عدالت کا نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کا حکم 

    عدالت کا نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کا حکم 

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج اسد علی نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گرفتار میرشکیل الرحمن کے کیس میں شریک ملزم سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا،فاضل جج نے دوران سماعت تعمیل کنندہ کومخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ عدالت میں صرف صفحے کالے کر کے نہ لے کر آیا کریں،عدالت نے آئندہ سماعت پرسینئر پولیس افسر کوحکم دیاہے کہ وہ میاں نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں،عدالت نے میرشکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 3ستمبرتک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی جبکہ ہمایوں فیض رسول کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی ہے۔ نیب کی طرف سے سپیشل پراسکیوٹر حارث قریشی جبکہ میرشکیل الرحمن کی طرف سے چودھری محمد نواز ایڈووکیٹ،ملزم ہمایوں فیض رسول اورملزم میاں بشیر احمد کی طرف سے میاں الیاس ایڈووکیٹ پیش ہوئے،گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو میر شکیل الرحمن کو ہسپتال سے لاکر عدالت میں پیش کیا گیا،میاں نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل رپورٹ بھی تعمیل کنندہ عاصم نے عدالت میں پیش کی،تعمیل کنندہ کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ میاں نواز شریف اپنے پتہ پر موجود نہیں، فاضل جج نے استفسار کیا آپ کس ایڈریس پر گئے؟ جس پر تعمیل کنندہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ 180 ایچ ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف کے گھر گئے تھے،فاضل جج نے کہا کہ کیاآپ کو ان کا کوئی اور ایڈریس معلوم نہیں ہے؟ تعمیل کنندہ نے کہا کہ رائیونڈ کے ایڈریس پر جانا تھا،جس پر فاضل جج نے کہا کہ میاں نواز شریف کے رائیونڈ والے ایڈریس پر کس نے جانا تھا؟ عدالت میں صرف صفحے کالے کر کے نہ لے کر آیا کریں، فاضل جج نے حکم دیاکہ آئندہ تاریخ سماعت پر سینئر افسر کو تعمیل کے لئے بھجیں، اس کیس میں نیب کی طرف سے جنگ اور جیو گروپے کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن، نواز شریف، سابق ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں فیض رسول اور بشیراحمد کے خلاف عدالت میں ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے،نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق میر شکیل الرحمن نے اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف کی ملی بھگت سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ایگزمپشن پر حاصل کئے، ملزم کا ایگزمپشن پر ایک ہی علاقے میں پلاٹ حاصل کرنا ایگزمپشن پالیسی 1986ء کی خلاف ورزی ہے، میر شکیل الرحمن نے میاں نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کر لیں، میر شکیل الرحمن نے اپنا جرم چھپانے کے لئے پلاٹ اپنی اہلیہ اور کمسن بچوں کے نام پر بھی منتقل کروا لئے ہیں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت مذکورہ بالاحکم کے ساتھ آئندہ تاریخ پیشی تک ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ آخر -