برسات، نقصا ن اور ازالہ کیسے؟

 برسات، نقصا ن اور ازالہ کیسے؟

  

 محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے نے قبل از وقت آگاہ کر دیا تھا کہ اس ساون میں برسات کی شدت زیادہ ہو گی اور بارشوں کی وجہ سے سیلابوں کا خدشہ بھی ہے۔ اس آگاہی کے باعث یہ لازم تھا کہ سب صوبائی حکومتیں،  انتظامیہ اور متعلقہ ادارے چوکس ہو جاتے اور برسات شروع ہونے سے قبل انتظامات کی کمزوری دور کر لیتے، لیکن ہمارا روایتی انداز کام آیا اور جب بارشیں شروع ہوئیں تو پانی نے معمول کے مطابق نقصان پہنچایا، اب محکمہ موسمیات والے مزید بتا رہے ہیں کہ بدھ(19اگست) سے بارشوں کا ایک نیا سلسلہ آ رہا ہے، جو چار روز تک رہے گا اور ملک کے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں تیز بارشوں کا سبب بنے گا۔بارشوں نے اپنا اثر دکھایا، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نالے بپھرے تو کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں بھی پانی جمع ہوا، اس سے معمول کے مطابق ٹریفک متاثر ہوئی اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوا، شہریوں کی آمدو رفت معطل ہو گئی، بہت سے گھروں کے اندر بھی پانی چلا گیا۔ یہ سب کوئی پہلی بار نہیں ہوا، ماضی سے ہوتا چلا آیا ہے اور ہر بار چیخ  پکار ہوتی ہے،لیکن متعلقہ محکموں پر کوئی اثر نہیں ہوتا، اربوں روپے کے منصوبوں کے اعلان ہوتے ہیں لیکن تکمیل کی نوبت نہیں آتی، اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ ایک دوسرے پر الزام لگایا جاتا ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ باقاعدہ سروے کر کے اسباب کا پتہ چلایا جائے اور اس کے مطابق منصوبے بنیں اور ان کی تکمیل ہو، لیکن یہاں تو پہلے سے موجود نکاسی  ئ آب کے راستے غلاظت اور تجاوزات نے بند کر رکھے ہیں۔ کراچی اور لاہور رہے اپنی جگہ، پشاور اور راولپنڈی میں بھی برساتی نالوں پر تجاوزات ہو چکیں اور نکاس کی جگہیں تنگ ہو کر رہ گئی ہیں، یہ سب غیر ذمہ دار عناصر کی مفاد پرستی اور متعلقہ محکموں کی بدعنوانی کے سبب ہے کہ بروقت تجاوزات کو روکا نہیں جاتا۔سیاسی اثر ورسوخ یا کرپشن کا کرشمہ ہے کہ تھوڑی بارش بھی بڑے مسائل کا باعث بن جاتی ہے۔یہ لازم ہے کہ بیان بازی اور الزام تراشی چھوڑ کر درست منصوبے بنائے جائیں اور ان کی بروقت تکمیل بھی ہو، اس کے ساتھ ہی تجاوزات کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے، جو بھی ہو کسی رو رعایت کے بغیر قانون کو حرکت میں رہنا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -