جنرل باجوہ کی دوبارہ تقرری!

جنرل باجوہ کی دوبارہ تقرری!
جنرل باجوہ کی دوبارہ تقرری!

  


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو از سرِ نو مزید تین سال کے لئے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا گیا ہے۔ اب وہ اواخر نومبر 2022ء میں ریٹائر ہوں گے۔ وزیراعظم کے دستخطوں سے جو مختصر نوٹی فیکشن جاری ہوا ہے۔ وہ یہ ہے:

General Qamar Javed Bajwa is appointed as Chief of Army Staff for an other term of three years from the date of completion of tenure. The decision has been taken in view of the regional security enviroment.

بعض اخبارات (مثلاً ”دی ایکسپریس ٹریبون“ نے آج کے شمارے میں جو شہ سرخی لگائی ہے وہ یہ ہے:

General Qamar gets extension

Appiontmentاور Extension میں جو فرق ہے وہ مجوزہ ملکی قوانین و ضوابط کی رو سے یہ ہے کہ سروسز میں کسی بھی رینک میں ریٹائرمنٹ کی حد کے ساتھ آفیسر کی عمر کی بھی ایک حد مقرر ہے۔ اگر عمر اس حد سے تجاوز کر جائے تو اس کے لئے الگ سے قوانین کو ترمیم / تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ حکومت ان قوانین کو تبدیل نہیں کرنا چاہتی ہو گی اس لئے توسیع کی بجائے تقرری کا لفظ استعمال کیا گیا۔ یہ خالصتاً ایک آئینی اور قانونی تقاضا تھا جس کے لئے ایسا کیا گیا۔ ہو سکتا ہے میں غلطی پر ہوں۔ لیکن میرے خیال میں آرمی کی شرائط ملازمت میں کہیں یہ بھی درج ہے کہ دوبارہ Appointment میں آفیسر کی سالانہ ترقی (Annual Increment) اس کے گریڈ کی آخری حد تک پہنچنے کے بعد رک جاتی ہے اور وہ دوسرے Tenure میں وہی ماہانہ مشاہرہ پاتا رہتا ہے جو اس کے گریڈ کی آخری حد ہوتی ہے۔ مزید یہ بھی ہے کہ اس کی پنشن اور کمیوٹیشن کی ادائیگی بھی اس وقت تک رکی رہتی ہے کہ جب تک وہ دوسری ٹرم میں ریٹائر نہیں ہو جاتا۔ میرا خیال ہے کہ جنرل باجوہ کے کیس میں ان کی حتمی پنشن اور کیموٹیشن 29نومبر 2022ء کے بعد جاری ہو گی۔

اس مختصر سے نوٹی فیکشن کا دوسرا فقرہ وہ ہے جس میں اس دوبارہ تقرری کی وجہ بیان کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ علاقائی سلامتی کے ماحول کے پیش نظر ان کو مزید تین سال کے لئے آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر میڈیا میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے اور آئندہ بھی غالباً کچھ روز تک کہا جاتا رہے گا۔ ایک طویل مدت کے بعد آرمی چیف (یعنی آرمی) اور سویلین حکومت ایک صفحے پر آئی ہے۔عمران خان کی حکومت اب اس نادر ملاپ کو ضائع نہیں کرنا چاہتی۔

گزشتہ ادوار میں جو دو وراثتی خاندان برسراقتدار رہے ان کے رہنماؤں نے کبھی یہ تاثر نہ دیا کہ وہ فوج کے ساتھ شیر و شکر ہیں۔آصف علی زرداری کا ”اینٹ سے اینٹ بجا دینے“ کا دعویٰ کس نے نہیں سنا؟ اور یہ بڑ جس طمطراق سے ہانکی گئی تھی کہ ”آپ تو تین سال کے لئے آتے ہیں اور پھر ریٹائرمنٹ کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں جبکہ ہم سیاستدان ہمیشہ کے لئے تختِ اقتدار پر براجمان رہتے ہیں“ اس کا کروّفر بھی ابھی تک عوام و خواص کو یاد ہے۔ آج موصوف جیل میں ہیں، اے کلاس کی درخواست جن لوگوں سے کر رہے ہیں، ان میں وہ شخصیات بھی شامل ہیں جو ”اینٹ سے اینٹ“ بجانے والے محاورے کی تکمیل یا عدم تکمیل پر قادر ہیں۔ زرداری صاحب کا یہ ادّعا کہ وہ ہمیشہ کے لئے مسندِ اقتدار کے امیدوار رہیں گے آج ان کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔ ممکن ہے وہ ہمیشہ اقدار سے باہر اور جیل کے اندر رہیں!…… فاعتبرو یا اولاابصار!!

وراثتی خاندان کے ایک اور رہنما نوازشریف صاحب تھے جن کو سپریم کورٹ نے سبکدوش کیا تو ایک مدت تک یہی پوچھتے رہے کہ ”مجھے کیوں نکالا؟“…… آج اسی سوال کے جواب میں اپنے خاندان کے بیشتر اقربا کے ساتھ حوالہ ء زنداں ہیں …… ہمیں ان دونوں شخصیات کے انجام سے سبق اندوز ہونا چاہیے۔

میں یہ سطور ان کی ذات کے خلاف نہیں لکھ رہا بلکہ ان کے اس غرور، تکبّر اور گھمنڈ کے خلاف لکھ رہا ہوں جس کی تادیب قرآنِ حکیم میں بار بار آئی ہے۔ موجودہ پی ٹی آئی حکمران بھی اگر اسی ڈگر پر گامزن ہوئے جو ان کے پیش رو حکمرانوں کی ڈگر تھی تو ان کا انجام بھی وہی ہو گا جو دونوں وراثتی خاندانوں کے بانیوں اور ان کے عزیز و اقارب کا ہوا ہے۔

جنرل باجوہ کے اس دوسرے تقرر پر اپوزیشن رہنماؤں نے بظاہر چپ سی سادھ لی ہے۔ میڈیا کے وہ چینل جو گزشتہ کئی سالوں سے بالعموم اور ایک سال سے بالخصوص (18اگست 2018ء سے 18اگست 2019ء تک) اپنے سابق مربیّوں کی تجوریوں پر چل رہے تھے، وہ بھی خاموش ہیں۔ ”ریجنل سیکیورٹی“ کا معاملہ اس قدر ملک گیر اور گھمبیر ہے کہ تمام اپوزیشن عقاب، منقار زیرِ پَر ہو گئے ہیں لیکن امید کی جاتی ہے کہ ان کی خاموشی جلد ٹوٹ جائے گی…… وہ اپنے سابق اَن داتاؤں کو کیسے بھول سکتے ہیں؟

یہ میڈیا ہاؤسز بجائے اس کے علاقائی صورت حال کی گھمبیرتا کو موضوعِ تبصرہ بناتے، یہ بتا اور شائع کررہے ہیں کہ عمران خان نے گزشتہ الیکشنوں کے دوران آرمی چیفس کو توسیع دینے کی سخت مخالفت کی تھی اور اب وہ حسبِ معمول اس معاملے میں بھی یوٹرن لے چکے ہیں۔ یعنی ان کے ہاں اقبال کا یہ مصرع قبولِ عام پا چکا ہے:

تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا

عمران خان سے البتہ ایک فاحش غلطی (بلنڈر) یہ ضرور سرزد ہوئی ہے کہ انہوں نے انڈیا کے حالیہ الیکشنوں میں مودی کی جیت پر جو تبصرہ کیا تھا اور جو امیدیں لگائی تھیں کہ اب ان کے بھاری مینڈیٹ کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا تو مسئلہ تو جلد حل ہو گیا لیکن عمران خان کی امیدیں، مایوسیوں اور نومیدیوں میں بدل گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت نے جو حالیہ اقدامات اٹھائے وہ اپنی نیچر میں ”شدید“ تھے اور اسی لئے عمران خان کی مایوسی اور ان کا ردعمل بھی ”شدید“ تھا۔ ان کی اسمبلی اجلاس والی تقریر کو یاد کیجئے جس میں انہوں نے ”نیوکلیئر بلیک میل“ کے بعد ضمیرِ عالم سے ”اپیل“ کی تھی کہ وہ مسئلے کی سنگینی کا نوٹس لے۔ لیکن ہندوستان کا پرنالہ ابھی تک وہیں کا وہیں ہے۔

پاکستان کی دوسری (مغربی) سرحد پر افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان دونوں اطراف سے گویا محصور ہو چکا ہے اور اس ”حصار“ کا غالب ترین بوجھ پاکستان آرمی پر ہے۔ انڈیا اور اس کے مربی (امریکہ) نے ثالثی کی پیشکش کرکے پاکستان کو ایک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم کو اپنے تنہا ہونے کا شدت سے احساس ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کی مین سٹریم اگرچہ پسِ دیوارِ زنداں چلی گئی ہے لیکن باہر بیٹھے ہوئے اس کے فیض یاب طبقے (Benificiaries)امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک سال تو گزر گیا، عمران خان کے باقی چار سال بھی ایسے ہی گزر جائیں اور اس کے بعد ایک بار پھر ”بہاریں“ لوٹ آئیں گی…… ایک سردار جی کو تین سال کی قید ہو گئی۔ اس کی ماں روتے روتے بے حال ہو گئی تو سردار جی بولے: ”ماں! تو جھلّی ہو رہی ہے……اس سال جیل جا رہا ہوں …… بیچ میں ایک سال ہی تو ہے اور اس سے اگلے سال واپس آ جاؤں گا!…… اتنی سی بات پر کیا رونا؟“

عمران خان کو داخلی دلدل ہی سے نجات نہیں مل رہی تھی کہ اب مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کے یہ خارجی گرداب بھی ان کو گھیرنے لگے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک عزیز ترین ساتھی اسد عمر کو جس طرح سبکدوش کیا اور اس کے بعد اندرونی نظم و نسق چلانے کے لئے بار بار مختلف اشخاص کا جو ٹرائل سسٹم جاری ہے وہ ہمارے سامنے ہے…… وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع (فوج) اور وزارتِ خزانہ چار ایسی وزارتیں ہیں جو گویا کسی بھی حکومت کے چار ستون ہوتے ہیں۔ بریگیڈیئر اعجاز، شاہ محمود، جنرل باجوہ اور حفیظ شیخ کی چار رکنی ٹیم کے کاندھوں پر آج شدید دباؤ ہے۔ وزیراعظم ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنے سے دور کرنا نہیں چاہتے۔جنرل باجوہ کا تجربہ اور پروفیشنل علم و فن نہ صرف انڈیا اور افغانستان کے عسکری پیش منظر کو بڑی اچھی طرح جانتا ہے بلکہ ان کو پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان کی جوہری دہلیز تک پہنچنے کی ٹائمنگ کا بھی بخوبی ادراک ہے۔

ماضی میں وہ نہ صرف چین، روس، ایران، افغانستان، امریکہ، سعودی عرب، امارات، برطانیہ، بلجیم (ناٹو ہیڈکوارٹر) کے دورے کر چکے ہیں بلکہ ان ممالک کی پولیٹکل اور ملٹری لیڈرشپ کے ساتھ بھی ان کے مراسم ہمہ پہلو ہیں۔ وزیراعظم اس لئے جنرل باجوہ کو Replace کرنا نہیں چاہتے تھے۔ رہی یہ بات کہ ایک ڈیڑھ سال کی توسیع بھی دی جا سکتی تھی اور جنرل کیانی کی طرح اکٹھے تین سال کا عرصہ (Tenure) بہت سے پاکستانیوں اور غیر پاکستانیوں کو کھٹکے گا۔ لیکن علاقائی اور بین الاقوامی حالات جس نہج پر جا رہے ہیں وہ آئندہ تین چار سال تک شائد ایسے ہی رہیں۔ چنانچہ پاکستان کو دفاعی محاذ پر آج ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہے جو چومکھی لڑ سکے اور جنرل باجوہ ایک ایسی ہی شخصیت ہیں …… ہمارے خیال میں ان کی باردگر یہ تقرری اس تناظر میں پاکستان کے لئے ضروری تھی۔

مزید : رائے /کالم


loading...