کیا دوسال بعد خواب شرمندہئ تعبیر ہو سکیں گے؟

کیا دوسال بعد خواب شرمندہئ تعبیر ہو سکیں گے؟
 کیا دوسال بعد خواب شرمندہئ تعبیر ہو سکیں گے؟

  

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دوسال مکمل کر لئے ہیں، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا بھی بڑھ چڑھ کر وزیراعظم کی تعریفیں کرتے اور ایک دوسرے کو ستائش باہمی کے پیغامات دیتے نظر آئے۔ تبدیلی سرکار نے دو سالہ کارکردگی کا خلاصہ بھی جاری کیا ہے، منتشر اپوزیشن کی جماعتوں نے انفرادی طور پر کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اپوزیشن لیڈر بھی کھل کر تنقید کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مَیں نے گزشتہ کالم کا عنوان ”عمران خان کا پہلا چھکا“ کے نام سے تحریک کیا تو بہت سے احباب نے مثبت اور منفی ردعمل دیا،مَیں اپنے موقف پر آج بھی قائم ہوں،5اگست کے اقدام سے کشمیر کا مسئلہ ایک دفعہ پھر پوری دُنیا کے سامنے اُجاگر ہوا ہے، حکومت نے12سال سے بھارتی جیل میں قید بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز دے کر اپنی باتوں کو سچ ثابت کر دکھایا ہے، اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے، دو سال میں عمران خان نے جس نداز میں مافیا کے گرد گھیرا تنگ کیا ہے، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بنائے جانے والے مقدمات کی تفصیل اگر عمران خان قوم کے سامنے رکھ دیتے کہ کتنے مقدمات دو سال میں تحریک انصاف کی حکومت نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)، مسلم لیگ(ق)، اے این پی یا دیگر جماعتوں کے خلاف بنائے ہیں، عوام کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جاتی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) عمران خان کے خلاف محاذ بنانے کے لئے سرگرم اور مولانا فضل الرحمن کے غبارے سے ہوا بھی نکل جاتی، نام نہاد تجزیہ نگاروں کے اس موقف سے بھی متفق نہیں ہوں، ملک میں حکومت عمران خان کی نہیں ہے، فوج کی ہے۔

 وزیراعظم عمران خان اگر الیکشن سے پہلے کی چند تقاریر کے مخصوص حصے ہی ایک دفعہ سن لیں تو انہیں سوشل میڈیا میں جاری پراپیگنڈے کا جواب دینے میں آسانی ہو جائے، سب سے بڑا نعرہ تبدیلی کا نعرہ تھا،90دن میں کرپشن کے خاتمے کا دعویٰ، پروٹول کا خاتمہ، وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانا، گورنر ہاؤسز کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنا، کابینہ کو مختصر رکھنا، پولیس،عدلیہ کا نظام درست کرنا سمیت ایک درجن سے زائد ایسے نعرے اور دعوے ہیں، جن پر وزیراعظم کو کسی سے رہنمائی لینے کی ضرورت نہیں تھی، دو سالہ کارکردگی کتنی اچھی اور کتنی بُری رہی اس کا فیصلہ عوام کیسے کریں گے؟ عوام کو وزیراعظم کا ہر ایکشن ری ایکشن کی صورت میں ملا ہے۔ وزیراعظم نے کہا آٹا مہنگا نہیں ہونے دوں گا، آٹا جو معمول میں مل رہا تھا مارکیٹ میں دستیاب نہ رہا، اب80 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

یہی حال چینی کا ہوا۔ وزیراعظم نے کہا چینی مہنگی نہیں ہونے دوں گا، چینی نہ صرف110روپے ہو گئی، مارکیٹ سے بھی غائب ہو گئی، دو مثالیں دی ہیں ایسی ایک درجن مثالیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔وزیراعظم نے سستی کرنے کا حکم دیا اور  وہ چیز کئی گنا مہنگی ہو  چکی ہیں، یہی حالت یوٹیلٹی بلز کی ہوئی ہے،بجلی اور گیس کی قیمتیں آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے مطابق بڑھانے کے لئے ایسی ایسی سلیب بنائی گئی ہیں، غریب آدمی کے ساتھ متوسط خاندان بھی سر پکڑے بیٹھے ہیں۔ دو سال میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ریکارڈ پر ہے۔

تھانہ کلچر کی تبدیلی جلد انصاف کی اصلاحات کی توقعات سب کے سب ابھی تک خواب ہی ہیں، دو سال میں جس طرح کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا دن منا کر اہل ِ پاکستان کو خوش کیا گیا اسی طرح وزیراعظم نے دوسرا چھکا دوسالہ کارکردگی بتانے، کے انٹرویو میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر کے مارا ہے اس سے اُمت مسلمہ کو تقویت ملی ہے۔ عالمی تناظر میں یہ معمولی بات نہیں ہے، جناب وزیراعظم پاکستانی عوام بڑی سادہ ہے ماضی کو  جلد بھول جانے والی ہے۔ آپ کی نیت ٹھیک ہے تو خود اللہ برکت دے گا۔

آپ زرداری کو این آرا و دیں یا نواز شریف کو، عوام کو اس کی فکر نہیں ہے، نہ عوام کو اس سے غرض ہے کون کون سا لیڈر جیل کے اندر ہے،عوام تو تب خوش ہوں گے جب لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس آئے گی، عوام کو کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کرتارپورکیوں بنا، دبئی کے بعد اسلام آباد میں مندر کون بنا رہا ہے، عوام کو اس سے بھی دلچسپی نہیں ہے سینما گھر، تھیٹر کھل گئے ہیں اور سکول بند ہیں، عوام تواب نیند میں ڈرنے لگی ہے یہ کیسا خوفناک قیامت کا دور گزر رہا ہے، ان کی زندگی میں حرمین، شریفین کے دروازے بند اور خانہ کعبہ کا طواف اب تک رُکا ہوا ہے۔ جناب وزیراعظم! قوم کورونا کے خلاف آپ کی جدوجہد کو قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے، آپ کا اپنے آپ کو کرپشن اور سکینڈل  سے بچانا بھی خوش آئند ہے، دو سال میں آپ کو اپنے ارکان اسمبلی کی کرپشن یا مافیا کا حصہ بننے کا ثبوت نہیں ملا اب دیکھ لیجئے جناب وزیراعظم آپ کے اہم ترین وزیر اسد عمر کا کہنا ہے مشکل وقت گزر گیا، دو سال پریکٹس کی ہے اب آپ بھرپور اننگز کھیلنے کے لئے تیار ہیں میری آپ سے درخواست ہے آپ خود قوم سے خطاب کریں اور دو سالہ کارکردگی بھی بتائیں، جو نہیں کر سکے اس کا اعتراف کریں اور آئندہ تین سال کے اہداف قوم کو بتائیں اور پی ٹی آئی ذمہ داران کی آپس کی کھینچا ثانی کا نوٹس لیں،بھرے بازار میں ڈھول پیٹنے کی بجائے بند کمرے میں اپنے اندرونی مسائل حل کریں۔

دو سال میں کیا کھویا کیا پایا، طویل بحث ہے، عوام آپ کی حکومت کی دو سالہ کارکردگی سے اگر خوش نہیں ہیں تو ناخوش بھی نہیں، آپ کی نئی اور فائنل اننگز میں آپ کے 24سال تک دکھائے گئے خوابوں کی تعبیر دیکھنے کی خواہاں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -