قاسمی صاحب اور دس کروڑ روپے کا مخمصہ

قاسمی صاحب اور دس کروڑ روپے کا مخمصہ

  

پس ثابت ہوا کہ جب کوئی بکارِ سرکار ہو جاتا ہے تو اس پر الزامات بھی لگتے ہیں اور اسے جواب بھی دینا پڑتا ہے۔محترمی عطاءالحق قاسمی نے ساری زندگی ہماری طرح پروفیسری میں گزاری، مگر ان پر کوئی الزام نہیں لگا۔اب جبکہ وہ بعداز ریٹائرمنٹ الحمراءلاہور کی چیئرمینی کا منصب سنبھالے ہوئے ہیں تو انہیں سیاستدانوں اور بیورو کریٹوں کی طرح الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہاہے۔20دسمبر کو ایک معاصر میں ان کا کالم پڑھ کر ہمیں کم از کم اس بات کا اطمینان ضرور رہا کہ جناب قاسمی صاحب کے پاس کم از کم اپنا کالم تو موجود ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا جواب دے سکتے ہیں، وگرنہ ہمارے ہاں تو ایسے الزامات کے بعد حکومتی شخصیات میڈیا میں اپنے خیرخواہ ہی تلاش کرتی رہ جاتی ہیں۔ عطاءالحق قاسمی نے اپنے کالم کے آخر میں یہ شعر لکھا ہے:

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

اس شعر کی وجہ ءتسمیہ اس کالم کو پڑھ کر سمجھ میں آ جاتی ہے۔قاسمی صاحب پر ایک ایسے معاصر انگریزی اخبار میں خبریں شائع ہوئی ہیں، جو اس ادارے کی ملکیت ہے، جہاں عطاءالحق قاسمی نے ایک عرصہ گزارا اور بقول ان کے اس میں ایک ایسے بزرگ بھی موجود ہیں، جو کالم نگاری میں ان کے استاد ہیں۔بعد میں بڑی مہارت سے انہوں نے یہ کہہ کر اس بزرگ شخصیت کا ذکر بھی کردیا کہ وہ جھوٹی خبر کی اشاعت پر اخبار کو اس لئے نوٹس نہیں دینا چاہتے کہ پھر انہیں نظامی صاحب کو فریق بھی بنانا پڑتا۔ خیر یہ تو قاسمی صاحب کی روایتی وضع داری ہے کہ انہوں نے نظامی صاحب کے احترام میں اپنا قانونی حق استعمال نہیں کیا،البتہ انہوں نے سی پی این ای کے صدر جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کو ضرور عرضداشت پیش کی ہے کہ وہ جھوٹی خبروں کی اشاعت پر نوٹس لیں اور ضابطہ ءاخلاق کی پابندی کرائیں۔عطاءالحق قاسمی نے مذکورہ انگریزی اخبار کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ مصطفیٰ صادق کے اخبار کا انگریزی ورشن نظر آتا ہے۔ گویا اس کی اشاعت نہ ہونے کے برابر ہے۔مَیں حیران ہوں کہ سرکاری منصب نے قاسمی صاحب کے نظریات اور اعصاب کو کس قدر کمزور کردیا ہے۔مجھے برسوں پہلے لکھا گیا ان کا ایک کالم آج بھی یاد ہے،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ روزنامہ ”امروز“ جتنے لوگ پڑھتے ہیں، وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، اس لئے وہ فون پر انہیں اصل صورتِ حال بتا دیں گے، مگر یہ دور بھی ہے کہ ”امروز“ سے بھی کم سرکولیشن رکھنے والے ایک انگریزی معاصر میں خبر چھپنے پر قاسمی صاحب کو ایک طویل وضاحتی کالم لکھنا پڑ گیا ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ انہوں نے گزشتہ دنوں لاہور میں عالمی ادبی و ثقافتی کانفرنس منعقد کرائی۔یہ کانفرنس کس قدر عالمی تھی ، اس بات سے قطع نظر خبر میں اصل سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ حکومت پنجاب نے اس کانفرنس کے لئے عطاءالحق قاسمی کو جو 10کروڑ جاری کئے، اس کا انہوں نے ابھی تک حساب نہیں دیا۔صرف پچاس لاکھ روپے کے اخراجات کی تفصیل دی گئی ہے، باقی ساڑھے نوکروڑ روپے کا کچھ پتہ نہیں ہے۔قاسمی صاحب کے بقول ایسا کوئی لیٹر پنجاب حکومت کے کسی محکمے نے جاری نہیں کیا۔جس چٹھی کا حوالہ معاصر انگریزی اخبار نے دیا ہے، اس کا کہیں وجود ہی نہیں، انہوں نے پنجاب حکومت کے ترجمان کا حوالہ بھی دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے کوئی آرڈر دیا ہے اور نہ حساب مانگا ہے۔

مجھے لگتا ہے قاسمی صاحب بھی ایک عام سے معاملے کو چودھری نثار علی خان کی طرح مس ہینڈل کررہے ہیں۔جب کوئی بات ہی نہیں تھی تو انہیں اپنا قیمتی کالم اس کی وضاحت کے لئے ضائع نہیں کرنا چاہیے تھا۔اب اگر انہوں نے وضاحت کر ہی دی ہے تو پوچھنے والے یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ اگر اس کانفرنس کے لئے پنجاب حکومت نے کچھ نہیں دیا تو اس پر آنے و الے اخراجات کس طرح پورے ہوئے، کیا عطیات جمع کئے گئے یا سپانسرشپ لی گئی؟پھر اگلا مطالبہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان اخراجات کی تفصیل فراہم کی جائے۔آمدنی و اخراجات کا آڈٹ کرایا جائے۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے 2 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا تھا، اس کے بارے میں بھی سوالات اٹھیں گے۔گویا خواہ مخواہ ایک پنڈورابکس کھل جائے گا، جس کا کم از کم قاسمی صاحب جیسا نفیس شخص متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ ساری زندگی ایک مبلغ اور محتسب کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، اب اگر خود انہیں کٹہرے میںکھڑا کیا گیا تو ان کے لئے وہی صورت حال پیدا ہوجائے گی، جو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے لئے بیٹے ارسلان افتخار کی بدعنوانی کی خبروں سے پیدا ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا میں تو اس عالمی کانفرنس کے حوالے سے پہلے ہی بہت سے سوالات گردش کررہے ہیں۔کہا یہ جا رہا ہے کہ عطاءالحق قاسمی نے اس کانفرنس کا انعقاد اس لئے کیا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کے پھر قریب ہو سکیں، کیونکہ اقتدار میں آنے کے بعد شریف برادران نے انہیں کئی ماہ تک ملاقات کا وقت نہیں دیا تھا۔ان کے کالموں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جو انہوں نے اس دوران لکھے اور کبھی دبے، کبھی کھلے لفظوں میں اس ”سلوک“ کا ذکر کیا۔خالد اقبال یاسر کا تجزیہ ہے کہ عطاءالحق قاسمی نے اس کانفرنس کو اس لئے عالمی کانفرنس کا نام دیا، تاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ انہیں ایک بڑی کانفرنس میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ہے، حالانکہ اس کانفرنس میں اوسط درجے کے چند ایسے ادیبوں، شاعروں کو بیرونِ ملک سے بلایا گیا تھا، جو قاسمی صاحب کے ذاتی دوستوں میں شمارہوتے ہیں، لیکن میرا تجزیہ خالد اقبال یاسر سے کچھ مختلف ہے۔مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ بیرونِ ملک سے کتنے ادیب یا شاعر اس کانفرنس میں شرکت کے لئے بلائے گئے، میرا سوال یہ ہے کہ اندرون ملک تمام شہروں کو اس کانفرنس میں نمائندگی کیوں نہیں دی گئی؟ لاہور، کراچی، اسلام آباد کے سوا ہم کب یہ سمجھیں گے کہ ملک کے دیگرحصوں میں بھی اہلِ فکر و نظر رہتے ہیں اور اپنی تخلیقی سرگرمیوں کے لحاظ سے ان کا قد کاٹھ بڑے شہروں میں رہنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔

اکادمی ادبیات پاکستان بھی کوتاہ نظری کا شکار ہے۔اس کی تقریبات ہوں یا کانفرنسیں، ان میں کبھی جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، خےبرپختونخوا اور بلوچستان کو نمائندگی نہیں دی جاتی۔بس صرف وہ ادیب یا شاعر یاد رہتے ہیں، جو براہ راست اکادمی کے چیئرمین یا دیگر افسروں کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ایسی کانفرنسوں کا انعقاد کرنے کے لئے باقاعدہ کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں۔مندوبین ، مقالہ نگاروں ،نیز شاعروں کے انتخاب کے لئے ادیبوں اور دانشوروں کی ایک کمیٹی بنا کر اسے ذمہ داری سونپی جاتی ہے، مگر اب ایسا نہیں ہوتا، لابی ازم اور گروپ بندی کو سامنے رکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔ایسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور الحمراہ کی ادبی و ثقافتی کانفرنس میں بھی یہی کچھ ہوا۔سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ سرکاری وسائل سے ہوتا ہے تو پھر کسی فرد واحد کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ پسند ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرے اور مخصوص لوگوں کو نوازے۔عطاءالحق قاسمی صاحب سے ہماری پرانی نیازمندی ہے، وہ کھلے ذہن کے مالک اور دوست نواز آدمی ہیں، تاہم انہیں اس بات کا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ اس کانفرنس کے انعقاد میں کہاں کمی رہ گئی اور کہاں کسی کی حق تلفی ہوئی، تاکہ آئندہ جب کبھی ایسی تقریب کا موقع آئے تو اس میں یہ سب کچھ دہرایا نہ جا سکے۔جہاں تک مالی معاملات کے حوالے سے لگنے والے الزامات کا تعلق ہے تو قاسمی صاحب سردوگرم چشیدہ ہیں، انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ الزام لگانے والوں کا منہ ہلکی پھلکی وضاحتوں سے نہیں، حقائق سامنے لانے سے ہی بند کیا جا سکتا ہے۔اگر وہ کانفرنس کے انعقاد پر اٹھنے والے اخراجات اور ملنے والی حکومتی گرانٹ کا گوشوارہ سامنے لے آئیں تو افواہ سازوں کے منہ بھی بند ہو جائیں گے اور بزرگوں کو نوٹس دینے کے خیال کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔

مزید :

کالم -