرے طالبان کو خاطر میں لائے بغیر ان کے ٹھکانوں کا صفایا کر دیا۔ وہ جو ایک غیر علانیہ وار پاکستانی قبائلی علاقوں میں بیٹھ کر لڑی جا رہی تھی، ختم ہو گئی جس کے باعث افغانستان کے پُرامن حل کے لئے حالات سازگار ہوئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ غالباً پہلے آرمی چیف ہیں، جن کے ساتھ باجوہ ڈاکٹرائن بھی متعارف ہوئی۔ اس ڈاکٹرائن کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ملک میں طاقت کے استعمال کی اجازت صرف ریاستی اداروں کو ہے۔ کوئی گروہ، جماعت یا علاقہ اپنے اسلحہ کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال میں نہیں لا سکتا۔ اس ڈاکٹرائن کا دوسرا ہدف ریاستی رٹ کو قائم کرنا تھا۔ یہ ہدف ہر دور میں رکھا تو گیا، مگر مختلف مصلحتوں اور نظریہ ہائے ضرورت کی وجہ سے حاصل نہیں کیا جا سکا۔ تاہم جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ ہدف قبائلی علاقوں میں بھی حاصل کیا اور کراچی میں بھی۔ اسی باجوہ ڈاکٹرائن میں احتساب کی مکمل حمایت کا نقطہ بھی شامل رہا۔ فوج کے مختلف اداروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی کی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی بنیاد پر وائٹ کالر کرائمز کو قابلِ گرفت بنایا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوج نے واضح طور پر خود کو سیاست سے علیحدہ کر لیا۔ جب کبھی فوج کو کسی واقعہ کی وجہ سے سیاست میں گھسیٹا گیا تو فوج کے ترجمان نے وضاحت بھی کی اور درخواست بھی کہ فوج کو سیاست میں نہ لایا جائے جو کام سیاستدانوں نے کرنے ہیں، وہ خود کریں،مگر الزامات لگانے والے کپ چُوکتے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس وقت ملک میں فوج کی حکومت ہے۔ غیر علانیہ مارشل لاء ہے اور وزیراعظم عمران خان صرف اس مارشل لائی حکمرانی کا سول چہرہ ہیں۔ عمران خان جیسے ایک دبنگ حکمران کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ فوج کی ڈکٹیشن پر چل رہے ہیں ایک روائتی الزام تو ہو سکتا ہے، لیکن آج تک اسے کسی ٹھوس حوالے سے ثابت نہیں کیا گیا۔

ہاں اس بات کو بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ پچھلے ایک برس کے دوران وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید کے درمیان مثالی انڈرسٹیڈنگ رہی۔ میرا خیال ہے جتنی ملاقاتیں ان دونوں شخصیات نے ایک سال کے عرصے میں کیں، ماضی میں وزیراعظم اور آرمی چیف کی کبھی اتنی ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ اس بات کو سراہا جانا چاہیے کہ ملکی حالات کے حوالے سے دونوں بڑوں کے درمیان کوئی دوری نہیں اور ایک دوسرے کی مشاورت سے قدم اٹھا رہے ہیں، مگر اس کی بجائے یہ تاثر دیا گیا کہ فوج وزیراعظم پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ ایک کٹھ پتلی وزیراعظم کے طور پر کام کررہے ہیں۔ سلیکٹڈ وزیراعظم تو انہیں ہر روز کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فوج نے وزیراعظم عمران خان کو سلیکٹ کرکے وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر بٹھایا ہے۔ اب جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع ملازمت کے بعد بات کسی اور طرف چلی گئی ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ جنرل باجوہ کو توسیع دے کر درحقیقت اس احسان کا بدلہ چکایا گیا ہے جو عام انتخابات میں انہیں کامیابی دلا کر کیا گیا تھا۔ ایک بقراطی یہ بھی سننے کو مل رہی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دے کر وزیراعظم نے کم از کم اگلے تین برسوں کے لئے تو اپنی کرسی مضبوط کر لی ہے۔

ایسے سب قیافے، تجزیئے اور الزامات ان زمینی حقیقتوں کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں، جو اس وقت سب کو نظر آ رہی ہیں، مثلاً یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سے افغان مسئلے پر مدد کے خواہاں ہیں اور وزیراعظم عمران خان کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اب سول و ملٹری تنازعہ یا تفریق موجود نہیں۔ جو حکومت کا موقف ہے وہی فوج کا ہے، سب سے اہم بات مثالی ہم آہنگی کی وہ فضا ہے، جس نے عوام کو حوصلہ اور اطمینان دیا ہے کہ ملک کی باگ ڈور اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ماضی کے برعکس حکومت کی جانب سے ایسا کوئی تاثر سامنے نہیں آ رہا جو اس امر کی چغلی کھاتا ہو کہ فوج اسے کام نہیں کرنے دے رہی۔ حالت یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر وزیر خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر اکٹھے پریس کانفرنس کرتے ہیں اور یکساں موقف دیتے ہیں۔ سو یہ ہیں وہ حالات جن میں وزیراعظم عمران خان نے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید ایک ٹینور کے لئے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا ہے۔ اب یہ فیصلہ تو ہو گیا ہے، توقع کرنی چاہیے کہ یہ فیصلہ ملک و قوم کے مفاد میں ثابت ہو، خاص طور پر کشمیر کے مسئلے پر جو آگ بھڑک اٹھی ہے، اسے ٹھنڈا کرنے اور کشمیریوں کو آزادی دلانے کے ضمن میں سول و عسکری قیادت باہم مل کر ایسے فیصلے کرے جو ہمیں تاریخ اور عالم انسانی میں سرخرو کر دیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...