بنگلہ دیش میں نظریہ¿ پاکستان کوپھانسی

بنگلہ دیش میں نظریہ¿ پاکستان کوپھانسی

  

اس بار ہم سقوطِ ڈھاکہ کے المیہ کی یاد دہرے غم اور دکھ درد کے ساتھ منا رہے ہیں، وجہ یہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے موقع پر اندرا گاندھی نے جو ”سچ بولا تھا“ اسے تو جمہوری حق غصب کرنے والے تیسرے غاصب یحییٰ خان نے غالباً سمجھا ہی نہیں تھا بلکہ اسے ہنس کر ہی ٹال دیا تھا، وہ سچ یہ تھا کہ آج مَیں نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کرکے ایک ہزار سالہ مسلمانوںکی غلامی میں ہندوﺅں کے جلتے اور سڑتے رہنے کا انتقام لے لیا ہے، گویا یہ اس بات کااعتراف تھا کہ ہندو آج بھی مسلم حکمرانوں کو غیر ملکی قابضین سمجھتا ہے اور مسلمانوں کو برعظیم پاک و ہند کے شہری نہیں مانتا ،وہ انہیں آزاد شہریت کے حقوق دینے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوگا،لیکن جو غضب شیخ حسینہ واجد نے ڈھایا ہے ،وہ نہ صرف یہ کہ ہندو مزاج مسلمان(یعنی ہندو کے ساتھ گھل مل جانے والے مسلمان) کے مسلمان مخالف گھناﺅ نے کردار کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ مسلمانوں کے لئے ہندوﺅںسے بھی زیادہ خطرناک اور شرمناک کردار بھی ادا کرنے کا پتہ دیتا ہے!دراصل اس محترمہ نے چالیس سال بعد ہی سہی ،اپنے باپ کے قتل کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے ہاتھوں مکتی باہنی کے روپ میں مشرقی پاکستان میں لوٹ مار کرنے اور مغربی پاکستانیوں کا قتل عام کرنے والے لٹیرے ہندوﺅں کے قتل کا بدلہ بھی لے لیا ہے! شیخ حسینہ نے ایک ایسے بے گناہ مسلمان کو پھانسی پر لٹکادیا ہے جو اس کے باپ کے بنائے ہوئے بنگلہ دیش کو مان چکا تھااور چالیس سال تک بنگلہ دیش کی نہ صرف سیاست میں حصہ لیتا رہا، بلکہ بنگلہ دیشی پارلیمان کا رکن بھی منتخب ہوتا رہا! جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ممتاز لیڈر جناب عبدالقادر ملا کو پھانسی پر لٹکا کر ایک بے گناہ کو نام نہاد عدالت کے حکم سے قتل کرادیا ہے ! یہ دراصل نظریہ پاکستان کا قتل ہے اور جناب عبدالقادر ملّا صحیح معنوں میں ”شہید پاکستان“کہلانے کا حق رکھتے ہیں!

اس بے گناہ کی شہادت بلاشبہ نظریہ¿ پاکستان کا قتل ہے ،جو حسینہ واجدکا ناقابل معافی جرم ہے اور پاکستان کے حکمرانوں کی بزدلی اورمداہنت کا خمیازہ بھی ہے جو پون صدی سے بھارت کے پنڈت لبھو رام کے سامنے بھاگے چلے جاتے ہیں اور وہ انہیں یوں ہانکے جارہا ہے جیسے کوئی بے رحم چرواہابے زبان مویشی کو ہانکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو ذہن پون صدی سے مسلسل چڑھائی پر کمر بستہ ہے اور کرسی پر ست ہمارے بزدل اور نااہل حکمران مسلسل پسپائی کی سیاست پر عمل پیرا ہیں ! حسینہ واجد نے اندرا گاندھی سے بھی زیادہ گھناﺅنا جرم کیا ہے،اندراگاندھی نے تو صرف ہزار سالہ غلامی کا انتقام لے کر نظریہ¿ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر حسینہ واجد نے تو نظریہ¿ پاکستان کو پھانسی دلوادی ہے اور بنگلہ دیش سمیت پورے برعظیم کو بزعم خویش اسلام اور مسلمانوں کو دیس نکالا دے کر مسلم سپین سے اسلام اور مسلمانوں کو جلاوطن کردینے کی تاریخ دہرانے کی بنیاد بھی رکھ دی ہے! خدا معلوم ابھی بھارت میں نریندر مودی کیا گل کھلانے کاارادہ رکھتا ہے؟

شاید حسینہ جی کو چینی لیڈر آنجہانی چو این لائی کا وہ تبصرہ یاد نہیں جو انہوں نے1971ءمیں سقوطِ ڈھاکہ پر فرمایا تھا کہ اندرا گاندھی کو یاد رکھنا چاہیے کہ سقوطِ ڈھاکہ کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ آغاز ہے! ہندو مزاج حسینہ کو بھی یہ یاد رکھنا ہوگا کہ عبدالقادر ملّا کی پھانسی بھی اس خونین ڈرامے کاآخری منظر نہیں، بلکہ مناظر کے اس چکر کاآغاز ہے جو انہوں نے شروع کیا ہے۔ یہ چکر سب کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جنہوں نے بنگلہ دیشی مسلمانوں اور مغربی پاکستان کے ان تمام مسلمانوں کااسی طرح قتلِ عام کیا جس طرح1947ءمیں مشرقی پنجاب میں سکھوں نے مسلمان عورتوں اور معصوم بچوں کوظلم کا نشانہ بنایا تھا، ایسے چکر شروع ہوجائیں تو بہت دیر تک چلتے رہتے ہیں!

پاکستان نے بنگلہ دیش کو مان کر تمام تلخ یادوں کو بھول جانے کا عہد کیا تھا ،مگر حسینہ سے پہلے ہمارے بزدل اور کرپشن مست ہمارے لیڈر بھی بھول گئے ،ورنہ وہ حسینہ کو اسی وقت ہی روک سکتے تھے جب تین سال پہلے پرانے مرد ے اکھاڑنے کی کارروائی شروع کی تھی جس کا عروج پروفیسر غلام اعظم جیسے سو سالہ بزرگ کی عمر قید اور عبدالقادر ملّا جیسے بے گناہ مسلمان کا عدالتی قتل ہے! شیخ حسینہ واجد نے ملّا شہید کو پھانسی نہیں دی، بلکہ نظریہ¿ پاکستان کو پھانسی دے کر اندرا گاندھی اور اپنے باپ کی روحوں کو خوش کیا ہے! محترمہ نے ایک ایسے کھرے اور محبِ وطن لیڈر کو اپنے ظلم کی تسکین کا نشانہ بنایاہے جس نے ایک محب وطن کی حیثیت سے اس وقت پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا تھا اور مجیب کا بنگلہ دیش بن گیا تو اسے تسلیم کرکے اپنے وطن کی خدمت میں لگ گیا، سیاست میں حصہ لیااور پارلیمان کارکن منتخب ہوتا رہا! دراصل شیخ حسینہ کو اپنا زوال نظر آگیا تھااور دوسری طرف بھارت کا پنڈت لبھورام بھی اپنی ایک ہندمزاج شیخنی سے ناخوش اور مایوس تھا، اس لئے محترمہ نے چالیس سال پرانے مردے اکھاڑنے اور انتقام لینے والی دیوی کی اہلیت ثابت کرنے کے لئے یہ سفاکانہ قدم اٹھایا ہے ،مگر وہ اپنے اس پست مقصد کے حصول میں ناکام رہیں گی؟

لیکن حیرت اور افسوس تو پاکستانی لیڈروں پر ہے جو تین چار سال سے یہ سب کچھ چُپ چاپ دیکھتے رہے ، اپنی کرپشن اور پنڈت لبھورام کی خوشامد میں منہمک رہے، نظریہ¿ پاکستان ان کے سامنے ذلیل ہوتا رہا اور پاکستان کے دوست حسینہ واجد جیسی خونخوار دیوی کی زد میں رہے اور آخر کار عبدالقادر ملّا کو پھانسی پر لٹکادیاگیا، مگر ہمارے لیڈر ٹس سے مس نہیں ہوئے!ایسے لیڈر ہمیں کیا تحفظ دیں گے؟ ہمارے وطن کا کیا دفاع کریں گے؟ہمیں تو پون صدی سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہندوﺅں کی خونخواری اور مکاری سے بچنے اور اکھنڈ بھار ت اور رام راج میں اپنے دین ایمان سمیت ڈوب جانے سے محفوظ رہنے کے لئے پاکستان بنا کر ہمارے بزرگوں نے اچھا نہیں کیاتھا،گاندھی شاید ٹھیک ہی کہتا تھا کہ مسلمان کو حقوق مانگنے کی بھی اجازت نہیں،وہ یا تو اپنے وجود سے بھارت ماتا کو پاک کردیں یا اکھنڈبھارت اور رام راج میں گم ہوجائیں! اب تو یہی نظر آتا ہے کہ پون صدی سے پاکستان کو نوچنے والے گدھ تو تجوریاں بھرکر اڑجائیں گے اور ہندو کا قہروغضب سہنے کے لئے غریب مسلمان اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔

مزید :

کالم -