خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  

اسلام کے لئے سنہری خدمات انجام دینے والے

  مولانا حافظ مجیب الرحمن

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی اسلام کیلئے روشن خدمات، جرأت وبہادری، عدل وانصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار و کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے۔ آپ ؓ کا سنہرا دورِ خلافت مسلمانوں کی بے مثال فتوحات  وترقی اور عروج کا زمانہ تھا مسلمان اس قدر خوش حال ہو گئے تھے کہ لوگ زکوٰۃ دینے کیلئے ”مستحق زکوٰۃ“ کو تلاش کرتے تھے لیکن ان کو زکوٰۃ لینے والامشکل سے ملتا تھا۔

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کو حضورﷺ نے بارگاہ خداوندی میں جھولی پھیلا کر مانگا تھا اسی وجہ سے آپ کو ”مرادِ مصطفےٰؐ“ کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ آپؓ عشرہ مبشرہ  خوش نصیب صحابہ کرامؓ میں بھی شامل ہیں جن کو دنیا میں ہی حضورﷺ نے جنت کی بشارت دے دی تھی۔

آپ ؓ کی تائید میں بہت سی قرآنی آیات نازل ہوئیں اور آپ کی شان میں چالیس کے قریب احادیث نبویﷺ موجود ہیں اور آپؓ کی صاحبزادی حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنھا کو حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ اور مسلمانوں کی ماں (ام المؤمنین) ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔

آپ ؓ کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا کہ ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا (ترمذی)

حضرت عبداللہ بن مسعود رؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کا مسلمان ہو جانا فتح اسلام تھا اور ان کی 

ہجرت  ’’ نصرت الٰہی“  تھی اور ان کی خلافت اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی……

سیدنا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے(عمرؓ) ابن خطاب! قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہئ قدرت میں میری جان ہے جب تم کو شیطان کسی راستہ پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کو اختیار کر لیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

ایک موقعہ پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ بلا شبہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروقؓ کی زبان اور ان کے دل پر حق کو (جاری) قائم کر دیا ہے۔  (ترمذی)

 ایک روز رحمت دو عالم ﷺ گھر سے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپ ﷺ کے ہمراہ دائیں بائیں ابو بکر ؓ وعمرؓ بھی تھے اور آپ ﷺ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اسی حالت میں آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہم اسی طرح اٹھیں گے۔ (ترمذی) 

ایک اور موقعہ پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے جبرائیلؑ اور میکائلؑ ہیں اور زمین والوں میں سے دو وزیر ابو بکرؓ و عمرؓ ہیں۔ (ترمذی)

ایک موقعہ پر حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد ابو بکرؓ و عمرؓ کی اقتدا کرنا۔ (مشکوٰۃ)

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے تمام غزوات و جنگوں میں حصہ لیا اور کفار کے خلاف شجاعت وبہادری کے خوب جوہر دکھائے……

”بدر کے قیدیوں“ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو حضرت عمر فاروقؓ کا مشورہ اس قدر پسند آیا کہ آپؓ کی رائے اور مشورہ کی تائید میں ”آیت قرآنی“ نازل ہو گئی……

آپؓ کا نام عمر ابن خطاب، لقب فاروق اور کنیت ابوحفص ہے، آپ ؓ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں حضور ﷺ سے ملتا ہے مشہور روایت کے مطابق آپ ؓ نبوت کے چھٹے سال 33 سال کی عمر میں اسلام کی دولت سے مال مال ہوئے جبکہ آپ ؓ سے قبل چالیس مرد اور گیارہ عورتیں نور ایمان سے منور ہو چکی تھیں۔

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کا رنگ سفید مائل بہ سرخی تھا، رخساروں پر گوشت کم قد مبارک دارز تھا، جب لوگوں کے درمیان کھڑے ہوتے تو سب سے اونچے نظر آتے۔ ایسا معلوم ہوتا گویا آپؓ سواری پر سوار ہیں آپ ؓ زبردست بہادر اور بڑے طاقت ور تھے اسلام لانے سے قبل جیسی شدت کفر میں تھی اسلام لانے کے بعد ویسی شدت اسلام میں بھی ہوئی۔ آپؓ خاندان قریش کے باوجاہت اور شریف ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں سفارت کاکام آپ ؓ ہی کے متعلق ہوتا تھا۔

 آپؓ کے ایمان لانے کا واقعہ مشہو ر ومعروف ہے اور آپ ؓ کا اسلام لانا حضور ﷺ کی دعاؤں کا ثمرہ اور معجزہ تھا……۔

آپؓ کے اسلام لانے کے اعلان سے صحابہ کرامؓ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کفار پر رعب پڑ گیا…… آپ ؓ کے اسلام لانے سے حضورﷺ نے بیت اللہ میں ”اعلانیہ“ نماز ادا کی…… سیدنا حضرت عمرفاروقؓ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت سے قبل بیت اللہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا کہ میں ہجرت کر کے مدینہ جا رہا ہوں یہ نہ کہنا کہ میں نے چھپ کر ہجرت کی جس نے اپنی بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کروانا ہو وہ مجھے ہجرت سے روکے لیکن کفار میں سے کسی کو بھی آپؓ کا راستہ روکنے کی ہمت نہ ہوئی…… آپؓ کے اسلام لانے سے دین اسلام بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔

آپؓ نے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دور خلافت مین ان کے ساتھ مل کر اسلام کی اشاعت و غلبہ کیلئے بہت کام کیا……

خلیفہ اول سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کو اپنے دور خلافت میں اس بات کا تجربہ ہو چکا تھا کہ ان کے بعد منصب خلافت کیلئے سیدنا حضرت عمر فاروقؓ سے بہتر کوئی شخص نہیں حضرت عمر فاروقؓ کے انتخاب کیلئے حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ”خفیہ رائے شماری“ کا طریقہ اختیار کیا۔

صحابہ کرامؓ کی ”اعلیٰ مشاورتی کونسل“ اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ سے مشورہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی ”جانشینی“ کا اعلان کیا…… بعض مؤرخین کے مطابق رائے شماری کے دوران چند صحابہ کرامؓ نے کہا کہ حضرت عمرؓ کا مزاج سخت ہے اگر وہ سختی پر قابو نہ پا سکے تو بڑا سانحہ ہو گا…… حضرت ابو بکرصدیقؓ نے جواب دیا کہ عمرؓ کی سختی میر نرمی کی وجہ سے ہے۔ جب تنہا ان پر ذمہ داری عائد ہو گی تو یقینا جلال و جمال کا امتزاج قائم ہو جائے گا…… سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے خلیفہ بننے کے بعد مسلمانوں کو خطبہ دیا اور اس خطبہ میں فرمایا کہ! اے لوگو! میری سختی اس وقت تک تھی جب تم لوگ حضورﷺ اور سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کی نرمیوں اور مہربانیوں سے فیضیاب تھے۔ میر ی سختی، نرمی کے ساتھ مل کر اعتدال کی کیفیت پیدا کر دیتی تھی……اب میں تم پر سختی نہ کروں گا…… اب میری سختی صرف ظالموں اور بدکاروں پر ہوگی…… اسی خطبہ میں آپؓ نے سوال کیا کہ اے لوگو! اگر میں ”سنت نبوی“ ﷺ اور ”سیرت صدیقیؓ“ کے خلاف حکم دوں تو تم کیا کروگے……؟ لوگ کچھ نہ بولے اور خاموش رہے پھر دوبارہ آپؓ نے یہی سوال دہرایا تو ایک نوجوان تلوار کھینچ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اس تلوار سے سر کاٹ دیں گے…… اس پر آپؓ بہت خوش ہوئے……۔

تواضع کی صفت آپؓ میں بہت زیادہ پائی جاتی تھی باوجود یکہ بڑے بڑے بادشاہ آپؓ کے نام اور تذکرے سے کانپ جاتے تھے۔

”خلیفۃ المسلمین“ بننے کے بعد آپ ؓ  منبر پر تشریف لائے تو اس سیڑھی پر بیٹھ گئے جس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ پاؤں رکھتے تھے صحابہ کرام ؓ نے کہا کہ اوپر بیٹھ جائیں …… تو فرمایا! میرے لئے یہ کافی ہے کہ مجھے اس مقام پر جگہ مل جائے جہاں صدیق اکبرؓ کے پاؤں رہتے ہوں ……۔

 آپؓ کے زہد و تقویٰ کی یہ حالت تھی کہ بیت المال میں سے اپنا وظیفہ سب سے کم مقرر کیا جوآپؓ کی ضرور ت کیلئے بہت کم تھا اور کئی مرتبہ بیت المال سے صرف دو ہی جوڑے کپڑے کے لیتے وہ بھی کسی موٹے اور کھردرے کپڑے کے ہوتے جب وہ پھٹ جاتے تو ان پر چمڑے اور ٹاٹ کے پیوند لگاتے۔ حضرت زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کے لباس میں سترہ پیوند شمار کئے……

آپؓ میں خشیت اور خوفِ الٰہی کی یہ حالت تھی کہ نماز میں ”آیت قیامت و آخرت“ کے ذکر پر بیہوش ہو جاتے…… زکوٰۃ و صدقات بہت کثرت سے دیا کرتے تھے…… آخر عمر میں ہمیشہ روزہ سے رہتے تھے سوائے ”ایام ممنوعہ“ کے اپنی رعایا کی خبرگیری کیلئے راتوں کو اٹھ اٹھ کر گشت کیا کرتے…… جو صحابہ کرامؓ جہاد پر گئے ہوتے ان کے گھروں کی ضروریات کا خیال کرتے بازار سے سامان وغیرہ خود خریدتے اور ان کے گھروں میں پہنچاتے تھے۔

سیدنا حضرت عمر فاروقؓجب کسی صوبہ یا علاقہ میں کسی کو گورنر وغیرہ مقرر کرتے تو اس کی عدالت و امانت لوگوں کے ساتھ معاملات کے بارے میں خوب تحقیق کرتے…… اور پھر اس کو مقررکرنے کے بعد اس کی مسلسل نگرانی بھی کرواتے…… اور رعایا کو حکم تھاکہ میرے حکام (گورنرز) سے کسی کو بھی کوئی شکایت و تکلیف پہنچے تو وہ بے خوف وخطر مجھے اطلاع  دیں آپ ؓ اپنے حکام کی ذرا ذرا سی بات پر گرفت کرتے اور ان کو مقرر کرتے وقت ایک پروانہ لکھ کر دیتے جس پر یہ ہدایات درج ہوتیں! باریک کپڑا نہ پہننا، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھانا، اپنے مکان کا دروازہ بند نہ کرنا، کوئی دربان نہ رکھنا تاکہ جس وقت بھی کوئی حاجت مند تمہارے پاس آنا چاہے بے روک و ٹوک آجاسکے بیماروں کی عیادت کو جانا، جنازوں میں شرکت کرنا……۔

حضرت عمر فاروقؓ اپنی رعایا کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت و آرام کا بہت خیال کرتے اور ان کی شکایات کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتے۔ آپؓ کا یہ معمول تھا کہ ہر نماز کے بعد مسجد کے صحن میں بیٹھ جاتے اور لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے موقعہ پر احکامات جاری کرتے، راتوں کو گشت کرتے اور سفر میں راہ چلتے لگوں سے مسائل وحالات پوچھتے، دور دراز علاقوں کے لوگ وفود کی صورت میں حاضر ہو کر اپنے مسائل وغیرہ سے آگاہ کرتے اور بعض مرتبہ آپؓ  مختلف علاقوں کا خود دورہ کر کے لوگوں کے مسائل وشکایات کو دور کرتے۔

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں ”بیت المقدس“ کو فتح کرنے اور ”قیصر وکسریٰ“ کو پیوند خاک کر کے اسلام کی عظمت کا پرچم لہرانے کے علاوہ شام، مصر، عراق، جزیرہ خوزستان، عجم، آرمینہ، آذر بائیجان، فارس، کرمان، خرسان اور مکران (جس میں بلوچستان کا بھی کچھ حصہ آجاتا ہے) سمیت دیگر کئی علاقے فتح کئے۔

آپؓ کے دورِ خلافت میں 3600 علاقے فتح ہوئے، 900 جامع مسجدیں اور 4000 عام مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں بیت المال یعنی خزانہ کا محکمہ قائم کیا۔ عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کئے۔ ”جیل خانہ“ اور پولیس کا محکمہ بھی آپؓ نے ہی قائم کیا۔ ”تاریخ سن“ قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔ امیر المؤمنین کا لقب اختیار کیا فوجی دفتر ترتیب دیا۔ ”دفترمال“ قائم کیا، پیمائش جاری کی، مردم شماری کرائی، نہریں کھدوائیں، شہر آباد کروائے، ممالک مقبوضہ کو صوبوں میں تقسیم کیا۔ اصلاح کیلئے ”درہ“ کا استعمال کیا، راتوں کو گشت کر کے رعایا کا حال دریافت کرنے کا طریقہ نکالا، جا بجا فوجی چھاؤنیاں قائم کیں والنٹریو ں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ پرچہ نویس مقرر کئے۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے آرام کیلئے مکانات تعمیر کروائے، گم شدہ بچوں کی پرورش کیلئے ”روز ینے“ مقرر کئے۔ مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے۔ مکاتب و مدارس قام کئے، معلمین اواساتذہ کے مشاہرے مقرر کئے، مفلوک الحال عسائیوں اور یہودیوں کے ”روزینے“ بھی آپؓ نے ہی مقرر کئے۔ نماز تروایح جماعت سے قائم کی۔ شراب کی حد کیلیئے 80 کوڑے مقرر کیے تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مقرر کی، وقف کا طریقہ ایجاد کیا۔ مساجد کے اماموں اور مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں مساجد میں راتوں کوروشنی کا انتظام کیا۔ اس کے علاوہ بھی عوام کیلئے بہت سے فلاحی و اصلاحی احکامات آپ ؓ نے جاری کئے۔

علامہ شبلی نعمانیؒ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی سوانح عمری ”الفاروقؓ“ میں رقمطراز ہیں کہ! تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا حکمران دکھا سکتے ہو……؟

 جس کی معاشرت یہ ہو کہ قمیص میں دس دس پیوند لگے ہوں، کاندھے پرمشک رکھ کر غریب عورتوں کے ہاں پانی پھر آتا ہو، فرش خاک پر سو جاتا ہو، بازاروں میں پھرتا ہو…… جہان جاتا ہو جریدہ و تنہا جاتا ہو، اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتا ہو، دور دربار، نقیب و چاؤش، حشم وخدم کے نام سے آشنا نہ ہو، اور پھر یہ رعب و ادب ہو کر عرب و عجم اس کے نام سے لرزتے ہوں اور جس طرف رخ کرتا ہو زمین دہل جاتی ہو، سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج رکاب میں لے کر نکلتے تھے جب ان کا رعب قائم ہوتا تھا، عمر فاروقؓ کے ”سفر شام“ میں سواری کے اونٹ کے سوا اور کچھ نہ تھا چاروں طرف (شورو) غل پڑا تھا کہ ”مرکز عالم“ جنبش میں آگیا ہے……۔

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی شان و شوکت اور فتوحات اسلامی سے باطل قوتیں پریشان تھیں۔ 27 ذوالحجہ 23؁ھ کو آپؓ حسب معمول نماز فجر کیلئے مسجد میں تشریف لائے اور نماز شروع کروائی…… ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ ایک شخص ”ابو لولو فیروز مجوسی“ جو پہلے سے ہی ایک زہر آلود خنجر لئے مسجد کے محراب میں چھپا ہوا تھا اس نے خنجر کے تین وار آپؓ کے پیٹ پر کئے جس سے آپؓ کو کافی گہرے زخم آئے……۔ آپؓ بے ہوش ہو کر گر گئے…… اس دوران قاتل کو پکڑنے کی کوشش میں مزید صحابہ کرامؓ زخمی ہو گئے اور قاتل نے پکڑے جانے کے خوف سے فوری خودکشی کر لی……۔

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے زخم درست نہ ہوئے اور پانچویں روز ”یکم م

مزید :

ایڈیشن 1 -