شہید محراب حضرت عمر فاروقؓ 

شہید محراب حضرت عمر فاروقؓ 

  

حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ جب حضرت عمر ؓ  کو(شہادت کے بعد) ان کی چارپائی  پر ڈالا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور اُن کے لئے دُعا اور مغفرت طلب کرنے لگے۔ نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی ؓ تھے۔ پھر انہوں نے حضرت عمر ؓ کے لئے دُعائے رحمت کی اور(ان کی نعش کو مخاطب کر کے)کہا، آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں، اور خدا کی قسم مجھے تو(پہلے سے) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسولؐ اللہ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ”مَیں ابوبکر اور عمر گئے۔ میں ابوبکر اور عمر داخل  ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے“۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا”میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں۔ کسی کا کُرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچا ہے۔ (پھر) میرے سامنے عمر بن خطاب لائے گئے۔ ان (کے بدن) پر(جو) کرتا تھا، اسے وہ گھسیٹ رہے تھے۔“(یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا) صحابہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کی کیا تعبیر ہے؟ آپ نے فرمایا (اس سے) ”دین مراد ہے“۔ (یعنی دین حضرت عمر فاروق ؓ  کی ذات اقدس میں اس طرح جمع ہوگیا کہ کسی اور کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کا کُرتہ چونکہ سب سے بڑا تھا، اس لئے ان کی دینی فہم بھی اوروں سے بڑھ کر تھی۔ دین کی اس کمی بیشی میں ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ ایمان کم و بیش نہیں ہوتا)۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسولؐ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مَیں سو رہا تھا۔ (اسی حالت میں) مجھے دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا۔ میں نے(خوب اچھی طرح) پی لیا۔ حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا“۔ صحابہ نے پوچھا یا رسولؐ اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ آپ نے فرمایا ”علم“۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ مَیں نے نبی کریمﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا:”مَیں سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے  جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا، پھر ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکر ؓ) نے لے لیا اور انہوں  نے ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی۔ اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر لی اور اسے عمر بن خطابؓ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمر ؓ  کی طرح ڈول کھینچ سکتا ہو۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کر لیا۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنوئیں سے ایک اچھا خاصا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں، جس سے جوان اونٹنی کو دودھ پلاتے ہیں۔ پھر ابوبکر ؓ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے،مگر کمزوری کے ساتھ اور  اللہ اُن کی مغفرت کرے، پھر عمر ؓ آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کر سکتا ہو۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے۔

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمؐ نے فرمایا”میں جنت میں داخل ہوا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) میں جنت میں گیا۔ وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا۔ میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں، لیکن رُک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ اے اللہ کے نبی ؐ، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم   رسولؐ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ ؐ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی، میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جو ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب ؓ کا محل ہے۔ مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں وہاں سے فوراً لوٹ آیا۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ رو دیئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ بھی غیرت کروں گا؟

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت چند قریشی عورتیں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے (خرچ) بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں۔ خوب آواز بلند کرکے۔ لیکن جونہی حضرت عمر فاروق ؓ نے اجازت چاہی، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر رسول اکرمؐ نے انہیں اجازت دی۔ آپ ؐ مسکرا رہے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنساتا ہی رکھے، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا۔ ابھی ابھی میرے پاس تھیں، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا، لیکن یا رسول اللہ! آپ زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں۔ پھر (ازواج مطہرات سے) کہا، اے  اپنی جان کی دشمنو، مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور رسولؐ اللہ سے نہیں ڈرتیں۔ ازواج مطہرات بولیں کہ واقعی یہی(بات) ہے کیونکہ آپ رسولؐ اللہ کے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں۔ اس پر رسولؐ اللہ نے فرمایا، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،(اے عمر!) اگر شیطان بھی کہیں راستے میں  تمہیں مل جائے تو جھٹ وہ یہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔

حضرت ابن عمر ؓنے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی(منافق) کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ (جو پختہ مسلمان تھے) رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ؐ اپنی قمیض میرے والد کے کفن کے لئے عنایت فرما دیں۔ آنحضرتؐ نے قمیض عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ آپ ؐ نماز جنازہ بھی پڑھا دیں۔ آنحضرتؐ نماز جنازہ پڑھانے کے لئے بھی آگے بڑھ گئے۔ اتنے میں حضرت عمر ؓ نے آپ ؐ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو اس سے منع بھی فرما دیا ہے۔ آنحضرتؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ ”آپ ؐ ان کے لئے استغفار کریں خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ؐ ان کے لئے70بار بھی استغفار کریں گے…… (جب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا) اس لئے   میں 70مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ (شاید کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے) حضرت عمر ؓ بولے۔ لیکن یہ شخص تو منافق تھا۔ حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ آخر آنحضرتؐ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ ”اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھئے اور نہ اس کی قبر پرکھڑے  ہوں“(التوبہ84:)

ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں، رسول ؐ اللہ نے فرمایا:  اللہ نے حق کو عمرؓ کی زبان اور ان کے دل پر جاری فرما دیا ہے(ترمذی) اور ابوداؤد کی روایت میں جو کہ ابوذرؓ سے مروی ہے، اللہ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے جس کے ذریعے وہ بولتے ہیں“۔

حضرت علیؓ نے فرمایا: ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے کہ تسکین بخشنے والا کلام عمرؓ کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔

ابن عباسؓ نبی کریمؐ سے روایت کرتے ہیں، آپؐ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسلام کو ابو جہل عمرو بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے غلبہ و عزت عطا فرما“۔ صبح ہوئی تو عمر پہلے پہر نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، پھر آپ نے مسجد میں علانیہ نماز ادا فرمائی۔(احمد ترمذی)

جابرؓ بیان کرتے ہیں ؓ، عمرؓ نے ابوبکرؓ سے فرمایا: اے وہ انسان جو رسول ؐ اللہ کے بعد سب سے بہتر شخصیت ہے! ابوبکرؓ نے فرمایا: سن لو! اگر آپ نے یہ بات کی ہے تو میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عمر سے بہتر شخص کوئی نہیں جس پر سورج طلوع ہوا ہو“۔ ترمذی۔

حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں، نبیؐ نے فرمایا:”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“۔ترمذی

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں، رسول ؐ اللہ تشریف فرما تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی، رسول ؐاللہ کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ ایک حبشی خاتون رقص کر رہی تھی اور بچے اس کے ارد گرد (تماشا دیکھ رہے) تھے، آپؐ نے فرمایا: ”عائشہ! دیکھو۔“ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے(چہرہ) رسول ؐ اللہ کے کندھے پر رکھ دیئے اور میں آپ کے کندھے اور سر کے درمیان سے اسے دیکھنے لگی، آپؐ نے مجھے فرمایا:”کیا تم سیر نہیں ہوئی، کیا تم سیر نہیں ہوئی“ مَیں کہنے لگی نہیں، تاکہ مَیں آپ کے ہاں اپنی قدر و منزلت کا اندازہ لگا سکوں، اچانک عمر  ؓ تشریف لے آئے تو سارے لوگ اس (حبشیہ) کے پاس سے تتر بتر ہوگئے، رسولؐ اللہ نے فرمایا:”مَیں نے شیاطین جن وانس کو دیکھا کہ وہ عمر کی وجہ سے بھاگ رہے ہیں۔“حضرت انسؓ اور ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ عمرؓ نے فرمایا: مَیں نے تین امور میں اپنے رب سے موافقت کی، مَیں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں؟ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: ”مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ“۔

مَیں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ کی ازواج مطہرات کی موجودگی میں، آپ ؐ کے پاس نیک و فاسق قسم کے لوگ آتے ہیں، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم فرما دیں، تب اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی، اور (ایک موقع پر) نبیؐ کی ازواجِ مطہرات قصہ غیرت(شہد پینے والے واقعہ) پر اکٹھی ہو گئیں، تو میں نے کہا:”قریب ہے کہ اس کا رب، اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں، تم سے بہتر بیویاں انہیں عطا فرما دے۔“ اِسی طرح آیت نازل ہو گئی۔

اور ابن عمرؓ کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا، عمرؓ نے فرمایا: میں نے تین امور میں، اپنے رب سے موافقت کی، مقام ابراہیمؓ کے متعلق، پردے اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں (بخاری و مسلم)

حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں، عمر بن خطابؓ کو چار چیزوں کی وجہ سے دیگر لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی، انہوں نے بدرکے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:”اگر اللہ کی کتاب میں یہ حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو تم نے جو(فدیہ) لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا“ اور ان کا حجاب کے متعلق فرمانا، انوں نے نبیؐ کی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ وہ پردہ کیا کریں تو زینب ؓنے انہیں فرمایا: ابن خطاب! کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں جبکہ وحی تو ہمارے گھروں میں اترتی ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:”اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو ان سے پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔“ اور ان کے متعلق نبیؐ کی دعا:”اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت فرا۔“ اور ابومکرؓ کے (خلیفہ ہونے کے) متعلق سب سے پہلی انہیں کی رائے تھی ا نہوں نے ہی سب سے پہلے ان کی بیعت کی(احمد)

حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہؐ نے فرمایا:”ایک آدمی میری اُمت میں سے جنت میں ایک درجہ بلند مقام پر فائز ہو گا۔“ ابو سعیدؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے خیال میں وہ آدمی عمر بن خطابؓ ہی ہیں حتیٰ کہ وہ وفات پا گئے(ابن ماجہ)

حضرت اسلم(عمرؓ کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں، ابن عمرؓ نے مجھ سے عمرؓ کے بعض حالات کے متعلق دریافت کیا تو مَیں نے انہیں بتایا کہ میں نے رسو لؐ اللہ کی وفات کے بعد کسی شخص کو اتنی زیادہ جدوجہد اور سخاوت کرنے والا نہیں دیکھا حتیٰ کہ یہ فضائل عمرؓ پر ختم ہو گئے۔

حضرت مسور بن مخرمہؓ بیان کرتے ہیں، جب عمرؓ زخمی کر دیے گئے تو وہ تکلیف محسوس کرنے لگے، اس پر ابن عباسؓ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کیا: امیر المومنین! آپ اتنی تکلیف کا کیوں اظہار کر رہے ہیں؟ آپ نے رسولؐ اللہ کی صحبت اختیار کی اور اسے اچھے انداز میں نبھایا، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ پر راضی تھے، پھر آپ ابوبکرؓ کی صحبت میں رہے، اور ان کے ساتھ بھی خوب رہے پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ بھی آپ پر راضی تھے، پھر آپ مسلمانوں کی صحبت میں رہے، اور آپ ان کے ساتھ بھی خوب اچھی طرح رہے، اور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو آپ ان سے بھی اس حال میں جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا: تم نے جو رسولؐ اللہ کے ساتھ اور آپ کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے اور تم نے جو ابوبکرؓ کے ساتھ اور ان کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے اور رہی میری گھبراہٹ اور پریشانی جو تم دیکھ رہے ہو تو وہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں فکر مند ہونے کی وجہ سے ہے اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات حاصل کرتا۔(بخاری) 

مزید :

ایڈیشن 1 -