کاروباری سرگرمیوں کیلئے پرامن ماحول کی فراہمی پولیس کے اولین فرائض میں شامل: آئی جی 

کاروباری سرگرمیوں کیلئے پرامن ماحول کی فراہمی پولیس کے اولین فرائض میں ...

  

 لا ہو ر (کر ائم رپو رٹر) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کیلئے پرامن اور سازگار ماحول فراہم کرنا پنجاب پولیس کے اولین فرائض میں شامل ہے اور اس سلسلے میں بزنس کمیونٹی اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے امن و امان کی صورت حال کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں کمیونٹی پولیسنگ کے ذریعے پولیس اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجر برادری معاشی سرگرمیوں سے ملکی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے لہذا انکی سہولت اور آسانی کیلئے لاہور چیمبر میں خدمت مرکز قائم کردیا گیا ہے تاکہ کاروباری معاملات کیلئے درکار ضروری دستاویزات کے حصول کیلئے انہیں کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے  انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی،ماڈل پولیس اسٹیشن سمیت دیگر پراجیکٹس کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بزنس کمیونٹی کا تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے  انہوں نے مزید کہا کہ استبنول پولیس کے زیر استعمال ایک تہائی گاڑیاں ترکی کی بزنس کمیونٹی  کی فراہم کردہ ہیں ہمیں گاڑیاں نہیں صرف یہ رویہ ہی مل جائے تو نہ صرف پولیس کارکردگی بہتر سے بہتر ہو گی بلکہ ریاست بھی مضبوط ہو گی۔۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر خطاب اور میڈیا نمائندگان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا  اس موقع پر سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان، سی ٹی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ حماد عابد سمیت دیگر پولیس افسران اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے لاہور چیمبر میں خدمت مرکز قائم کرنے پر آئی جی پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی نسبت تاجر برادری خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہے اور ہمارے کاروباری معاملات بغیر کسی پریشانی عمدگی سے سر انجام پارہے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی اور کورونا وباء کے خلاف جنگ میں پنجاب پولیس کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کے ہر وقت میں پولیس افسران و اہلکاروں نے فرنٹ لائن سولجرز کا کردار ادا کیا ہے اور ملکی امن و استحکام کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرکے قوم کے مستقبل کو محفوظ بنایا ہے جس پر پولیس فورس ستائش اور تحسین کے قابل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل پولیس اسٹیشنز کے قیام کیلئے بزنس کمیونٹی ہر ممکن تعاون کرے گی اور جدید پولیسنگ کے پراجیکٹس کو ہر ممکن سپورٹ اور اونرشپ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کی مارکیٹوں میں تاجر کمیونٹی کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ کا جدید سرویلنس نظام قائم کیا جائے گا جسے سیف سٹی لاہور کے مرکزی مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ انٹی گریڈ بھی کیا جائے گا تاکہ نگرانی اور جرائم کی بیخ کنی کا عمل بہتر سے بہتر ہوسکے۔سینئر وائس پریذیڈنٹ علی حسام اصغر نے تاجر برادری کے مسائل آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مرید کے اور شیخوپورہ میں جرائم پیشہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور پولیس پٹرولنگ کو بہتر بنانے کے لئے ڈی پی او شیخوپورہ کو احکامات جاری کئے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹوں میں پیشہ ور بھکاری مافیا کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ان سے چھٹکارے کیلئے اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔  نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد نے کہا کہ شہر میں مارکیٹوں والی مصروف شاہرات پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے پولیس کے اقدامات قابل تعریف ہیں  انہوں نے مزید کہا کہ پولیس و تاجروں کے درمیان کوارڈی نیشن مزید بہتر بنانے کیلئے ایک فعال کوآرڈینیشن کمیٹی کا قیام عمل میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے ہوائی فائرنگ اور سٹریٹ کرائم  کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات پر زور دیا۔ آئی جی پنجاب نے چیمبر آف کامرس کے عہدے داروں کویقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے  ہر ممکن اقدامات  کئے جائیں گے۔ اس موقع ہر میڈیا نمائندگان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ معاشرے میں امن و امان کے قیام کو برقرار رکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے اور پولیس کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے پولیس غیر جانبداری کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے جو قانون کو ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف مقام و مرتبہ کا لحاظ کئے بغیر قانونی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کی پتنگ بازی کے واقعات کی روک تھام کیلئے پولیس کی بروقت کاروائیاں جاری ہیں اور رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں 9 ہزار سے زائد مقدمات درج کئے گئے اور پتنگ و ڈور کی تیاری، خریدو فروخت اور استعمال کرنے والوں کے خلاف سزاؤں میں اضافے کیلئے پولیس نے حکومت کو درخواست بھی کی ہے لیکن اس خطرناک کھیل کے خاتمے کیلئے تمام شعبوں کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ شہریوں کی قیمتی جانوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جاسکے

مزید :

علاقائی -