اے ابر کرم!

اے ابر کرم!
اے ابر کرم!

  

برادرم محترم جناب غلام جیلانی صاحب نے روزنامہ ”پاکستان“ لاہور مورخہ4دسمبر 2012ءکو اپنے کالم ”شمشیر و سناں اول“ کے تحت ” اے ابر کرم! خشک زراعت پہ کرم کر“ کے عنوان سے جس درد مندی پریشان حالی اور دُکھی دل سے مسلمانانِ عالم کے تدریجی ضعف و زوال، اضحلال و انحطاط اور انتشار و افتراق کا حال بیان کیا ہے،واقعتا یہ درست ہے، اس کی صداقت سے کسی بھی ذی شعور مسلمان کو انکار نہیں ہو سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ عالم کا یہ واقعہ کس قدر حیرت انگیز ہے کہ ایک زمانے میں مسلمانوں نے نہایت محیر العقول طور پر ترقی کی اور اپنے کارناموں کا نقش صفحہ تاریخ پر اس طرح ثبت کیا کہ دُنیا کی دوسری قومیں اُن کی عظمت اور برتری کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے پر مجبور ہو گئیں۔ اب وہی مسلمان ہیں، جن پر فلاکت و نحوست مسلط ہے، اُن کا شیرازہ¿ ملی پراگندہ ہے۔ دفاع، قوت ابداع و اختراع سے محروم اور ہاتھ سیاسی قوت کی عنان سے ناآشنائے محض ہیں۔ مردم شماری کے لحاظ سے اتنے مسلمان پہلے کبھی نہیں تھے، جتنے اب ہیں، مگر ساتھ ہی علم و عمل، ایمان و ایقان اور روحانیت و اخلاق کے لحاظ سے جتنے پست اور زبوں حال اب ہیں، پہلے اتنے کبھی بھی نہ تھے۔ داخلی اور خارجی امور مملکت میں مسلم اُمہ اب کلی طور پر خود مختار نہیں۔ اُن کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات یہود و نصاری کے تابع ہیں۔ مغربی افواج جب چاہیں اُن کی سرحدیں پامال کر کے مسلمانوں کو مار دیں، اُن کی املاک پر قبضہ کر لیں، انہیں کوئی روکنے والا نہیں، اس لئے کہ اُن کا آپس میں اتفاق اور اتحاد نہیں اور آلات ِ حرب و ضرب میں خود کفیل نہیں۔

حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے وصال کے چند سال بعد ہی مسلمانوں نے جزیرة العرب سے نکل کر دُنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلنا شروع کیا، تو سخت ترین رکاوٹوں کے باوجود اس انداز سے آگے بڑھتے رہے کہ پہلی صدی ختم ہونے سے قبل ہی انہوں نے مشرق میں سندھ اور چینی ترکستان تک اور مغرب میں اندلس تک اپنی حکومت و مملکت کی حدود وسیع کر لیں اور ان ممالک میں سیاسی طاقت و قوت بھی حاصل کر لی، بلکہ اسلام کی حقانی تعلیمات اور اسلامی تمدن و تہذیب نے ایسا رنگ جمایا کہ چند ملکوں کے سوا تمام مفتوحہ ممالک خالص اسلامی ملک بن گئے، پھر علوم و فنون میں، ایجادت و اختراعات میں، تہذیب نفس اور نظام اخلاق کی ترتیب و تدوین میں انہوں نے اپنی ذہنی عظمت و برتری کا ایسا عمدہ ثبوت دیا کہ کوئی متعصب مو¿رخ بھی اُن کو جھٹلا نہ سکا، مگر اب حالات دِگر گوں ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں ان پر زوال اور انحطاط کا تسلط ہے۔ علم و عمل کے ہر میدان میں وہ سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اسلامی اقدار اور افرادیت اس قدر مضمحل ہو چکی ہیں کہ آج کے مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی پہلے مسلمانوں کا جانشین یا اُن کے منصب و عظمت کا وارث کہنا کسی طرح زیب نہیں دیتا۔ تب وہ کون سے عوامل تھے، جو مسلمانوں کی عظیم الشان ترقی کا باعث بنے، جن کی وجہ سے مسلمان دُنیا کی سب سے بڑی اور صالح ترین قوم بنے.... ان اسباب کو معلوم کرنے کے بعد تاریخی اعتبار سے پتا چلے گا کہ امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ مختلف اندرونی اور بیرونی سازشوں کی وجہ سے ان عوامل میں کس طرح انحطاط اور اضمحلال پیدا ہوتا رہا۔ تاآنکہ کئی صدیاں گزرنے کے بعد جب یہ تدریجی زوال اپنے آخری درجے تک پہنچ گیا تو اُس کا نتیجہ یہ ہوا ،جو ہم سب کے سامنے ہے، جس کا درد انگیز نظارہ ہر حساس مسلمان کی آنکھ کو ایک پیہم دعوتِ تدبر و تفکر اور ہر درد مند دل کو مسلسل اذنِ فغاں سنجی و ماتم سرائی دے رہا ہے۔ ہزاروں سال پر محیط روئیدادِ غم تفصیل کے ساتھ بیاں کرنی ممکن نہیں، تاہم یہاں چند اہم امور کا جائزہ لیتے ہیں۔

ملت ِ اسلامیہ کے موجودہ ابتر اور دگر گوں حالات کی اصلاح اور بہتری کے لئے لازمی ہے کہ حاکم اور محکوم دونوں احکامات الٰہیہ اور ارشادات ِ نبویہ پر دل و جان سے عمل پیرا ہوں۔ حکمرانی کے لئے صرف اہل اور حق دار حکمران منتخب ہوں۔ عادل اور منصف مزاج افراد کو منصب ِ حکومت پر فائز کیا جائے، جو عدل و نصاف قائم کرنے کے اہل ہوں۔ ہر نزاعی معاملے میں اللہ اور رسول اکرم کے احکامات و ارشادات کی طرف رجوع کرنے والے ہوں۔ حاکم اپنے آپ کو ہر قانون، ضابطے، اصول اور محاسبے سے ماورا نہ سمجھے۔ ہوس ِ اقتدار سے مُبرا اور قرآن و سنت کی حیثیت ریاستی دستور سے بلند و بالا نہ سمجھے۔ ایسے معروضی حالات میں بھی اگر قوم کا ایک سنجیدہ طبقہ محض تماشائی ہی بنا رہا۔ خود سر اور خود ساختہ حکمرانوں کی اصلاح کے لئے آگے نہ بڑھا، تو قدرت نے قوموں کی اجتماعی غلطیاں کبھی معاف نہیں کیں۔ جیسا کہ اقبال ؒ نے بھی فرمایا ہے:” فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے۔ کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف“ .... اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ سورة البقرہ نمبر2، آیت نمبر 152 میں ارشاد ہے:” سو تم مجھے یاد کیا کرو، مَیں تمہیں یاد کیا کروں گا اور شکر ادا کیا کرو میرا اور میری ناشکری نہ کیا کرو“.... یعنی میرا بندہ اگر مجھے دل میں یاد کرے، مَیں بھی اسے ایسے ہی یاد کرتا ہوں۔ اگر مجمع ¿ عا م میں یاد کرے، تو مَیں بھی اس سے بہتر مجمع میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک ہو تو مَیں ایک ہاتھ اُس کے نزدیک ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ چل کر میری طرف آئے، تو مَیں دوڑ کر اُس کی طرف جاتا ہوں....(بخاری و مسلم).... گویا اللہ تعالیٰ اپنے مخلص و تابع فرمان اور شکر گزار بندوں کی طرف ہمیشہ رحم و کرم کرتا ہے۔ گویا بقولِ اقبال ؒ: (بانگِ درا۔ جواب شکوہ)

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے؟ راہ رو منزل ہی نہیں!

مزید :

کالم -