جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کی ایف آئی اے تحقیقات روکنے کی استدعا مسترد

جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کی ایف آئی اے تحقیقات روکنے کی استدعا مسترد

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں ایف آئی اے کی تحقیقات کو جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز لمیٹڈ نے چیلنج کردیا،اس سلسلے میں جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے شیئر ہولڈرقاسم حسین صفدر،چیف فنانشل آفیسرمحمد رفیق اور سینئر جنرل منیجر اکاؤنٹس علی سعیدسمیت 7افراد کی درخواست پر مسٹر جسٹس محمد وحید خان نے ایف آئی اے حکام سے 14ستمبر تک رپورٹ طلب کرلی،تاہم فاضل جج نے ایف آئی اے کی تحقیقات کیخلاف فوری حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کردیا، درخواست گزارو ں کی طرف سے استدعا کی گئی کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک ایف آئی اے کوتحقیقات سے روکاجائے،فاضل جج نے یہ استدعا مستردکرتے ہوئے قرا ر دیا عبوری حکم امتناعی کا فیصلہ مدعاعلیہان کی طرف سے رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔درخواست میں ایس ای سی پی، وزارت داخلہ، مرزا شہزاد اکبر، واجد ضیاء سمیت دیگر فریق بنایا گیا ہے، درخوا ست گزا ر وں کا موقف ہے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کرنے کا حکم دیااور90 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی، شوگر انکوائری رپورٹ کیلئے نام نہاد جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، چینی انکوائری تحقیقات کیلئے کارپوریٹ فراڈ کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا،وفاقی کابینہ نے شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں شوگر ملز کیخلاف کارروائی کی منظوری دی جبکہ وفاقی کابینہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی فرد کو مجرم ٹھہرائے، وزیراعظم کے معاون خصوصی نے غیر قانونی طور پر ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو درخواست گزار کمپنی کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی، سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری رپورٹ پر شوگر ملز کیخلاف تحقیقات میں طلبی نوٹسز کو کالعدم کیا ہے، جے آئی ٹی کا جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز سے ریکارڈ طلبی کا نوٹس بھی غیر قانونی ہے، کمپنیز ایکٹ 2017ء اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشن ایکٹ 2015ء کے تحت ایس ای سی پی کے ریفرنس پر ہی ایف آئی اے تحقیقات کر سکتا ہے، ایس ای سی پی نے جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کیخلاف کوئی ریفرنس ایف آئی اے کو نہیں بھجوایا، وفا قی حکومت کی ہدایت پر شوگرملزکیخلاف ایف آئی اے کی تحقیقات غیر جانبدار نہیں ہو سکتیں، شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت اور نہ ہی اسکو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے، وفاقی حکومت نے کارپوریٹ فراڈ کے الزام میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ محض قیاس آرائیوں اور اندازوں پر مشتمل ہے، ایف آئی اے کا طلبی نوٹس جاری کرنا آرٹیکل 4، 5، 10اے اور 25 کی خلاف ورزی ہے، مرزا شہزاد اکبر کی ہدایات پر ایف آئی اے میں شروع کی گئی تحقیقات اور وفاقی کابینہ کی طرف سے شوگر انکوائر ی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کی منظوری کوغیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے،درخواست میں کیس کے حتمی فیصلے تک وفاقی حکومت اورایف آئی اے کے درخواست گزار کیخلاف کارروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

 استدعا مسترد

مزید :

صفحہ اول -