ووہان میں پارٹیاں اور پوری دنیا میں لاک ڈاﺅن، سوشل میڈیا پر لوگوں نے شور مچایا تو چین سے جواب بھی آگیا

ووہان میں پارٹیاں اور پوری دنیا میں لاک ڈاﺅن، سوشل میڈیا پر لوگوں نے شور ...
ووہان میں پارٹیاں اور پوری دنیا میں لاک ڈاﺅن، سوشل میڈیا پر لوگوں نے شور مچایا تو چین سے جواب بھی آگیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) دو روز قبل چین کے شہر ووہان، جہاں سے کورونا وائرس پھیلا تھا، سے کچھ تصاویر سامنے آئیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ’پول پارٹی‘ کر رہے ہوتے ہیں اور جشن منا رہے ہوتے ہیں۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور دنیا بھر سے لوگ تنقید کرنے لگے کہ پوری دنیا کو کورونا وائرس میں مبتلا کرکے ووہان کے لوگ کس طرح جشن منا رہے ہیں۔اب اس معاملے پر چین کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چینی میڈیا نے اس پارٹی پر تنقید کرنے والوں کو کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنقید ’انگور کھٹے ہیں‘کے مترادف ہے۔ ووہان کے شہریوں نے کئی ماہ پر محیط انتہائی سخت لاک ڈاﺅن برداشت کیا ہے اور یہ پارٹی انہی مصیبت کے دنوں کا صلہ تھی۔ 

رپورٹ کے مطابق یہ پارٹی ووہان مایا بیچ واٹر پارک میں ہوئی تھی جس کے دعوت نامے ’وی چیٹ‘ نامی ایپلی کیشن پر لوگوں کو دیئے گئے۔ اس پارٹی میں شریک ہونے کی واحد شرط یہ تھی کہ مرد یا عورت ایسے علاقے کا رہائشی ہو جہاں کورونا وائرس یکسر ختم ہو چکا ہے اور وہ چینی محکمہ صحت کے پاس رجسٹرڈ ہو۔ جو بھی اس شرط پر پورا ترا اس نے اس پارٹی میں شرکت کی اور یوں تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی۔ چین کے حکومتی حمایت یافتہ انگریزی اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے آرٹیکل میںلکھا ہے کہ ”ووہان میں چینی حکومت نے 1کروڑ 10لاکھ لوگوں کے کورونا ٹیسٹ کیے ہیں اور کئی ماہ تک شہر میں کڑا لاک ڈاﺅن رہا اور شہری اپنے گھروں میں محصور رہے۔ اس پارٹی سے دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ جو ملک بھی کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے انتہائی کڑے اقدامات کرے گا اس کا صلہ اسے ضرور ملے گا۔اس پارٹی پر تنقید کرنے والے تنقید کی بجائے اپنے ممالک میں ویسے ہی اقدامات کریں جیسے چینی حکومت نے ووہان شہر میں کیے اور اب شہری ایسی پارٹیاں کرنے کے لیے آزاد ہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -