بکھری ہوئی، انسانیت کے اوراق پریشاں؟

بکھری ہوئی، انسانیت کے اوراق پریشاں؟
بکھری ہوئی، انسانیت کے اوراق پریشاں؟

  

یہ اس دور کا ذکر ہے جب پرنٹ میڈیا ہی تھا اور اخبار کی اہمیت بھی تھی، اس زمانے میں اخبار میں جو کچھ لکھا جاتا اس کی بہت حیثیت ہوتی تھی، زبان و بیان کا بہت دھیان رکھا جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ 1963ء میں جب میں نے روزنامہ ”امروز“ میں باقاعدہ کام شروع کیا تو دفتر میں ادبی نوعیت کا ماحول تھا۔ اکثر کئی الفاظ کے استعمال پر بحث ہوتی تھی، مثلاً ”درمیان“ اور ”درمیان میں“ کا فرق کیا ہے اور یہ لفظ یا الفاظ جملوں میں کیسے استعمال ہوں گے۔ ان دِنوں خبروں میں بھی ادبی جھلک ہوتی تھی، مجھے آج بھی یاد ہے کہ گوالمنڈی چوک میں ایک چھابڑی فروش قتل ہو گیا۔مقتول چوک میں ”گنڈیریاں“ بیچتا تھا، اس دور میں جب اعشاری نظام نہیں تھا، ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے اور اس کی بہت حیثیت بھی تھی کہ افراطِ زر کا نام بھی نہیں سنا تھا اور اشیاء خوردنی و ضروری بہت سستی تھیں۔زندگی بڑی سہل تھی، ہم لوگ مشقت پسند تھے۔یہ انہی دِنوں کی بات ہے،جب بکرے کا گوشت چار روپے سیر اور گھی پونے چار سے سوا چار روپے سیر تک بکتا تھا،

اگر اپ حیران نہ ہوں تو یہ گھی بھی خالص دیسی ہوتا اور بناسپتی کا نام نہیں تھا، اس گنڈیری بیچنے والے چھابڑی فروش کا گاہک سے صرف دو آنے پر تنازعہ ہوا اور اس نے اس مزدور کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا، تب امروز کا دفتر بھی قریب ہی تھا،ہم لوگ فیلڈ میں تھے، چنانچہ دفتر میں موجود استادِ محترم سید اکمل علیمی خود موقع واردات پر چلے گئے اور یہ خبر انہی نے تحریر کی اور چھپی، جس بات کے لئے یہ سب تمہید باندھی وہ یہ ہے کہ وقوعہ کی رپورٹ کو خبر بناتے ہوئے آخری سطر یہ تھی کہ دو آنے کے تنازعہ پر قتل ہوا اور قاتل بھی پکڑا گیا، لیکن بکھری ہوئی انسانیت کے اوراق پریشان کون اکٹھا کرے گا۔ یہ الفاظ آج بھی میرے ذہن و دِل پر نقش ہیں اور وہ کیسا وقت تھا، جب ایک ایسے وقوعے کو انسانیت کے بکھر جانے سے موسوم کیا گیا، تب اقدار تھیں، لحاظ تھا، احترام تھا اور احساس کیا جاتا تھا۔

.

آج جب مَیں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے ٹویٹر اور ”ویٹس ایپ“ پر ہماری خاتون صحافی ساتھیوں کی پریشانی نظر آ رہی ہے خصوصی طور پر الیکٹرونک میڈیا میں کام کرنے والی یہ خواتین ان دِنوں متحد ہو کر ہراسگی کے خلاف نبرد آزما ہیں، ان کی طرف سے اب کھل کر بتایا گیا ہے کہ ان کو محض خبروں اور پروگراموں کی بناء پر کس کس طریقے سے ہراساں کیا جاتا ہے اور اب وہ متحد ہو کر احتجاج پر مجبور ہو گئی ہیں۔یہ تو ہمارے اپنے میڈیا کے حوالے سے ہے،لیکن قصور کی مقتولہ زینب سے اب تک مسلسل معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کی وارداتیں ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ ہماری معاشرتی برائی ہے، اِس حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے،لیکن ابھی تک ایسی کوئی کوشش اور مہم نظر نہیں آئی، جو اس سمیت دیگر معاشرتی برائیوں کے حوالے سے تحقیقی عمل والی ہو، بلکہ یہ تو پی ایچ ڈی کے لئے ریسرچ کا موضوع بھی ہو سکتا ہے،لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ احساس زیاں جاتا رہا،والی بات ہے۔

مجھے بلاشبہ آپ حضرات قدامت پسند یا ملائیت کا پیرو کار کہہ لیں،حالانکہ مجھ پر ترقی پسند بلکہ کمیونسٹ ہونے کا الزام اور تہمت بھی ہے، حالانکہ مَیں ہر معاملے میں اعتدال پسند رہنا پسند کرتا ہوں تاہم یہ ضرور کہوں گا کہ ابتدائی ماحول اور تربیت کے اثرات بہت ہوتے ہیں۔ میری اور میرے ہم عمر محلے داروں، دوستوں اور ساتھیوں کی تعلیم و تربیت کا آغاز محلے کی مسجد سے ہوا اور عربی قاعدہ سے سپارہ تک پڑھا۔ یوں ایک خاص ماحول نے ذہن پر اثر رکھا، جس کی وجہ سے ”دہریت“ والے ماحول نے بھی مجھ سے میرا یقین اور ایمان نہیں چھینا، اس سلسلے میں بھی معترض حضرات بڑی بے دردی سے بعض محدود نوعیت کے حادثات کے حوالے دیتے ہیں،لیکن یہ کبھی تحقیق نہیں کرتے کہ معاشرے میں برائی کا تناسب کیا ہے۔ یہ درست کہ اگر کسی دینی مدرسے یا کسی ”دین پسند“ کی کسی برائی کا علم ہو تو اس کی مذمت بھی کرنا چاہئے،لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر برائی کے حوالے سے الگ الگ تحقیق ہو تو پھر کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ مجھے آپ قدامت پسندی کا طعنہ دیں،لیکن یہ بھی غور کریں کہ جو ہو رہا ہے وہ بہرحال چودہ سو سال پہلے سے بتائے گئے احوال کے مطابق ہے، کہ ہمیں آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ”جیسا کروگے، ویسا بھرو گے“۔یہ ایسے موضوع ہیں کہ بات کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے، آج تو بہرحال میڈیا ورکرز خواتین کے حوالے سے گذارش کرنا تھی، کہ کام یا پروفیشن کی وجہ سے ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتیں، یہ سوچیں کہ یہ معاشرہ ہے۔ اس میں ہرکوئی خاندان والا ہے، اس میں ماں سے بہن اور بیوی، بھتیجی تک کے رشتے ہیں، اِس لئے یہ ہی سوچا جائے تو کیا حرج ہے، ایسی سوچ دقیانو سی نہیں، مہذب پن کی نشانی ہے۔

جہاں تک پیشہ ئ  صحافت کا تعلق ہے تو یہ بھی نازک ہے، قلم سے لکھے اور منہ سے بولے الفاظ اپنا اثر رکھتے ہیں، مجھے خود بھی ایسے حالات سے واسطہ رہا،لیکن جو آج ہوتا ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا، خبر کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ سب فریقوں کی پسندیدہ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی تجزیہ سب کو پسند آ سکتا ہے۔ایک فریق اگر مطمئن ہو گا تو کوئی دوسرا ناراض بھی ہو سکتا ہے، تاہم مہذب پن یہ ہے کہ جواب دلیل سے دے لیا جائے اور پھر میری اور اس دور کے ساتھیوں کی تو تربیت یہ ہے کہ کسی کے خلاف جان بوجھ کر خبر نہ دو، اور اگر کوئی تردید یا وضاحت کرے تو اسے اس کا حق جانو، چنانچہ اس دور میں جب سیاست بہت زیادہ گرم بھی ہوئی تو مجھے بھی دھمکیاں ملیں، لیکن اس سے آگے بات کبھی نہیں بڑھی، اگر ایک واقع یہاں پھر سے تحریر کر دوں تو شاید بات زیادہ واضح ہو جائے، جب جنرل موسیٰ گورنر تھے تو یہاں پولیس مقابلوں کا سلسلہ شروع ہوا، غنڈہ ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز ہوا تو بڑے بڑے نامور حضرات جیل چلے گئے۔ان میں ایک صاحب محمد اسلم پہلوان بھی تھے، جن کو عرفِ عام میں اچھا شُکر والا کہتے تھے۔ وہ نامی گرامی تھے اِس دوران وہ فلمساز بھی بن چکے تھے،

جب ان کی تاریخ پیشی ہوتی تو ہم کورٹ رپورٹر خبر بناتے تو اچھا شُکر والا لکھتے تھے، ایک روز ان کے فلمساز ادارے کی طرف سے اس وقت کے تمام اخبارات کو قانونی نوٹس موصول ہوئے، ان کے مطابق وہ چودھری محمد اسلم فلمساز اور ٹیکس دینے والے تھے۔ ان کے والد کا نام شکر دین ہے، اور اخبارات والے ان کی عرفیت لکھ کر ان کے والد کو بدنام کرتے ہیں،اس نوٹس کی وصولی کے بعد ہمارے دوسرے اخبارات کے ساتھیوں نے ان کو چودھری محمد اسلم فلمساز لکھا، تاہم مَیں نے قانونی راہ اپنائی اور محمد اسلم عرف اچھا پہلوان قلعہ گوجر سنگھ والا تحریر کیا۔ اگلی تاریخی پیشی پر خود اچھا پہلوان نے ذاتی طور پر درخواست کی کہ یہ اچھا پہلوان قلعہ گوجر سنگھ والا کی پخ بھی اتار دیں، تو مَیں نے نہایت ادب سے انکار کر دیا کہ اگر یہ نہ لکھا تو ان کی شناخت ختم ہو جائے گی، جو خبر کی بنیاد ہے۔ چنانچہ انہوں نے تسلیم کر لیا تو عرض یہ ہے کہ اس کلچر کو تبدیل کریں اور مہذب معاشرہ تشکیل دیں۔

مزید :

رائے -کالم -