تبدیلی سرکار فلاپ، چینی بحران برقرار، انتظامیہ بھی غائب

   تبدیلی سرکار فلاپ، چینی بحران برقرار، انتظامیہ بھی غائب

  

 وہاڑی،ماچھیوال، میلسی، خانپور(بیور و رپورٹ، نامہ نگار، سپیشل رپورٹر)حکومت کے دوسال مکمل ہونے کے باوجوداب تک تبدیلی نہ آسکی۔آٹاکے بحران میں اضافہ ہونے لگا تفصیل کے مطابق ضلعی انتظامیہ اورمحکمہ فوڈکی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ضلع(بقیہ نمبر45صفحہ7پر)

 بھرمیں آٹانایاب ہوگیاہے انتظامیہ کی غفلت اورلاپرواہی کی وجہ سے سبزیوں اورپھلوں کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہواہے غریب مزدورطبقہ دووقت کی روٹی دال سبزی کوترس گئے ہیں ضلع کے مختلف علاقوں میں عوام حکومتی ناقص حکمت عملی کے خلاف سراپااحتجاج بنے ہوئے ہیں اورمظاہرین نے مہنگائی پرکنٹرول کرنے اورآٹاکے بحران کے خاتمہ کامطالبہ کیاہے اسی طرح آٹاکابحران بھی شدت اختیارکرگیاہے اورآٹے کی قلت خوفناک صورتحال اختیارکرتی جارہی ہے آٹاچکی مالکان نے بھی گندم مہنگی ملنے کابہانہ بناکرآٹاکی قیمت میں اضافہ کردیاہے جبکہ ملوں کی طرف سے بھی آٹاضرورت سے کم مقدارمیں سپلائی ہورہاہے حکومت پنجاب اورضلعی انتظامیہ نہ آٹاکے بحران کاخاتمہ کرنے میں کامیاب ہورہی ہے اورنہ ہی سبزیوں اورپھلوں کی قیمتوں پرکنٹرول کررہی ہے شہریوں محمدنواز،محمداسلم، محمدافضل، ساجد حسین، تنویر احمد،تجمل رضا،شکیل احمدغلام سرور، ضیاء الرحمان، محمد نوید،زاہدچوہدری ودیگرنے کہاہے کہ حکومت مہنگائی پرقابوپانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے جبکہ آٹاکے بحران کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں آئے روزاضافہ ہوتاجارہاہے ان کاکہناتھاکہ وزیراعظم عمران خان غیرضروری بیانات چھوڑکرمہنگائی کے خاتمہ اورآٹاوچینی کے بحران سے ملک وقوم کونکالنے کی طرف توجہ دیں اورآئندہ دنوں میں آٹاکاجوخطرناک بحران سامنے نظرآرہاہے اس سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کریں  پنجاب بھر کی طرح ماچھیوال، پکھی موڑ، اڈا 37 پھاٹک، میاں پکھی ظہیر نگر، جال سیال ودیگر علاقوں میں چینی کی قیمت کو پر لگ گئے جسکی اڑان آسمان پر جا پہنچی صارفین پریشان حکومتی دعوے کے مطابق 70 روپے کلوچینی خریدنے کے لیے دربدر یوٹیلیٹی سٹور پرچینی کی سپلائی کم ہونے سے  عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوکاندار حضرات کے پاس وافر مقدار میں ہونے کے باوجود حکومت کی آنکھوں دہول جھونک کر عوام کو لوٹنے میں مصروف ضلعی انتظامیہ سستے داموں اشیاء خوردونوش وچینی عوام کو مہیا کرنے میں بری طرح ناکام ہے میلسی شہر اور مضافات میں آٹے کا بحران بدستورجاری ہے، دو وقت کی روٹی کے حصول اور اپنے خاندان کے پیٹ پالنے کیلئے دیہاڑی دار طبقہ آٹے کی تلاش کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے لیکن فلور ملز مالکان نے آٹا سیلزپوائنٹ اور آٹے کے کوٹہ کو کم کردیا حکومت اور انتظامیہ کے تمام تر دعووں کے باوجود شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی آٹے کی قلت بدستور موجود ہے یہ امر بھی قابل ذکر ہے محکمہ فوڈکی جانب ملنے والا گندم کا کوٹہ پوراملنے کے باوجود آٹے کی قلت پیدا ہو چکی ہے دوسری طرف حکومتی ادارے بھی اس بحران میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اس سلسلے میں مختلف افراد کا کہنا ہے کہ متعلقہ سرکاری ادارے،اور فلور ملز مالکان عوام سے مخلص نہیں۔اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں آٹا، چینی، گھی غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے حکومت زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے غریب عوام کو ریلیف فراہم کرے موجودہ حکومت اگر غریب عوام کو ریلیف فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم اشیائے خوردونوش کی قیمتیں 2 سال پہلے والی حالت پر واپس لائی جائیں جب غریب بھوک سے مر رہے ہیں اس وقت حکومت کی جانب سے 2 سال کی بہترین کارکردگی کا ڈھنڈھورا پیٹا جا رہا ہے حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے بنائی جاتی ہیں نہ کہ تکلیف دینے کے لیے، ہمارے ملک کا غریب ہی بدترین حالات سے گزر رہا ہے تو ایسے قانون اور ایسی حکومت کا کیا فائدہ؟ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے ایم پی اے حاجی محمد ارشد جاوید نے اپنی رہائش گاہ پر ن لیگی رہنماؤں چوہدری بلال ارشد، شیخ وقار الدین، شیخ عماد الدین، حاجی محمد مراد خان رند، اقبال صادق بلوچ، شیخ ذیشان علی، محمد آصف حنیف و عمائدین علاقہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کرایوں کی مد میں اضافہ ہو چکا ہے مسلسل کرائے بڑھنے کے باعث دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی از خود بڑھا دی گئی ہیں۔

غائب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -