جج ارشد ملک نے ایف آئی اے کو تحریری جواب دے دیا ، کیا تسلیم کر لیا ؟ جانئے

جج ارشد ملک نے ایف آئی اے کو تحریری جواب دے دیا ، کیا تسلیم کر لیا ؟ جانئے
جج ارشد ملک نے ایف آئی اے کو تحریری جواب دے دیا ، کیا تسلیم کر لیا ؟ جانئے

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے کہ انہوں نے اس سال جون کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب میں حسین نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔

نجی اخبار جنگ نیوز میں صحافی ”زاہد گشکوری“ کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم کو جمع کرائے گئے اپنے تحریری جواب میں جج ارشد ملک نے تصدیق کی کہ انہوں نے اوبرائے ہوٹل، مدینہ منورہ میں حسین نواز شریف سے ملاقا ت کی تھی۔ ایف آئی اے ٹیم کی جانب سے 60 سوالات پر مبنی ایک سوالنامہ مذکورہ جج کو بھیجا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جاتی امراءمیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ صرف ایک ہی مرتبہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ناصر محمود بٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اپنے حلف نامے میں ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت نمبر 2 اسلام آباد میں جج کی حیثیت سے فروری 2018 میں ان کی تقرری کے بعد ان سے دو واقف کاروں، مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ، نے ملاقات کی، ملاقات میں ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی مسلم لیگ نون کی حکومت میں ایک بااثر شخصیت سے ان کی خصوصی اور ذاتی سفارش پر انہیں احتساب عدالت کا جج لگایا گیا تھا۔

ناصر جنجوعہ نے اپنے ساتھی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہا کہ میں نے تم سے چند ہفتوں قبل کہا تھا نا کہ محمد ارشد ملک کو احتساب عدالت کا جج لگایا جارہا ہے۔ ارشد ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس دعوے کے بارے میں اس وقت زیادہ نہیں سوچا لیکن ناصر جنجوعہ کو جواب دیا کہ ان کا نام تجویز کرنے سے پہلے کم سے کم ان کی رائے تو لے لی جاتی۔

مزید : قومی


loading...