سربراہ نیشنل پارٹی سینیٹر میر حاصل بزنجو انتقال کر گئے، نماز جنازہ آج شام ضلع خضدار میں ادا کی جائیگی 

سربراہ نیشنل پارٹی سینیٹر میر حاصل بزنجو انتقال کر گئے، نماز جنازہ آج شام ...

  

کوئٹہ(بیورورپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سربراہ نیشنل پارٹی، سابق وفاقی وزیر،سینیٹر میر حاصل خان بزنجو انتقال کرگئے۔ترجمان نیشنل پارٹی جان بلیدی کے مطابق  میر حاصل خان بزنجو گذشتہ کچھ مہینوں سے پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے،انہیں طبیعت کی خرابی کے باعث نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں جمعرات کے روز انکا انتقال ہو گیا،حاصل بزنجو کی میت آج صبح کراچی سے لے کرروانہ ہوں گے، نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو کو آج ہی خضدار میں ان کے آبائی گاؤں نال میں سپرد خاک کیا جائیگا، نما ز جنازہ آج شام 5 بجے نال میں ہی ادا کی جائیگی، ترجمان نیشنل پارٹی کے مطابق، میر حاصل بزنجو نے سوگواران میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑے ہیں۔صدر مملکت، وزیر ا عظم سمیت تمام سیاسی و عسکری قیادت نے میر حاصل خان بزنجو کے انتقال پر انتہائی دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرنے کی دعا کی۔انہوں نے مرحوم کو ان کی سیاسی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ان کے انتقال سے صوبہ بلوچستان ہی نہیں ملک بھی ایک مخلص و محب وطن رہنماء سے محروم ہو گیا ہے، ان کا خلاء تادیر پورا نہ ہو سکے گا۔صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی اوروزیراعظم عمران خان کا میرحاصل بزنجوکے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا تھا حاصل بز نجو کی سیاسی اورقومی خدمات کوہمیشہ یادرکھاجائے گا۔صدرپاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کا کہنا تھا میر حاصل خان بزنجو نظریاتی، سیاسی و تاریخی شعور رکھنے اور پاکستان سے شدید محبت کرنیوالے جمہوریت پسند رہنما تھے۔ان کی وفات وفاق پاکستان، جمہوریت اور ملک و قوم کیلئے بہت بڑا نقصان ہے،وہ بلوچستان کے عوام کی ایک مقبول اور توانا آواز تھے،ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں کیا جا سکتا،چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا اپنے تعزیتی پیغام میں کہنا تھا انکا انتقال میرے لئے باعثِ صدمہ ہے،پاکستان ایک معتدل مزاج، بہادر اور دوراندیش رہنما سے محروم ہو گیا۔ میر حاصل بزنجو ایک عظیم باپ کے قابلِ فخر فرزند تھے، اپنے والد کی طرح زندگی بھر جدوجہد میں رہے۔ وہ جمہوریت کے وکیل اور بلوچستان کے عوام سے ہونیوالی ناانصافیوں کے خلاف توانا آوازتھے۔ میر حاصل بزنجو اپنی طویل و شاندار جدوجہد کے باعث سیاسی کارکنان کی دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔سربراہ  جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے کہا میر حاصل بزنجو بیماری کے دوران وہ ہسپتال سے بھی فعال رہ کر ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کر تے رہے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم میر حاصل خان بزنجو اہم قومی رہنما تھے جنہوں نے نہ صرف بلوچستان کے حقوق بلکہ قومی یکجہتی کیلئے نمایا ں کردار ادا کیا ان کی سیاسی اور جمہوری جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔وہ ایک انتہائی شفیق انسان تھے اور اپنی سیاسی بصیرت کے باعث سب کو ساتھ لے کر چلنے کے قائل تھے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا،قائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم،قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ محمد ظفرالحق اور دیگر سیاسی قائد ین نے بھی سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا مرحوم ایک اصول پرست اور مدبر سیاستدان تھے،انہوں نے ایوان میں پسماندہ طبقات کے حقوق کیلئے آواز بلند کی،اللہ تعالیٰ سے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر کی دعا کی۔

حاصل بزنجو انتقال

 کراچی (خصوصی رپورٹ) نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کا شمار بلوچستان کے معتبرسیاستدانوں میں ہوتا تھا۔میرحاصل خان چیئرمین سینیٹ کیلئے حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار بھی رہے لیکن وہ انتخابات ہار گئے۔میرحاصل خان بزنجو کے والد میرغوث بخش بزنجو قوم پرست رہنما تھے جو بلوچستان کے پہلے گورنر تھے۔میر حاصل بزنجو 3فروری 1958کو خضدار کی تحصیل نال میں پیدا ہوئے، بچپن سے ہی اپنے والد کیساتھ ساتھ مختلف سیاسی اجتماعات میں شرکت کرتے رہے۔ سیاست کا باقاعد عملی آغاز اس وقت کیا جب وہ وہ چھٹی جماعت کے طالب علم تھے، اس مقصد کیلئے انہوں نے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن(بی ایس او)کا پلیٹ فارم منتخب کیا۔1975 ء میں اسلامیہ ہائی سکول کوئٹہ سے میٹرک پاس کرنے کے بعد انہوں نے کراچی یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے انہوں نے 1982 میں فلسفے کا امتحان پاس کیا، 1988 میں وہ رشتہ ازد و ا ج سے منسلک ہوئے۔1989 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد میر حاصل بزنجو نے باقاعدہ طور پر ملکی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور پاکستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا حصہ بن گئے۔ 1990 میں پاکستان نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار انتخابات میں اور قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔1993 کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے لیے جدوجہد کے دوران وہ کئی بار جیل کے سلاخوں کے پیچھے گئے۔ میر حاصل بزنجو زندگی میں پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں گرفتار ہوئے، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے علاقائی دفتر کو جلایا ہے۔میر حاصل بزنجو تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ بی ایس او کے متحرک طالبعلم تھے، دو بار وہ کراچی یونیورسٹی سے گرفتار ہوئے۔سال 1980 میں وہ چار مہینے کیلئے اے آر ڈی تحریک کے دوران کراچی سے گرفتار ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے۔میر حاصل بزنجو کی جماعت نیشنل پارٹی نے 2018 میں عام انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ قومی و صوبائی اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکے۔1997 میں وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔ اسی سال وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو چھوڑ کر منحرف اراکین کے گروپ بلوچستان ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہو گئے۔2003 میں انہوں نے نئی سیاسی جماعت نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ 2008 میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور 2009 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مدد سے بلوچستان میں نیشنل پارٹی اقتدار میں آئی اور یوں اس کی قیادت نے قومی توجہ حاصل کی، میر حاصل بزنجو 2014 میں اس کے صدر بنے۔2015 میں وہ دوبارہ سینیٹر منتخب ہوئے، اس دوران وہ وفاقی وزیر برائے بندرگاہ و جہاز رانی بھی رہے۔میر حاصل بزنجو کو 2018 کے عام انتخابات میں شکست ہوئی۔

 بزنجو سوانح

مزید :

صفحہ اول -