سابق ڈپٹی کمشنر کا بیٹا اغواء، کیس  کی سماعت26اگست تک ملتوی

  سابق ڈپٹی کمشنر کا بیٹا اغواء، کیس  کی سماعت26اگست تک ملتوی

  

 ملتان (وقائع نگار)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر دو ملتان نے سابق ڈپٹی کمشنر کے بیٹے کو تاوان کے لیے اغواء  کرنے کے مقدمہ میں ملوث 13 ملزمان(بقیہ نمبر20صفحہ6پر)

 کے خلاف کیس کی سماعت 26 اگست تک مزید کارروائی کے لیے ملتوی کردی ہے۔قبل ازیں فاضل عدالت میں پولیس تھانہ چہلیک کے مطابق مدعی سابق ڈپٹی کمشنر محمد منیر بدر نے 14 اکتوبر 2015 کو مقدمہ درج کرایا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ اسکے بیٹے مہر منیر کو   ظہیرالدین، محمد مبشر،رانا جہانزیب راجپوت عرف ٹیپو، احتشام علی، محمد یسین ناگرے،سابق ایس ایچ او میاں خلیل احمد، سابق سب انسپکٹرز عابد رسول اور اصغر علی، محمد مدثر چوہدری، ناصر علی ناگرہ،  میاں فرزند علی گوہر،زاہد پٹھان، یاسمین احمد نے رقم کے لین دین کے تنازعہ پر اغواء  کیا اور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے جو کاروباری شراکت داری میں لگے ہوئے تھے وہ ہتھیا کر بیٹے کو رہا کیا گیا اب بیٹا بااثر ملزمان کے خوف سے بیرون ملک آسٹریلیا رہائش پذیر ہوگیا ہے۔ جس کا بذریعہ سکائپ بیان ریکارڈ کیا جاسکتا ہے اور متعلقہ اداروں ہوم ڈیپارٹمنٹ سمیت سفارت خانوں سے مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس میں ملزم ظہیر الدین علیزئی نے اپنی مصروفیات سے متعلق درخواست دیکر حاضری سے استثنیٰ لے رکھی ہے اور خاتون ملزمہ یاسمین ضمانت کے بعد سے مقدمہ کی پیروی نہیں کررہی جسے اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

ملتوی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -