اک پھل موتیے دا مار کے جگا سونیے

اک پھل موتیے دا مار کے جگا سونیے
 اک پھل موتیے دا مار کے جگا سونیے

  


ہمارے سکول میں ایک طالب علم ارشد میتلا کمال کا گلوکار تھا۔ وہ غلام علی کی گائی ہوئی پنجابی غزل ’مرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں‘ گنگناتا تو ایک سماں باندھ دیا کرتا تھا۔ ہر بڑے فنکشن میں سکول کی انتظامیہ بطور خاص اسے سٹیج پر بلاکر مائیک پر کھڑا کردیا کرتی تھی اور اس سے گیت اور غزلیں سن کر کیا سٹیج پر بیٹھے اساتذہ کیا سامنے گراؤنڈ میں بیٹھے ہم طلباء، سب بہت محظوظ ہوا کرتے تھے۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ اس کے ساتھ کوئی ہارمونیم کوئی طبلہ نواز نہ ہوا کرتے تھے، اپنی ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ سانولے رنگ کا ارشد میتلا مائیک کے سامنے کھڑا ہوکر گنگنانا شروع کرتا تو لوگ اس کی آواز کے سحر میں ڈوب جاتے اور ایک ایک لے اور ایک ایک سُر کا مزا لیا کرتے تھے۔ ارشد میتلا کے سامعین کی غالب رائے تھی کہ ایک دن وہ کسی ریڈیو یا ٹی وی پر بیٹھا پروفیشنل سنگر کے طور پر گاتا نظر آئے گا۔

والد صاحب ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر تھے، جب کبھی کسی کام کی غرض سے ان کے پاس جاتے تو اسٹیشن پر گڈز آفس کے سامنے پڑے میز کے گرد ہجوم لگا ہوتا اور درمیان میں وریام نام کا درجہ چہارم کا ایک ملازم میز بجا کر منصور ملنگی کا مشہور زمانہ گیت اک پھل موتیے دار مار کے جگا سونیے گنگنا رہا ہوتا تھا۔

اس کی آواز میں اس قدر لوچ اور رچاؤ ہوتا تھا کہ راہ چلتے مسافر بھی رک کر حِظ اٹھایا کرتے تھے۔ وریام نے گانا بجانا باقاعدہ سیکھا تھا، نہ صرف یہ کہ وہ سامنے پڑے میز پر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے کمال کا طبلہ بجالیا کرتا تھا،بلکہ اس نے گھر میں ایک ہارمونیم بھی رکھا ہوا تھا۔اس کی رنگت سرخی مائل تھی اور جب وہ پورے گلے کا زور لگا کر آواز لگاتا تو اس کی گردن اور زیادہ سرخ ہوجاتی اور جس میں سے موٹی موٹی رگیں ہوا بھرجانے اور زور لگنے کی وجہ سے پھول کر باہر نکل آتی تھیں اور اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہوتا تھا۔

پورے اسٹیشن کے ملازمین کا خیال تھا وریام ایک دن منصور ملنگی بن جائے گا،بلکہ اسی نسبت سے اکثر اس کے دوست اسے ملنگی کے نام سے ہی پکارا کرتے تھے۔

اسٹیشن پر ہی ایک نان ٹکی بیچنے والا ہوا کرتا تھا۔ اصل نام یاد نہیں شائد غلام حسین تھا۔ وہ مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں کو گنگناتا تو یوں لگتا جیسے خود مہدی حسن کو سن رہے ہیں، خاص طور پر اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا تو کمال کا گاتا تھا۔

ہم جس جگہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے اس کے قریب ہی وہ آلو کی ٹکیاں بناتا تھا اور سب لڑکے کھیل ختم کرتے تو اس کے گرد اکٹھے ہو جاتے اور اپنی اپنی فرمائش کے گانے سنا کرتے تھے۔

وہ سب کمال کے گائیک تھے لیکن شوقیہ فنکار تھے۔ اس کے باوجود کہ قدرت نے انہیں بہترن گلے دیئے تھے، مگر گلوکاری ان کا پیشہ نہ تھا۔

کبھی لوگ سمجھتے تھے کہ وہ بہت نام کمائیں گے، مگر آج ان سے بڑا گمنام کوئی نہیں ہے۔ وہ آوازیں ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو چکی ہیں اور وہ لوگ اپنے کمالوں سمیت گمشدہ ہو چکے ہیں۔ میاں محمد بخش کے بقول باجھ جنھاں دے پل نئیں سی لنگدا اوہ شکلاں یاد نہ رہئیاں والی صورت ہے!

ادھر کرکٹ کے میدان میں ایک طیب ہوا کرتا تھا جو کمال کا بیٹسمین تھا، غالباً ڈویژن کی سطح تک کھیلا ہوگا۔ اس کے بارے میں مانا جاتا تھا کہ ایک دن پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں پہنچے گا۔ایک اور طارق ہوا کرتا تھا، جس کے چھکے بہت مشہور ہوا کرتے تھے، اپنے چھکوں کی وجہ سے وہ ایسے ہی مشہور تھا جیسے شاہد آفریدی ہوا کرتا تھا، مگر طیب اور طارق بھی بعد میں زمانے کی تیز رفتاری میں گم ہو گئے۔ کبھی ان کے نام سنے نہ ان کی شکلیں دیکھیں!

وہ سب بڑے ٹیلنٹ والے لوگ تھے مگر ان کے مقدر اتنے بڑے نہ تھے۔ تب ہماری چھوٹی چھوٹی سوچیں انہیں بہت بڑے بڑے کلاکار اور کھلاڑی سمجھتی تھیں اور ان کے سامنے ہمیں اپنا آپ بہت چھوٹا دکھائی دیتا تھا، مگر ایک وقت میں جو مہان نظر آتے تھے وہ وقت گزرگیا تو ان کے پورے نام بھی یاد نہیں آرہے ہیں۔ آج ان کی یاد آئی تو حضرت علی ؑ کا قول یاد آیا کہ رب سے جب مانگو مقدر مانگو، میں نے بڑے بڑے علم والوں کو مقدر والوں کا پانی بھرتے دیکھا ہے!

مزید : رائے /کالم


loading...