فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

  

پیر سید منور حسین شاہ جماعتی 

قرآن مجید کی سورۃ الفتح آیت نمبر 29 میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی خصوصیات کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے، جو پہلی خصوصیت بیان کی گئی ہے وہ ہے ”اَشِدَّآءْ عَلَی الْکْفَّارِ“ یعنی صحابہ کرام علیہم الرضوان کفار کے معاملے میں بہت سخت ہیں۔ کفر کی بدترین قسم منافقت ہے، جسکا ظاہر ایمان اور باطن کفر ہو وہ منافق ہے۔ امیر المومنین حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی یہ شان تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنی خداداد فہم و فراست سے فوراً منافقین کو پہچان لیتے اور ان کی ہر طرح سے پکڑ فرماتے نیز ان کی اِسلام دشمنی کو بالکل ناکام بنا دیتے، یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو ”غَیْظْ الْمْنَافِقِیْن“ کہا جانے لگا یعنی منافقین پر بہت سختی فرمانے والے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک یہودی اور منافق فیصلہ کروانے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ اسکے بعد منافق نے فاروق اعظم کی بارگاہ سے فیصلہ کرانے پر اصرار کیا، جب آپ رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق علم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ نہ ماننے کے سبب اس منافق کی گردن تن سے جدا کر دی۔ 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مرادِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کہا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے دْعا مانگی تھی کہ ”یااللہ! اسلام کو کسی ایک عمر سے عزت عطا فرمایا‘ عمر بن خطاب سے یا عمر بن ہشام سے“۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دْعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے عمربن خطاب کو ہدایت کی دولت نصیب فرمائی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال 27 سال کی عمر میں اسلام لائے‘ آپ سے پہلے چالیس مرد اور گیارہ عورتیں مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں۔ آپ کا نام عمر اور کنیت ابوحفصہ تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاروق کا لقب عطا فرمایا تھا۔ آپ بڑے بہادر اور جری انسان تھے لہٰذا جیسی شدت اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ میں موجود تھی ویسی ہی گرمجوشی بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت قبول اسلام کے بعد بھی آپ میں بدرجہ اْتم موجود رہی چنانچہ آپ کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد مسلمانوں کو بڑی قوت و طاقت حاصل ہو گئی، وہ مسلمان جو کفار کے ڈر سے حرم پاک میں عبادت نہیں کر سکتے تھے وہ ڈنکے کی چوٹ پر کعبہ معظمہ کے پاک فرش پر نماز ادا فرمانے لگے جس سے کفار کے دِلوں پر کاری ضرب لگی۔ آپ نے دِین اسلام کو خود پر اس طرح لازم و ملزوم کر لیا کہ شیطان بھی آپ کو دیکھ کر راستہ بدل جاتا۔ آپ شرعی احکامات کی پاسداری میں اس چاند کی مانند ہیں جس کی چمکتی دمکتی روشنی گمراہی میں بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہنمائی فراہم کرتی ہے، احکامِ شریعت کا پابند بناتی ہے۔ 

زمانہ جاہلیت میں اگرچہ عربوں کے اندر عموماً خصائص رَذِیلہ (برے اوصاف) ہی پائے جاتے تھے لیکن اس وقت بھی بعض افراد وہ تھے جن میں ایسے بہترین خصائل موجود تھے جو لوگوں کی نظر میں باعث فخر تھے، امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا شمار ایسے ہی چند افراد میں ہوتا تھا، تقریر و خطابت کا ملکہ آپ کو اللہ عزوجل کی طرف سے عطا ہوا تھا، نیز آپ کی فصیح و بلیغ عربی زبان نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا اور اسی خصوصیت کے سبب قریش نے آپ کو عہدہئ سفارت دیدیا تھا۔ آپ کی آواز بہت بلند اور بارعب تھی، نہایت ہی متاثر کن شخصیت کے مالک تھے، قد اتنا لمبا تھا کہ زمین پر کھڑے ہوتے تو ایسا لگتا جیسے منبر پر کھڑے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خطبات ایسے ہوتے تھے کہ تاثیر کا تیر بن کر لوگوں کے دلوں میں پیوست ہو جاتے تھے۔ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ ہیں جن کا یہ معمول تھا کہ وہ راتوں کو مدینہ منورہ کا دورہ کرتے تاکہ رعایا کے حالات معلوم کر سکیں کہ کہیں کوئی کسی تکلیف یا مصیبت میں تو نہیں، اگر بالفرض کہیں ایسا ہو تو اس کی مدد فرمائیں۔ آپ کا مدینہ منورہ میں پیش آنیوالا ایک مشہور واقعہ بھی ہے جس میں ایک خاتون اپنے بچوں کیساتھ ان کا دل بہلانے کیلئے رات کے اندھیرے میں خالی ہنڈیا پکا رہی تھی، آپ اسکے پاس پہنچے اور اس خاتون کی مدد فرمائی۔ 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جنگ یمامہ کے بعد جمع قرآن کا مشورہ بھی آپ نے دیا تھا جس پر انہوں نے عمل کر کے قرآن کو جمع فرما دیا۔ آپ نے سب سے پہلے باقاعدہ تراویح کی جماعت قائم کروائی۔ نماز جنازہ کی چار تکبیرات پر اجماع قائم کرایا، شراب پر حد مقرر کر کے شرابی کو اسی کوڑے لگوائے، آپ نے آئمہ و موذنین کے مشاہرے مقرر فرمائے، مسجد حرام کی توسیع و کشادگی کروائی، مسجد حرام کی بیرونی دیوار بنوائی، اپنے دور میں مساجد کو آباد کرنے کیلئے انہیں روشن کرنے کا خصوصی اہتمام فرمایا، مسجد نبوی کا فرش بھی آپ نے ہی پکا کروایا، سب سے پہلے مسجد نبوی میں نمازیوں کیلئے چٹائیاں بچھائیں، مسجد نبوی کی توسیع فرمائی، زرعت ودیگر فوائد کیلئے نہریں کھداوئیں، نئے شہروں کی تعمیر کروائی، مفتوحہ ممالک کے نظام کو بطریق احسن منظم کرنے کیلئے مختلف حصوں میں تقسیم فرمایا۔ آپ نے سب سے پہلے مردم شماری کروا کر لوگوں کے ناموں کی فہرستیں مرتب کروائیں، معلمین و مدرسین کے مشاہرے مقرر فرمائے، گورنروں کی تنخواہیں مقرر کیں، لوگوں کیلئے مختلف وظائف مقرر فرمائے، شیرخوار بچوں کے وظائف اْن کی پیدائش ہی سے مقرر فرمائے، لاوارث بچوں کی پرورش کا انتظام کروایا، بیت المال قائم کیا، جیل بنوائی، پولیس کا محکمہ بنوایا، مختلف اقسام کے مقدمات مثلاً زِنا، سرقہ وغیرہ کی ابتدائی تمام کارروائیاں اسی محکمہ سے متعلق تھیں، اس محکمہ کے اہلکاروں کو بازاروں میں بھی تعینات فرمایا تاکہ وہ تاجروں کی بازاری خیانتوں پر نظر رکھ سکیں، مسافر خانے اور گودام بنوائے، شہروں میں مہمان خانے بنوائے، خبررسانی کا نظام قائم کیا، شورائی نظام کا قیام بھی آپ کے دورِ خلافت میں ہی ہوا، شہروں میں قاضی مقرر کئے گئے، جنگلات اور پہاڑوں کی پیمائشیں کروائیں، اسلامی سکے رائج فرمائے، تاجروں پر عشر مقرر کیا، تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مقرر فرمائی، بنوتغلب کے عیسائیوں سے محصول ٹیکس وصول کیا، مفتوحہ علاقوں میں فوجی چھا?نیاں قائم فرمائیں، فوجیوں کے گھروں سے جدائی کی مدت کا تعین بھی آپ کے دور میں ہوا، جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کے گھوڑوں کا حصہ بھی نافذ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیشمار فتوحات ہوئیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سن 13 ہجری سے 23 ہجری کے قلیل عرصے میں 22لاکھ 51 ہزار 30 میل پر اسلام کا پرچم لہرایا، فتوحات میں اس برق رفتاری پر دنیائے انسانیت حیران ہے تبھی ایک غیرمسلم مورخ نے کہا تھا کہ ”اگر دس سال عمر مزید زندہ رہ جاتے تو دْنیا سے کفر کا خاتمہ ہو جاتا“۔ 

آپ کے دورِ خلافت میں عدل و انصاف کو خوب فروغ ملا، جو مظلوم آپ کے دَر پر آتا وہ ضرور انصاف لیکر جاتا۔ جہاں حکومت کے نظم و نسق کو بہتر کیا وہیں آپ نے منافقین کا خاتمہ بھی کیا، دورِ فاروقی میں منافقین آپ کے سایہ سے بھی ڈرتے تھے۔ دین اسلام میں آپ وہ پہلے امام ہیں جنہوں نے شہادت پائی، ایک مجوسی غلام ”ابولولو فیروز“ نے نمازِ فجر میں آپ رضی اللہ عنہ کو زہر آلود خنجر سے زخمی کیا، اس نے آپ پر 3وار کئے جسکے سبب آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ آپ کو زخمی کرنے کے بعد وہ بھاگا اور اس دوران اس نے مزید 6افراد کو شہید کیا، ایک صاحب نے اس پر کپڑا ڈال کر دبوچ لیا، جب اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ فرار نہیں ہو سکتا تو اس نے خودکشی کر لی۔ 

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو آپ کے بڑے بیٹے اور جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے غسل دیا، آپ کی نماز جنازہ حضرت سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی، بعدازاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں آپ کو دفن کر دیا گیا۔ حضرت سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے انتقال کے دِن حضرت سیدتنا اْم ایمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”آج اسلام کمزور ہو گیا“۔ یقینا آپ رضی اللہ عنہ اْمت کے وہ عظیم محسن ہیں جن کے احسانات کا بدلہ ہم کبھی بھی نہیں چکا سکتے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -