خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی آگاہی کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ

  خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی آگاہی کے حوالے سے ایک روزہ ...

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)چیف کمشنر رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن خیبر پختونخوا ساجد خان جدون کی زیر صدارت جمعرات کے روز ڈی سی کانفرنس روم میں خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 سے متعلق آگاہی اور اس قانون کے نتیجے میں عوام کو پبلک باڈیز سے متعلق درکار معلومات کی فراہمی کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں کمشنر رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن خیبر پختونخوا کمشنر ریاض خان داؤد زئی،ڈپٹی کمشنرسوات ثاقب رضا اسلم اور ضلع سوات کے تمام محکموں کے افسران و اہلکاران نے شرکت کی تربیتی ورکشاپ میں پی آئی اوز کو مذکورہ قانون کی افادیت اور اس کے تحت عام شہریوں کو پبلک باڈیز سے متعلق درکار معلومات کے حصول،شہریوں کی گزارشات اور مقررہ مدت میں درکار معلومات کی فراہمی کے حوالے سے تمام مراحل کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی واضح رہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کا نفاذ صوبے میں 18 اگست 2013 میں ہواجبکہ ملاکنڈ ڈویژن کو اس ایکٹ 2019 میں توسیع دی گئی ہے جس کی رو سے شہری اب سرکاری محکموں اور پبلک باڈیز سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں تربیتی سیشن سے چیف کمشنر رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن ساجد خان جدون کا کہنا تھاکہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ سے اب تمام پبلک باڈیز میں شہریوں سے متعلق کوئی بھی انفارمیشن چھپایا نہیں جاسکتی انہوں نے کہا کہ پبلک کے زمرے میں وہ تمام ادارے یامحکمے آتے ہیں جو پبلک فنڈ استعمال کرتے ہیں اور ان کے پاس تمام معلومات پبلک ریکارڈ ہے انہوں نے پی آئی اوز پر زور دیا کہ وہ اپنے محکمہ جات میں اس ایکٹ کے ذریعے شہریوں کو درکار معلومات وقت پر فراہم کیا کریں جس سے نہ صرف سرکاری ادارے مضبوط ہوں گے بلکہ گڈ گورننس،شفافیت،عوام کو اداروں کی جوابدہی میں مزید بہتری آئے گی انہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت شہریوں کی درخواستوں پر عملدرآمد تمام پبلک باڈیز کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کسی بھی طرح کی لیت ولعل کے نتیجے میں ایکٹ کے تحت ذمہ دار وں کیخلاف قانونی کاروائی اور جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے بنیادی مقاصد میں کرپشن کا خاتمہ،طرز حکمرانی کی بہتری،سرکاری حکام اور اہلکاروں کو جوابدہ بنانا،شہریوں اور ریاست کے مابین اعتماد سازی پیدا کر نا،شہریوں کو باوقار بنانااور گورننس کے عمل میں شہریوں کے اشتراک کو یقینی بنانا جیسے عوامل شامل ہیں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ سے کمشنر آر ٹی آئی ریاض خان داؤدزئی نے ایکٹ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اس موقع پر چیف کمشنر رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن ساجد خان جدون نے تربیتی ورکشاپ کے بہترین انتظامات پر ڈپٹی کمشنرثاقب رضا اسلم کوشیلڈ بھی پیش کی ڈپٹی کمشنر سوات نے پی آئی اوز پر زور دیا کہ وہ شہریوں کی گزارشات پر درکار معلومات کی بروقت فراہمی یقینی بنائیں مذکورہ قانون محکمہ جات میں گڈ گورنس،احتساب اور شفافیت کی جانب ایک اہم قدم ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -