پی آئی اے کے 2 مزید پائلٹس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا 

پی آئی اے کے 2 مزید پائلٹس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)پی آئی اے کے 2 مزید پائلٹس کے لائسنس معطلی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،عدالت نے ڈی جی سول ایوی ایشن کو پائلٹس کے لائسنس معطلی کے حکم پر حتمی کاروائی سے روکتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن سمیت دیگرمدعاعلیہان سے جوا ب طلب کرلیا،عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی 27(اے)کا نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کیلئے طلب کرلیا،مسٹر جسٹس جواد حسن نے پائلٹس شیخ عمر اسلام اور عثمان اسلم کی درخواستوں پر سماعت کی،دوران سماعت فاضل جج نے درخواست گزاروں کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کوئی کیس سپریم کورٹ میں تو زیر سماعت نہیں؟ جس پر وکیل نے کہا جی کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت نہیں، فا ضل جج نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کا علم ہوا تو درخواست خارج کردیں گے، یہاں جعلی ڈگری والے لائسنس کا معاملہ نہ لایا جائے،صرف امتحانات نہ دینے پر معطل ہونیوالے لائسنس کے کیسز سن رہا ہوں،فاضل جج نے ہدایت کی کہ تمام کیسز کو یکجا کرکے سماعت کیلئے لگایا جائے۔درخواست میں وفاقی حکومت، سیکرٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے درخوا ست گزاروں نے موقف اختیار کیاہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے لائسنس معطلی کا نوٹیفیکیشن موصول ہوا، ڈی جی سول ایوی ایشن نے لائسنس معطل کیا انہیں ہی اپیل کا اختیار دیدیاگیا،درخواست گزار پائلٹ کا موقف سنے بغیر ڈی جی سول ایوی ایشن نے لائسنس معطل کر دیا، ڈی جی سول ایوی ایشن کو اپنے ہی فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کا اختیار دینا خلاف آئین ہے،محکمانہ سزا دینے والی اتھارٹی کو اپیل کا اختیار دینا فیئر ٹرائل حقوق کی خلاف ورزی ہے، ڈی جی سول ایوی ایشن کو اپیل کا اختیار رولز کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کیا جائے، درخواست میں ایئر ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس معطلی کا حکم غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اوردرخواست کے حتمی فیصلے تک لائسنس معطلی کے حکم پر عمل رآمد روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

پی آئی اے پائلٹ

مزید :

صفحہ آخر -