ایم سی بی بینک کا نصف سال کیلئے منافع 13.2 ارب رہا

  ایم سی بی بینک کا نصف سال کیلئے منافع 13.2 ارب رہا

  

]لاہور(پ ر) ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس  میاں محمد منشاء کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں 30 جون، 2020ء کو اختتام پذیر ہونے والی ششماہی کے دوران بینک کی کارکاردگی کا جائزہ لینے اور مختصراً عبوری مالیاتی گوشواروں کی منظوری کے سلسلے میں منعقد ہوا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کی تعمیل کرتے ہوئے، 30 جون، 2020 کو اختتام پذیر ہونے والی سہ ماہی کے لیے منافع منقسمہ دینے کا اعلان نہیں کیا۔ایم سی بی بینک نے نصف سال 2020 کے دوران کووڈ۔19 وبائی مرض کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا کی معاشی ترقی کو درپیش منفی اثرات کے چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے اپنے کاروبار کی رفتار کو تیز کیا۔ کووڈ۔19 وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد ایم سی بی بینک نے محفوظ ماحول میں اپنے صارفین کو مستقل اور بلا تعطل خدمات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستا ن نے وبائی مرض کے اثرات پر قابو پانے کے لیے بہت سے اقدامات، سود کی شرح میں کٹوتی، ویجز اور تنخواہوں کی مسلسل ادائیگی کے لیے ری فنانس سکیمیں، قرضوں کے بوجھ کے تناسب میں آسانی، مالی سہولیات کی بحالی /تنظیم نو وغیرہ، اُٹھائے ہیں۔بنیادی آمدنی میں اضافے کے ساتھ، ایم سی بی بینک نے 30 جون، 2020 کو اختتام پذیر ہونے والے نصف سال کے لیے سال بہ سال 24 فیصد بعد از ٹیکس منافع میں ترقی ریکارڈ کی گئی۔بینک کا غیرمتناسب بعد از ٹیکس منافع گذشتہ سال کی اسی مدت میں 10.67 ارب روپے کے مقابلے میں 13.2 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔اس کارکردگی کے نتیجہ میں H1'20 میں فی شیئر آمدنی (EPS) 11.15 روپے (H1'19: Rs. 9.01) رہی۔ شرح سود میں تبدیلی پر منحصر سرمایہ کاری کی سٹریٹیجک میچورٹی پروفائلنگ کے نتیجے میں آہستہ آہستہ کم مدتی سے۔

 طویل مدتی سرمایہ کاری میں منتقلی سے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔

 2020 کے پہلے چھ ماہ کے لیے بینک کی انٹرسٹ انکم 36.01 ارب روپے رہی جس میں 2019 کے پہلے نصف سال کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ رہا ہے، حجم میں اضافے اور نیٹ انٹرسٹ کے مارجن میں 69bps کا اضافہ ہوا ہے۔

 بینک کے ایڈمنسٹریٹو اخراجات کی جانب (ماسوائے پینشن فنڈز کی واپسی) روپے کی قدر میں کمی کے دباؤ اور اضافی عملی اور بنیادی ڈھانچے میں اضافے کے باوجود بینک انتظامی اخراجات میں اضافے کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور H1'20 میں شرح آمدن کی لاگت میں H1'19 میں جو 46.1 فیصد سے 38.0 فیصد کی بہتری لانے سے گذشتہ سال کے مقابلے میں 138 ملین روپے کی کمی دیکھنے میں آئی۔ 

 کووڈ۔19 کے وبائی مرض کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں پریشان کن اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، اس کے نتیجے میں بینک کے ریکارڈ کے مطابق ایکویٹی انویسٹمنٹ پورٹ فولیو میں 1.3 ارب روپے چارج ہوئے۔ ایڈوانسز کے سلسلے میں، کووڈ۔19 کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے مکمل ممکنہ اثرات کی پیش گوئیاں کرنا مشکل ہے، لہٰذا مینجمنٹ نے سمجھداری دکھاتے ہوئے 30 جون، 2020 کو اختتام پذیر ہونے والے سال کے دوران این پی ایل میں اضافے کی صورت میں موصلیت اور نقصان کو جذب کرنے کی صلاحیت باہم پہنچانے کے لیے جنرل پرویژن (عام استعمال)  کے لیے 4 ارب روپے کی فراہمی درج کی ہے۔

 مالی پوزیشن کی جانب، غیر متناسب بنیاد پر بینک کے کل اثاثہ جات 1.67 کھرب روپے ہیں جن میں دسمبر 2019 سے 10 فیصد کا اضافہ دکھایا گیا ہے۔ مرکب اثاثوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ نیٹ سرمایہ کاری میں 180 ارب روپے (24%) کا اضافہ جبکہ مجموعی ایڈوانسیز میں 32 ارب روپے (-6%) کی کمی ہوئی۔

 بینک کے نان پرفامنگ قرضہ جات (NPL) 939ملین روپے کے اضافے کے ساتھ 50.4 ارب روپے رپورٹ کیے گئے۔ بنیادی طور پر یہ اضافہ غیر ملکی کرنسی میں نامزد این پی ایلز کے معاملات میں غیر معمولی تیزی نہ ہونے کے مقابلے میں کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا۔ بینک نے حساب کتاب میں FSV کی مخصوص دفعات کا فائدہ نہیں اٹھایا اور اس کے غیر متفقہ عمومی فراہمی کے ذخائر کو 4.5 ارب روپے بڑھا دیا۔ بینک کی کوریج اور انفیکشن کی شرح بالترتیب 94.02% اور 9.91% رہی۔

 واجبات کی مد میں، بینک کے ڈیپازٹ بیس میں کرنٹ اکاؤنٹس دسمبر 2019 سے 129.92 ارب روپے (+11%) کا غیر معمولی اضافہ  کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ سے 50 فیصد اضافے اور کرنٹ اکاؤنٹ مکس کو 39.0% اور CASA کی شرح کو 94.2% درج کیا گیا۔ 

 اثاثوں پر واپسی اور ایکویٹی پر واپسی میں بالترتیب 1.66% اور 18.16% کی بہتری دیکھی گئی جبکہ فی شیئر بک ویلیو 122.93 روپے رپورٹ کی گئی۔

 ریگولیٹری سرمایہ کی ضروریات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بینک کے سرمایہ کی مناسبت کی شرح 11.50% کی طلب کے مقابلے میں 20.51% (بشمول سرمائے کی تبدیلی پر اثرانداز 1.50% جیسا کہ 2020 کے BPRD سرکلر لیٹر نمبر 12/2020 کے تحت کم کیا گیا ہے) رہی ہے۔ سرمائے کا معیار بینک کی کامن ایکوٹی ٹائر۔1 (CET1)  سے واضح ہے جس میں کل رسک ویٹڈ اثاثہ جات کی شرح طلب 6.00% کے مقابلے میں 15.23% رہی ہے۔ بینک کی بہتر سرمائے کی فراہمی کے نتیجے میں لیوریج کی شرح 6.72% رہی جو کہ ریگولیٹری حد 3.0 فیصد سے کافی زائد ہے۔ شرح طلب 100 فیصد کے مقابلے میں بینک کی لیکوئیڈٹی کوریج ریشو (LCR) 227.51% اور نیٹ سٹیبل فنڈنگ ریشو (NSFR) 174.47% رہی۔

 PACRA کے نوٹیفیکیشن بتاریخ 26 جون، 2020 کی بنیاد پر بینک لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم کریڈٹ ریٹنگ بالترتیب AAA/A1+ کے ساتھ بینک مقامی کریڈٹ ریٹنگ میں سب سے بہترین رہا ہے۔ 

مزید :

کامرس -