سعودی عرب کا واضح اعلان

سعودی عرب کا واضح اعلان

  

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، جب تک صیہونی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کر دے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ از حد ضروری ہے اور اگر انہیں حقوق دے دیئے جاتے ہیں تو سب کچھ ممکن ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بعد یہ سعودی عرب کا پہلا سرکاری ردعمل ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے 2002ء میں عرب امن منصوبے کی سرپرستی کی تھی، اب فلسطینی امن معاہدے کے بغیر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی گنجائش نہیں۔ سعودی عرب کا یہ ردعمل اس وقت دنیا کے سامنے آیا ہے جب یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب سمیت اور کئی عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں تاہم سعودی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان نے نہ صرف یہ ابہام دور کر دیا ہے،بلکہ فلسطین کے حوالے سے ایک توانا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ سعودی عرب کا اسرائیل، فلسطین کے حوالے سے موقف وزیراعظم پاکستان عمران خان کے موقف کی مکمل تائید ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ظالم اور مظلوم، قاتل اور مقتول کو برابر کھڑا کر دیا جائے۔ خطے کا امن،فلسطینیوں کو ان کے حقوق دینے  ہی سے ممکن ہے۔ فلسطینی مسئلے کے سب سے اہم فریق ہیں جب تک ان کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو گا، ان کی زندگیوں کا تحفظ نہیں ہوگا، خطے میں کوئی بھی معاہدہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ظلم رہے اور امن بھی ہو۔ اس وقت صورتِ حال اس طرح ہے کہ فلسطینی اور کشمیری اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ان کے سر سے چادر اور چھت چھینی جا رہی ہے ان کی زندگیاں خطروں میں ہیں، یا یوں کہہ لیجئے کہ ان پر ایسے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں، جن کی نظیر نہیں ملتی۔ دُنیا میں امن کے ٹھیکے داراگر واقعی یہ چاہتے ہیں کہ خطے اور دُنیا میں امن ہو تو سب سے پہلے وہ فلسطین اور کشمیرکو ظلم و استبداد کے پنجوں سے نجات دلائیں،اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل کا حل تلاش کریں۔سعودی عرب نے واضح موقف اختیار کیا ہے اور اس سے عالم ِ اسلام میں حوصلہ پیدا ہوگا۔ یہاں پر ہم یہ بات کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ حکومت ِ پاکستان نے اس حوالے سے ایک واضح موقف اختیار کرکے باقی مسلم ممالک کے لئے ایک قابل ِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ کاش پوری مسلم اُمہ فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے ایک پیج پر متحد ہو سکے۔

جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کا موقف یکساں ہے، جو یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مسلم اُمہ کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے کچھ عرصہ سے اس طرح کا تاثر دیا جا رہا تھا کہ جیسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف امور پر اختلافات موجود ہیں اور اس طرح کی خبروں اور تاثر کو بھی ہوا دی گئی کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے اس تاثر کو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک بیان نے مزید ہوا دی، تاہم پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ سعودی عرب نے اس تاثر کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں مکمل بھائی چارہ اور مختلف امور پر ہم آہنگی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب دو بھائیوں کی طرح ہیں اور مختلف امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔(دونوں کو اپنی اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات طے کرنے کا حق حاصل ہے) اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں سعودی عرب نے حقیقی بھائی کی طرح ہر مشکل موقع پر پاکستان کی مدد کی اور پاکستان کو مختلف بحرانوں سے نکالنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔یہاں تک کہ موجودہ حکومت کے آغاز میں جب عمران خان حکومت کو مالی بحران کا سامنا تھا سعودی عرب فراخ دلانہ انداز میں مدد کے لئے پہنچا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ محبت یک طرفہ نہیں پاکستان بھی حرمین شریفین کی حفاظت اور سعودی عرب سے اپنی محبت کے اظہار میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔پاکستان آزمائش کی ہر گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے، حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود ہمارے اس موقف میں کبھی تبدیلی نہیں آئی کہ سعودی عرب کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے خون کا آخری قطرہ بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا، دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات اس کے گواہ ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -