عمر اکمل کیخلاف عالمث ثالثی عدالت میںا پیل، رکن قومی اسمبلی نے پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

عمر اکمل کیخلاف عالمث ثالثی عدالت میںا پیل، رکن قومی اسمبلی نے پی سی بی کو ...
عمر اکمل کیخلاف عالمث ثالثی عدالت میںا پیل، رکن قومی اسمبلی نے پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی نے مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل کیخلاف عالمی ثالثی عدالت میں اپیل کو بے وقت کی راگنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لائیو سٹریمنگ کیس میں تو اتنی تیزی نہیں دکھائی۔ 

تفصیلات کے مطابق بکیز کی جانب سے رابطے کی اطلاع بورڈ کو نہ کرنے پر عمر اکمل کو ڈسپلنری پینل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان نے 3 سال پابندی کی سزا سنائی تھی، کرکٹر کی جانب سے اپیل دائر کیے جانے پر آزاد ایڈجوڈیکیٹر جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر نے ہمدردانہ بنیادوں پر سزا کی مدت 18 ماہ کردی جس پر پی سی بی نے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں سزا میں کمی کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور پھر عمر اکمل نے بھی رجوع کرلیا تھا۔ اس اپیل میں پی سی بی، آزاد ایڈجوڈیکیٹر اور اینٹی کرپشن ٹربیونل کو فریق بنایا گیا، کرکٹرکے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سزا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، عمراکمل کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔ 

رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی نے کہا کہ عمر اکمل سے قبل بھی کرکٹرز کو سزائیں ہوئی ہیں، ان کیخلاف عالمی ثالثی عدالت میں کیوں نہیں گئے، پی ایس ایل میچز کی لائیو سٹریمنگ پر جوا کرایا گیا، وہ وقت تھا کہ پی سی بی عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا لیکن کہا گیا کہ اخراجات زیادہ ہوں گے، اگر دیگر کھلاڑیوں کو سبق سکھانا ہی چاہتے تھے تو عمر اکمل کو تاحیات پابندی کی سزا دے دیتے، عالمی ثالثی عدالت نے اگر پوچھا کہ سہولت کار کون تھا،کس بکی نے اکسایا تو پی سی بی کو سب نام سامنے لانا پڑیں گے۔

مزید :

کھیل -