عملہ واسا، شکایت کا جواب بدتمیزی!

عملہ واسا، شکایت کا جواب بدتمیزی!

  

دھند کے دنوں سے ایک دو روز پہلے کی بات ہے ، اس روز دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ مصطفی ٹاﺅن میں واسا کے مرکز شکایات سے باہر ایک بڑی میز پر کاغذات اور رجسٹر وغیرہ پڑے تھے اردگرد کرسیوں پر ایک دو اہلکار کوئی نقشہ بنانے میں مصروف تھے۔ سامنے مرکزی کرسی پر ایک جواں سال شخص تشریف فرما تھے اور احساس دِلا رہے تھے کہ وہ کوئی افسر ہیں۔ امکانی طور پر تو وہ اس علاقے کے ایس ڈی او لگے آگے اللہ جانے، وہ ایس ڈی او سے بڑے کوئی ڈا ئریکٹر بھی ہو سکتے تھے، دفتر جاتے ہوئے یہاں حاضری ضروری تھی کہ رہائش والی سیوریج کی لائن معمول کے مطابق بند تھی اور استعمال شدہ پانی باہر پھیل کر آلودگی کا باعث بن رہا تھا۔ ہم نے رضا کارانہ طور پر یہ ڈیوٹی اپنے ذمہ لے رکھی ہے کہ ایسا کوئی معاملہ ہو تو شکایت درج کرا دیں۔ اس سلسلے میں شکایت تو دو روز قبل لکھوا دی گئی تھی، بند سیوریج نہ کھلنے کی وجہ سے اس روز رکنا پڑا، اسلام کیا جواب لیا، افسر نما شخصیت نے بیٹھنے کی پیشکش کی، ہمارا عذر تھا کہ دفتر جا رہے ہیں، تاخیر ہو جائے گی یہاں تو اس لئے رُک گئے ہیں کہ یاد دہانی کرا دی جائے۔

 مذکورہ شخص یا صاحب نے مسئلہ دریافت کیا تو وہاں موجود ایک سیور مین بولا225: عباس بلاک، دُکھ ہوا اور معمولی تلخ لہجے میں گزارش کرنا پڑی، یہ تو میرے گھر کا نمبر ہے۔ مَیں اپنے گھر کی شکایت لکھوا کر نہیں گیا تھا، بلکہ یہ کہا تھا کہ سیوریج کی لائن میں نقص ہے اور بند ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے پانی پھیل رہا ہے اور بیماریوں خصوصاً ڈینگی کا خطرہ ہو سکتا ہے، صاحب بہادر جو یقینا ایس ڈی او ہی تھے کو بہت بُرا لگا بولے! یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا تاوقتیکہ مرکزی سیوریج مکمل ہو کر چالو نہ ہو جائے۔ بہت ملال ہوا، احساس ہوا کہ فرائض سے اغماض کا اچھا طریقہ ہے کہ ایسا جواب دیا جائے، حالانکہ جہاں تک مرکزی سیوریج کی تکمیل کا سوال ہے تو اس میں کافی تاخیر ہے۔ اس عرصے میں پرانے نظام کو چالو رکھ کر آسانی فراہم کرنا بھی تو واسا ہی کی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ کہنا پڑا کہ جب تک سیوریج مکمل نہ ہو جائے رہائش کسی اور جگہ تبدیل کر لی جائے، جواب بہت خشک اور تلخی لئے تھا۔ صاحب کو بات بُری لگی تھی، سخت لہجے میں توہین آمیز انداز سے بولے:اس وقت آپ کا دماغ ٹھیک نہیں، تشریف لے جایئے نقص دور کر دیا جائے گا، انداز یقینا تحکمانہ اور توہین آمیز تھا، یہ کہتے ہوئے چلے آئے کہ نچلے عملے سے لے کر ایم ڈی تک شکایت کی جا چکی ہے مسئلہ حل ہی نہیں ہوتا۔ اب کب تک انتظار ہو، اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہاں سے رہائش چھوڑ دی جائے۔

جہاں تک اس علاقے مصطفی ٹاﺅن کا تعلق ہے تو اس میں سیوریج ضرور بچھایا گیا ہے، لیکن نکاسی آب کا جو نظام ترتیب دیا گیا وہ مسلسل نقص کا شکار ہے اور لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے، شاید اِسی وجہ سے ترس آ گیا اور وزیراعلیٰ کی ہدایت اور نگرانی میں جب ملتان روڈ کی توسیع اور تزئین نو کا کام شروع ہوا تو انہوں نے بڑی مرکزی سیوریج پائپ لائن کی بھی منظوری دے دی۔ واسا نے کام کا ٹھیکہ دے دیا، اس کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، ٹھیکیدار نے کام بھی شروع کر رکھا ہے۔ ایک حصہ (سڑکیں) کھود کر ہی یہ کام ہونا تھا، اس لئے محکمہ نے یہ ٹھیکہ دیا، ٹھیکیدار نے کچھ اس انداز میں کام شروع کیا کہ اس کی تکمیل لمبی ہو گئی ہے۔ کھدائی سے علاقہ گردو غبار کا شکار ہوا۔ اب یہ کام قریب الاختتام تو ہے، لیکن مکمل نہیں ہو پا رہا، ٹھیکیدار کا الزام ہے کہ اسے مقررہ رقم وقت پر نہیں دی جا رہی۔ اب واسا اہلکار تاریخ پر تاریخ دیئے جا رہے ہیں اور کام مکمل نہیں ہو پا رہا، حالانکہ ایسے کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل ہونے چاہئیں، اب جو شہریوں کو دلاسہ دیا جا رہا ہے وہ جنوری کا ہے اس سے پہلے دسمبر میں اس مرکزی سیوریج کا افتتاح لازم قرار دیا گیا تھا جو نہیں ہو رہا۔

 اب حالات یہ ہیں کہ ہر روز کسی نہ کسی محلے یا گلی کا سیوریج بند ہوتا ہے اور شکایت پر کام بھی بروقت نہیں ہوتا، باوجویکہ دو گاڑیاں بھی مختص کر دی گئیں اور عملہ بھی موجود ہے، لیکن یہاں سوال نیت کا ہے۔ نیت ٹھیک ہو تو کام بھی درست ہی ہوتے ہیں، لیکن یہاں تو کام نہ کروانا اور کرنا ایک ریت بن گئی ہوئی ہے۔

اس علاقے میں شہری مسائل زیادہ اور کارکن کم ہیں، لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ جو صارف شکایت درج کرانے آئے اس کے ساتھ بے ہودگی اور بدتمیزی کا سلوک کیا جائے۔ اگر ایک افسر ایسا کرے گا تو ماتحت عملے کو کون روک سکتا ہے؟ اب تو بات یہیں اٹک جاتی ہے کہ مرکزی سیوریج میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے یہ مکمل ہو گا تو کچھ سہولت مل سکے گی، حالانکہ ایک دریا کو بند کرنے کے بعد بھی دوسرے دریا ہی کا سامنا رہے گا، کیونکہ اگر مرکزی سیوریج مکمل ہو گیا تو پھر محلوں کی سیوریج لائنوں کو اِس سے منسلک کرنا ہو گا اس کی وجہ سے پوری آبادی کی سڑکیں ٹوٹ جائیں گی جیسے اب مرکزی سڑک کچی مٹی والی بن گئی ہے۔ یہ کب تک ٹھیک ہوں گی اللہ ہی بہتر جا نتا ہے۔

ہمارے لئے تو یہی کافی ہو گا اگر ماتحت عملہ اور افسران صارفین سے اچھی طرح ہی پیش آئیں، لیکن یہاں تو فرعون والا انداز ہے جو تنازعات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ہمیںیہ یقین کیوں ہے کہ اب ایم ڈی اس صورت حال کا جائزہ لے کر اہلکاروں کو اخلاق سے پیش آنے کی تلقین کریں گے؟

مزید :

کالم -