گر نیند میں وہ خواب کا پیکر بھی چلے گا

گر نیند میں وہ خواب کا پیکر بھی چلے گا
گر نیند میں وہ خواب کا پیکر بھی چلے گا

  

گر نیند میں وہ خواب کا پیکر بھی چلے گا

ہمراہ تو پھر ماہِ منور بھی چلے گا

آنکھوں کو مہیا کرو رونے کے لیے کچھ

آنسو نہیں ملتا تو سمندر بھی چلے گا

وہ بندِ قبا کھلتے ہی ، کھل جائے گا موسم

جادو ہے تو پھر آب و ہوا پر بھی چلے گا

کچھ تاب تواں دل میں بچا کر بھی نہ رکھی

اب کس کو خبر تھی کہ وہ خنجر بھی چلے گا

دیکھے سے تو تصویر میں کیا جان پڑے گی

تم اٹھ کے چلو گے تو یہ منظر بھی چلے گا

جو رینگتا رہتا ہے مِرے ساتھ زمین پر

وہ فتنہ کبھی اٹھ کے برابر بھی چلے گا

بے عشق تو معصوم نہیں دل کی یہ رونق

کچھ کا م کروں گا تو مرا گھر بھی چلے گا

شاعر: اکبر معصوم

Gar Neend Men Wo Khaab Ka Paia

مزید :

شاعری -سنجیدہ شاعری -