شعبہ اطلاعات کو مزید منظم بنانے کیلئے ماہانہ اجلاس منعقد کئے جائیں گے، سرداربابک

شعبہ اطلاعات کو مزید منظم بنانے کیلئے ماہانہ اجلاس منعقد کئے جائیں گے، ...

  

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ پارٹی کے شعبہ اطلاعات کو مزید مضبوط اور منظم بنانے کیلئے ماہانہ اجلاسوں کا انعقاد کیا جائیگا۔ باچاخان مرکز پشاور میں صوبے کے تمام انفارمیشن سیکرٹریز اور سوشل میڈیا کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سردارحسین بابک نے کہا کہ باچاخان کے پیروکاروں اور دیگر پارٹیوں کے کارکنان میں واضح فرق یہ ہے کہ بابا کے پیروکار ہر سطح پر عدم تشدد کے علمبردار ہیں، عہدیدار اورکارکنان سوشل میڈیا پر انتہائی ذمہ داری کامظاہرہ کریں اور ہر سوال کا جواب دلیل اور انتہائی مہذب زبان میں دینے کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ کی شائستگی پر خصوصی توجہ دیں۔ پارٹی اور پارٹی عہدیداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور نامناسب الفاظ کا جواب انتہائی مہذب اور شائستہ انداز و الفاظ میں دینے پر کاربند رہیں۔ صوبے کے تمام اضلاع کے اطلاعات کے ذمہ داران اپنے آپ کو ملکی و بین الاقوامی حالات سے باخبر رکھیں اور پارٹی فیصلوں و پالیسیوں کے مطابق پارٹی پیغام کو گھر گھر پہنچانے میں اپنی توانائیاں صرف کریں۔اس موقع پر صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور، صوبائی سیکرٹری مالیات مختیار خان اور صوبائی سیکرٹری ثقافت خادم حسین بھی موجود تھے۔ سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ آج سوشل میڈیا کا دور ہے، کارکنان مثالی کردار ادا کرنے کیلئے کسر نہ چھوڑیں۔ اطلاعات کے سیکرٹریز پارٹی کے اضلاع کی سطح پر ترجمان ہیں اور وہ پارٹی تنظیموں کی رہنمائی و مشاورت سے پارٹی پیغام کو آگے بڑھانے کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقت نے ہمیں بہترین موقع فراہم کردیا ہے کہ اپنے وسائل، حقوق اور مسائل کو اجاگر کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے۔ پختونوں کے وسائل اور ذرائع آمدن پر سارے ملک کو فائدہ ہورہا ہے لیکن بدقسمتی سے پختون کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ پختونوں کے وسائل پر اختیار 18ویں ترمیم میں یقینی ہوگیا ہے لیکن بدقسمتی سے ملک کے آئین پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور پختونوں کے حقوق کے حصول کو عملی بنانے کیلئے اے این پی ہر سطح پر وکالت اور نمائندگی کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کو اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے جمع ہوئے بغیر انکے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -