یہ فرقہ واریت کی آگ!

یہ فرقہ واریت کی آگ!

  

شیعہ سنی جھگڑے میں جب طرفین کا بہت خون بہہ چکا تو سرکردہ علماءنے غم و غصے کو ایک طرف رکھتے ہوئے باہم مکالمے کا آغاز کیا۔یہ سلسلہ بہت مبارک ثابت ہوا۔چند ہی نشستوں میں کھلنے لگا کہ ہر سانحہ کے پیچھے کسی بیرونی طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے۔مکالمے ہی کے دوران وہ مقامی عناصر بھی بے نقاب ہونے لگے، جو بیرونی ہاتھوں کے گھناﺅنے مقاصد پورے کروانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔مکالمے کا فائدہ یہ ہوا کہ قتل و غارت گری کی وارداتیں کچھ دیر رُکی رہیں،لیکن ایران اور پاکستان کے درمیان گیس کا معاہدہ ہونے کے بعد وارداتوں کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا ہے۔امریکہ نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کرنا شروع کردی۔اسے دونوں اسلامی ملکوںکے درمیان مفاہمت کی فضاکسی طور بھی گوارا نہیں، بلکہ کئی بار اس نے پاکستان پر ایران کے خلاف اقدام کرنے کے لئے دباﺅ بھی ڈالا، لیکن پاکستانی ارباب اختیار نے تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف انکار کردیا....یہ تو نہایت خوش آئند بات ہے کہ شیعہ سنی رہنماﺅں نے قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں مفاہمت کا راستہ اختیار کرلیا ،اس کے لئے وہ عنداللہ ماجور ہوں گے ، لیکن یوں لگتا ہے کہ نچلی سطح پر ایسی صورت حال موجود نہیں۔اس کی دلیل وہ ساری کتابیں اور رسالے ہیں، جن میں ایک دوسرے کی مخالفت میں زہریلا مواد ہوتا ہے۔

پچھلے دنوں مجھے متعدد ایسے رسائل و کتب دیکھنے کا اتفاق ہوا،جن میں ایک دوسرے کے خلاف بہت ناروا زبان برتی گئی ہے۔کمال یہ ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف جو مواد تحریر کیا جاتا ہے۔اس کی بنیاد صدیوں پہلے کی کتابوں پر رکھی جاتی ہے۔اہلِ علم جانتے ہیں کہ اس وقت مورخین اور محدثین نے بعض روایات کا اندراج کرتے ہوئے چھان پھٹک کی ذمہ داری بعد میں آنے والوں پر ڈال دی۔بلاشبہ بعد میں چھان پھٹک ہوئی بھی۔یہ تو اسلام سے وفاداری نہیں کہ کمزور اور مشکوک روایات کو قرآن و حدیث کا درجہ دے دیا جائے اور ان کی بنیاد پر اختلاف کی آگ بھڑکائی جائے۔ان روایات کو بنیاد بنانے سے تو ساری عملی تحقیق ہی بے اعتبار ٹھہر جاتی ہے۔چہ جائیکہ ان روایات کو ناقابل تردید حقائق بنا کر پیش کیاجائے۔جو لوگ ایسا کام کرتے ہیں، انہیں قرآن مجید اور ارشادات رسول میں ”فسادی“ کہا گیا ہے، بلکہ ان کا ٹھکانہ جہنم بتایا گیا ہے۔

جب مَیں فساد پھیلانے والی کتابوں اور مضامین کا ذکر کررہا ہوں تو لازم ہے کہ ان سے اقتباسات بھی قاری کے سامنے پیش کروں، تاکہ میرا موقف محض الزام ،ہی نہ بن کے رہ جائے، لیکن ایسا کرناممکن نہیں، کیونکہ ان اقتباسات سے جذبات میں یقینا ہل چل مچ جائے گی، اصلاح کی کوئی صورت بن نہیں پائے گی۔اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے، ایسے ایک لفظ کے اندراج سے بھی،جو فساد اور انتشار کا سبب بن جائے۔ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ ایسی فساد انگیز تحریروں پر ان کے لکھاریوں کے اصل نام نہیں ہوتے۔ یہ معاملہ بھی کھلا کہ ایسا بہت سا مواد بھارت سے چھاپ کر یہاں بھجوایا گیا، جس کا مقصد ملت پاک میں انتشار و افتراق پیدا کرنا تھا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ساری قتل و غارت گری میں پاکستانی حکومتوں نے اب تک کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا۔ان امور سے نمٹنے کے لئے نہ کوئی واضح پالیسی بنائی ہے، نہ قانون سازی کی طرف کوئی قدم بڑھایا ہے۔ جب کوئی شخصیت موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہے تو حکمران معمول کے بیانات دینا شروع کردیتے ہیں کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔عوام بھی چند دن احتجاجی مظاہرے کرتے اور نعرے لگاتے ہیں ،مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والا ہوتا ہے۔عوامی دباﺅ زیادہ ہو جائے تو انکوائری شروع بھی ہو جاتی ہے، لیکن رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آتی۔شاید اس کے پیچھے یہ مصلحت کار فرما ہو کہ رپورٹ آنے سے صورت حال پہلے سے زیادہ آتش بار ہو جائے گی۔چلئے مان لیا، لیکن سمجھ نہیں آتی ، ان رپورٹوں میں حالات کی بہتری کے لئے جن اقدامات کی سفارش کی جاتی ہے، ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا۔میری معلومات کے مطابق فساد پیدا کرنے والے اختلافی لٹریچر پر پابندی کی سفارش کی جاتی ہے، لیکن ارباب اقتدار اس طرف توجہ نہیں دیتے۔

آج بھی اگر آپ اردو بازار لاہور کا دورہ کریں اور دینی کتب چھاپنے والے اداروں کا جائزہ لیں تو وہاں شیعہ سنی ہی نہیں، اہل حدیثوں، دیوبندیوں اور بریلویوں کا بھی متنازعہ لٹریچر بہت زیادہ تعداد میں ملے گا۔سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اختلافِ رائے میں تو کوئی حرج نہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ لکھاری مخالفین کو دائرئہ اسلام سے باہر بتانا شروع کردیتے ہیں، اسے علمی زبان میں ”فتنہ تکفیر“ کہا جاتا ہے، یعنی بات بے بات ایک دوسرے کو کافر کہہ دینا۔مجھے ایک بار حضرت شاہ ولی اللہ کی کتاب ”اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ“ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کسی سے دینی حوالے سے اگر اختلاف کریں تو کس سطح پر جا کر آپ کسی کو کافر قرار دے سکتے ہیں۔شاہ ولی اللہ کی تعلیمات کے مطابق کسی سے بڑے سے بڑا اختلاف ہونے کے باوجود اسے آپ کافر قرار نہیں دے سکتے۔لیکن ہمارے ہاں تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی دوسرے کی تکفیر کردی جاتی ہے۔

دینی حوالے سے انتشار روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ارباب حکومت مرکز اور صوبوں کی سطح پر ایسی کمیٹیاں تشکیل دیں، جن میں سنجیدہ اور جینوئن علماءکے ساتھ ساتھ ساتھ عوامی زندگی سے بھی کچھ فہمیدہ افراد شامل کئے جائیں۔وہ ایک طرف تو مختلف طریقوں سے اختلافی کتابیں لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں، دوسرا ایسا مواد شائع کرنے والے کے خلاف سخت اقدام کریں۔اب تک بے شمار علمی اور دینی شخصیات فرقہ واریت کی آگ کی نذر ہو چکی ہیں، اب اس آگ کو بجھنا چاہیے ۔ ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ کوئی داخلی اور خارجی عنصر دوبارہ یہ آگ بھڑکانے کا حوصلہ نہ کرسکے۔حضرت علامہ اقبالؒ نے تو بہت پہلے ہمیں جھنجھوڑ دیا تھا،کاش ہم ان کا ارشاد یاد رکھتے!

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو

اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی

تو اے شرمندئہ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جا

غبار آلودئہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے

تو اے مرغِ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

مزید :

کالم -