سو پشت سے ہے پیشہ ء آباء سپہ گری؟؟

سو پشت سے ہے پیشہ ء آباء سپہ گری؟؟
سو پشت سے ہے پیشہ ء آباء سپہ گری؟؟

  

کل رات دوستوں کے لئے گھر پر عشایئے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ لاک ڈاؤن کے سبب یہ سرگرمی پانچ چھ ماہ سے Over-due تھی۔ کھانے کے بعد مستورات کو تو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا۔ لڑکوں بالوں سے بھی نجات ملی کہ ان کو ٹی وی لاؤنج کے سپرد کر دیا گیا۔ مرد حضرات کو میں اپنے بیڈ روم میں لے آیا اور یوں گپ شپ کے اظہار کا ایک وسیع موقع ہاتھ آ گیا۔ فون پر بات چیت تو محدود سی ہوتی ہے جبکہ روبرو ملاقات میں موضوعات کے دائرے پھیلتے سکڑتے رہتے ہیں۔ فون پر تو آپ کا مخاطب صرف ایک فرد ہوتا ہے لیکن جب پانچ سات ہم نوا اکٹھے ہو جائیں تو قوالی کا سماں بندھ جاتا ہے۔ہر قوال موقع  محل دیکھ کر اپنے الاپ کے لئے منہ کھول دیتا ہے۔ جہاں اس کا الاپ ختم ہوا دوسرے قوال نے کیو (Cue) سنبھالی اور ایسے ایسے اشعار کے ٹانکے لگائے تو سامعین عش عش کر اٹھے…… اس شب ہمارا بھی یہی حال تھا۔ بات سے بات نکلتی چلی گئی اور بحرِ گفتار کا وہ سیلاب جو کورونا نے روک رکھا تھا طغیانی پر آ گیا۔ سماجی فاصلے کی پابندی کے باوجود صوت و صدا کے دریچے کھلتے چلے گئے۔

بہت سے موضوعات پر بات ہوئی لیکن ایک موضوع ایسا بھی زیر تبصرہ آیا جس کا تعلق فوج سے تھا۔ اس کا آغاز  میں نے کیا۔ میرا سوال یہ تھا کہ آج ہماری فوج کے سینئر آفیسرز اپنے بچوں کو فوج میں کیوں نہیں بھیجتے؟……

میرے سامنے بیٹھے ہوئے سینئر افسروں میں سے چار نے زبان کھولی۔ انہوں نے مختلف وجوہات کا ذکر کیا۔ مثلاً موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے فروغ نے دلیر اور بزدل کی تمیز ختم کر دی ہے۔ اور اس کی جگہ ”ذہنی دلیری“ اور ”ذہنی بزدلی“ نے لے لی ہے۔ کچھ عشرے قبل ملٹری لیڈرشپ کا جو مفہوم دنیا کی افواج میں رائج تھا وہ بدل چکا ہے۔ جسمانی یا نسبی اعتبار سے جری اور دلیر سپاہی کو اپنی جرائت اور دلیری دکھانے کا موقع نہیں ملتا۔ وار ٹیکنالوجی جوں جوں آگے بڑھتی جاتی ہے، قائدانہ صفات کی دوڑ میں آگے آگے رہنے والوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اب ذہنی دلیری کا دور ہے۔ جسمانی طور پر ایک نحیف و نزار سولجر اپنے بنکر میں بیٹھ کر  بغیر اپنے ٹروپس کو Lead کرنے کے دشمن پر وار کر سکتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں محض سولجر کو نہیں، سائنس دان سولجر یا ٹیکنالوجسٹ سولجر کو میدانِ جنگ میں فوقیت مل رہی ہے۔ آج کا نوجوان جب کالج کی تعلیم مکمل کر لیتا ہے تو وہ اس فوج میں جانے سے گریز کرتا ہے جہاں جسمانی دلیری اور ذہنی دلیری کے مقابلے میں اول الذکر کو ترجیح دینے کی روائت موجود نہیں رہی۔

ایک اور صاحب نے کہا کہ آج کی تعلیم ہمارے زمانے کی تعلیم سے بہت مہنگی ہو چکی ہے۔ اے لیول اور یونیورسٹی کی تعلیم کی تکمیل کے بعد اکثر لڑکے اور لڑکیاں افواج کا رخ کرنے کی بجائے CSS میں بیٹھنے اور اس طرح کے دوسرے امتحانی مقابلوں میں جانے کو ترجیح دیتی ہیں۔اب آفیسرز کیڈرز میں وہی لوگ جاتے ہیں جو میڈیکل یا انجینئرنگ میں وہ گریڈ حاصل نہیں کر پاتے جو ان کو آنے والی زندگی میں کسی اعلیٰ مقام پر فائزکرنے میں معاونت کرتا ہے۔

تیسرے صاحب کا استدلال تھا کہ وار ٹیکنالوجی کے فروغ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی افواج کو ایک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ آج کل کے ملٹری آپریشنوں میں جانی اتلافات کی نسبت (Ratio) ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ آج کا دہشت گرد ایک گوریلا ہے جس کو اپنی جان کی فکر نہیں ہوتی۔ اس کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ اس کا غیر روائتی پن ہے۔ ریگولر افواج کے ریگولر سولجرز کو یہ ٹریننگ دی جاتی ہے کہ وہ دشمن کو جان سے مارنے کے ساتھ ساتھ اپنی جان کو بچانے کی فکر بھی کرے۔ لیکن دہشت گرد کی ٹریننگ کی اساس یہ نہیں ہوتی۔ اس کے گلے میں جنت کی چابی لٹکا کر اس پر کمرہ نمبر لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو بتایا جاتا ہے کہ اگر موت برحق ہے اور اس سے کوئی مضر نہیں تو پھر دوزخ میں جانے کا رِسک کیوں مول لیا جائے۔ اس قسم کا رسک اور اس طرح کی ٹریننگ کسی فوجی ریکروٹ کو نہیں دی جاتی اور نہ ہی کسی ملٹری اکیڈمی میں کسی کیڈٹ کو یہ درس دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب کسی پڑھے لکھے نوجوان کو اپنے پروفیشن کے انتخاب کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو وہ ایسے پیشے کا انتخاب کرتا ہے جس میں جاں کا زیاں کم سے کم ہو۔

یہاں میں نے احباب سے یہ سوال کیا کہ کیا والدین کا فرض نہیں کہ وہ اپنے بچے کو یہ سمجھائیں کہ اگر موت کا ایک دن معین ہے تو پھر کیا فوجی نوکری اور کیا غیر فوجی نوکری…… اس کا جواب یہ دیا گیا کہ آج کے والدین اپنے بیٹوں کو دہشت گردوں کے مقابلے کے لئے نہیں بلکہ ایک ایسے دشمن سے مقابلے کے لئے بھیجنے کا میلان رکھتے ہیں جس کی ٹریننگ ریگولر بنیادوں پر کی جائے۔کسی ملٹری اکیڈمی میں جب کیڈٹ کو ٹریننگ دی جاتی ہے تو اس کو ایک روائتی یا ریگولر دشمن سے مقابلہ کرنے کا سلیبس پڑھایا اور از بر کروایا جاتا ہے…… ایک صاحب نے لقمہ دیا کہ حکومت کو ایک ایسی ملٹری اکیڈمی بھی قائم کرنی چاہیے جو ریگولر کی بجائے ارریگولر طریقہء جنگ کی ٹریننگ دے۔ پاکستان کی جو فوج گزشتہ دو عشروں سے پاک افغان سرحد پر لڑ رہی ہے اس کا سامنا کسی ریگولر تربیت یافتہ سپاہ سے نہیں بلکہ ارریگولر دہشت گرد سے ہے۔ ہمارے افسروں اور جوانوں کی جو شہادتیں آپریشن ضربِ عضب یا ردالفساد میں ہوئیں ان کو ایک سوالیہ نشان کہا جا سکتا ہے۔ آج بھی بلوچستان میں جو شہادتیں ہماری فوج کی ہو رہی ہیں، ان کی وجوہات کا سراغ لگائیں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ دہشت گردوں کا ٹولہ ہمارے ریگولر دستوں سے نبردآزمائی میں ایک طرح کی فوقیت رکھتا ہے۔ اس فوقیت اور برتری کو جب تک ختم نہیں کیا جائے گا، سمجھدار والدین اپنے بچوں کو فوج میں بھیجنے سے گریزاں رہیں گے!

میں نے اس نکتے کا ابطال کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں دو سوالوں پر غور کرنا چاہیے:

1۔کیا فوج کے بھرتی دفتروں کے سامنے فوج میں جانے والوں کا ایک ہجوم کھڑا نہیں ہوتا جو شہادت کو گلے لگانے کا ارمان سینے میں لئے اپنے جسم و جاں کی ساری توانائیاں قوم پر نچھاور کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے؟

2۔ کیا آرمی، نیوی اور ائر فورس میں کمیشن حاصل کرنے والوں کی درخواستوں میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے؟ کیا ان امیدواروں کو معلوم نہیں کہ وہ کس پروفیشن کو جوائن کر رہے ہیں؟ کیا ان کے والدین اپنے ان بچوں کو منع نہیں کرتے کہ خواہ مخوا موت کے منہ میں کیوں جا رہے ہیں؟

ان میں سے پہلے سوال کا جواب ایک دوست نے یہ کہہ کر دیا کہ ”بھرتی دفتروں“ میں امیدواروں کا ہجوم اس لئے ہے کہ نوجوان بے روزگار ہیں۔ ایک فوجی جب بھرتی ہو جاتا ہے تو اس کو بہت سی ایسی سہولتوں کا سہارا ملتا ہے جو اور کسی پروفیشن میں نہیں۔ مثال کے طور پر معقول تنخواہ، مفت راشن، مفت میڈیکل، مفت وردی، مفت رہائش اور سب سے بڑھ کر 15،16 سال کی ملازمت کے بعد تاحیات پنشن ……یہ وہ مراعات اور سہولیات ہیں جو ایک میٹرک پاس پاکستانی نوجوان کو کہیں اور نہیں ملتیں۔ اس کو خاندان کو سپورٹ کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہوتا ہے۔ یہ دراصل رسک اور فوائد کے مابین انتخاب کا سوال ہے۔

اور جہاں تک افواجِ پاکستان میں کمیشن پانے کا سوال ہے تو اس کی وجوہات ایک تو وہی ہیں جو درج بالا پیراگراف میں لکھی گئی ہیں۔ آفیسر کا راشن پانی، وردی، ٹرانسپورٹ اور رہائش مفت نہیں ہوتی۔ اس کی باقاعدہ ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے افسروں کی جو کھیپ ایک طویل عرصے سے فوج میں آ رہی ہے اس کا تعلق خاندانی پیشہ ء سپاہ گری سے نہیں۔ یہ تقریباً سب کے سب نووارد خاندان اور ذات قبیلے ہیں۔ فوج میں جب سے ذات پات کی تمیز اٹھ گئی ہے، تب سے جو آفیسر کلاس  تینوں افواج میں آ رہی ہے اس کا سروے کیا جائے تو بہت کم آفیسرز ایسے نکلیں گے جن کے اجداد کا تعلق اس پیشے سے ہو گا۔ آج کے جرنیل حضرات کی ایک فہرست بنا لیں۔ان میں بریگیڈیئرز بھی شامل کر لیں اور معلوم کریں کہ ان سینئر آفیسرز کی اولادیں فوج میں ہیں یا کسی سویلین پیشے سے منسلک ہیں …… میرے کمرے میں جو صاحبان اس شب

شریکِ گفتگو تھے ان میں سے کسی ایک کے بیٹے یا بیٹی نے فوج جوائن نہیں کی تھی۔ ایک کی اولاد بیرون ملک تھی، دوسرے کی بیورو کریسی جوائن کر چکی تھی، تیسرے کی ایک ذاتی کاروبار میں پارٹنر تھی…… میں سمجھتا ہوں یہ Diversityملک کے لئے ایک نیک فال ہے۔ یہ نسل، پاکستان کی خدمت ہی تو کر رہی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ خدمت فوج سے منسلک ہو کر ہی کی جا سکتی ہے۔ بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کو وائٹ کالر جاب بمشکل ملتا ہے لیکن جو افراد بطور ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، بینکرز اور نجی اداروں میں گئے ہوئے ہیں ان کی خدمات اسی طرح قابلِ صد تحسین ہیں جس طرح افواج پاکستان کے افراد کی ہیں۔

لیکن ایک دوست کا نقطہ ء نظر یہ تھا کہ افواجِ پاکستان کو گزشتہ دو تین عشروں سے پہلے جس الیٹ کلاس کی خدمات میسر تھیں، وہ مرورِ ایام سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔ آج فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے لئے درخواست گزاروں کا اگر سروے کرایا جائے تو معلوم ہوگا کہ پیشہء سپاہ گری ان کی اولین ترجیح نہیں تھی۔ اور یہ چیلنج صرف پاکستان ہی میں نہیں، ہر اس ملک میں موجود ہے جہاں کی آبادیاں مالی اعتبار سے غریب ہیں، جہاں کارپوریٹ سیکٹر کا حجم محدود ہے، جہاں فوجی اور دوسرے غیر فوجی پیشوں میں جانے کی آپشنز کی قلت ہے اور جہاں افواج کی سینئر لیڈرشپ اپنے بیٹوں کو فوج میں بھیجنے سے گریزاں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -