”ڈاکٹر ماہا علی کے ساتھ میرے چار سال سے روابط تھے اور ہم شادی کرنے والے تھے “پولیس نے اہم ترین بیان ریکارڈ کر لیا 

”ڈاکٹر ماہا علی کے ساتھ میرے چار سال سے روابط تھے اور ہم شادی کرنے والے تھے ...
”ڈاکٹر ماہا علی کے ساتھ میرے چار سال سے روابط تھے اور ہم شادی کرنے والے تھے “پولیس نے اہم ترین بیان ریکارڈ کر لیا 

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کراچی کے علاقے گزری میں مبینہ خود کشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے کیس میں نیا موڑ آ گیاہے ، اسلحہ کے مالک کا پتا لگا لیا گیاہے جبکہ قریبی دوست جنید نامی شخص کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیاہے جس کے مرحومہ سے گزشتہ چار سال سے روابط تھے ۔

تفصیلات کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس پستول سے ڈاکٹر ماہا علی نے خود کو گولی ماری وہ کسی ” سعد نصیر “ کے نام پر ہے ، نصیر نے 2010 میں پستول بشیر خان ٹریڈنگ کمپنی سے خریدا تھا ۔ پولیس نے سعد نصیر نامی شخص کی تلاش شروع کر دی ہے ۔ بتایا گیاہے کہ اسلحہ بیرون ملک سے بلوچستان لایا گیا ، سعد نصیر کے ڈاکٹر ماہا سے روابط کے حوالے سے بھی تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ سعد نصیر کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔

دوسری جانب پولیس نے تحقیقات کے دوران بیانات قلمبند کرنے کا کام جاری رکھا ہواہے اور اس ضمن میں جنید نامی شخص کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیااہے جس نے انکشاف کیاہے کہ اس کے مرحومہ کے ساتھ گزشتہ چار سال سے روابط تھے ۔جنید کا اپنے بیان میں کہناتھا کہ ہم جلد ہی شادی بھی کرنے والے تھے ، ماہا علی کا اکثر اپنے والدین سے جھگڑا رہتا تھا ، جس دن خود کشی کی اس دن ماہا نے مجھے اپنے گھر آنے سے منع کر دیا تھا ، ماہا کو روزانہ نجی ہسپتال میں پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا ، ماہا گھر ریلو پریشانیوں کے باعث ڈپریشن میں رہا کرتی تھی۔

 پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کے اہلِ خانہ اور دوستوں کا بیان قلم بند کیا گیا ہے۔ڈاکٹر ماہا کے اہلِ خانہ کا بیان لینے کے لیے ایس ایچ او گزری میر پور خاص روانہ ہوئے تھے، تاہم ڈاکٹر ماہا کے اہلِ خانہ اپنے پہلے والے بیان پر قائم ہیں۔

مبینہ خودکشی میں استعمال ہونے والے اسلحے سے ڈاکٹر ماہا کے اہلِ خانہ نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔اہلِ خانہ کے مطابق ڈاکٹر ماہا نے خود پر گولی گھر کے واش روم میں چلائی، پولیس کو ابھی تک قتل کے شواہد نہیں ملے تاہم تفتیش بند بھی نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ 2 روز قبل 25 سالہ ڈاکٹر ماہا علی شاہ نے والد سے تلخ کلامی کے بعد مبینہ طور پر واش روم میں بند ہو کر خود کو گولی مار کر خودکشی کی تھی۔

اس ضمن میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا تھا کہ ڈاکٹر ماہا کو سر میں پیچھے کی سمت سے گولی لگی تھی جبکہ بعد میں سامنے آنے والی میڈیکولیگل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کو سر میں بائیں جانب گولی لگی تھی جو دائیں طرف سے نکل گئی تھی۔

ڈاکٹر ماہا کے والد میر پور خاص میں واقع مزار گرھوڑ شریف کے گدی نشین ہیں۔ڈاکٹر ماہا ایک عرصے سے گھریلو پریشانی کا شکار تھیں، وہ والد اور بہنوں کے ساتھ 15 دن قبل کرائے کے گھر پر کراچی کے پوش علاقے میں منتقل ہوئی تھیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی کے والدین میں علیحدگی ہو چکی تھی جبکہ دونوں نے دوسری شادیاں کر رکھی تھیں، ان تمام وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر ماہا علی ذہنی دباو¿ کا شکار تھی۔

مزید :

قومی -