کورونا، دنیا نے عمران خان کے وژن کو مانا: صدر علوی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدارتی خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان کا شدید احتجاج، شور شرابہ، واک آؤٹ 

کورونا، دنیا نے عمران خان کے وژن کو مانا: صدر علوی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا، اس دوران اپوزیشن نے احتجاج کیا تمام جماعتوں نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس حکومت سے پہلے کرپشن کا بازار گرم تھا، معیشت زوال پذیر تھی۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  آپ نے کورونا بحران میں وڑن اختیار کیا، غریب کو بھوکا مرنے نہیں دیں گے، ساری دنیا جو کررہی تھی آپ نے اس کے برعکس کام کیا، کوئی تو وجہ ہوگی کہ پاکستان میں کورونا تھم گیا۔پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکتن ی نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انشاء اللہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا، ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شور شرابہ اور احتجاج شروع کر دیا، خواجہ آصف سمیت دیگر اپوزیشن اراکین اپنی نششتوں پر کھڑے ہو گئے۔ جمعیت علمائے اسلام، پی کے میپ، پیپلز پارٹی اور ن لیگی ارکان واک آؤٹ کرکے ایوان سے چلے گئے۔اس پر صدر مملکت نے کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں سمجھتا تھا کہ اس مرتبہ خاموشی سے تقریر سنیں گے۔ تنقید کے بجائے نوجوان قوم کی ہمت بندھانی چاہیے۔ حکومت نے کورونا وائرس کا بڑے اچھے انداز میں مقابلہ کیا گیا۔پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اس کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں بدھ کو 70 ہزار جبکہ پاکستان میں صرف 600 کیسز تھے۔ حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کرکے اچھا کام کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ لوگوں نے بہت ڈرایا کہ ہسپتالوں میں جگہ نہیں رہے گی، سخت لاک ڈاؤن کا بڑا پریشر تھا لیکن حکومت نے یہ ویژن  اختیار کیا کہ غریب کو بھوکا نہیں مرنے دیں گے۔ 57 ممالک میں نماز تراویح بند جبکہ پاکستان میں جاری رہی، غریب آدمیوں کا خیال رکھا گیا، اس لئے اللہ نے بھی مدد کی۔ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ کورونا کے دوران کئے گئے اقدات پر حکومت تعریف کی مستحق ہے۔ جاپان اور فلپائن نے کہا کہ کورونا پالیسی پاکستان سے سیکھی جا سکتی ہے، ہمیں یہ سن کر فخر ہوا۔ اس کے علاوہ علمائے کرام، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل بھی تعریف کے مستحق ہیں۔ این سی او سی کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جس نے بہت پریشر برداشت کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یکساں نظام تعلیم قوم کو متحد کرے گا۔ موجودہ حکومت نے ایک سال میں ہائر ایجوکیشن میں پچاس ہزار سکالرشپ دیئے جبکہ پچھلے سترہ سال میں صرف23 ہزار دی گئی تھیں۔ملک کی معاشی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ایم ایل ون بہت بڑا گیم چینجر ہوگا اور دیامربھاشا ڈیم بننے سے ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیراتی پیکج بھی بہت اہم ہے۔ تجارتی خسارہ کم ہونا بہت بڑی بات ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے بارہ ارب ڈالر ہیں۔ محصولات ساڑھے تین فیصد بڑھے۔ موڈیز اور فیچ نے بھی پاکستان کے معاشی حالات کو بہتر قرار دیا۔ یہ اعشاریے بہتری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ کشمیر پالیسی پر وزیراعظم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جنرل اسمبلی میں تقریر اور اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ بھارت نے  جنیوا کنونشن، شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ قراردادوں کی خلاف ورزی کی۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔ بھارت میں تناؤ ہمارے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔ انشاء  اللہ جلد کشمیر آزاد ہوگا، ہندوتوا فاشسٹ حکومت چل نہیں سکتی۔

صدر مملکت

مزید :

صفحہ اول -