شمالی وزیرستان میں فورسز کی کارروائی

شمالی وزیرستان میں فورسز کی کارروائی

  

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم 23افراد ہلاک اور متعددزخمی ہو گئے ۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق مرنے والے تمام افراد شدت پسند ہیں جن میں سے اکثر یت ازبک شدت پسندوں کی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا قافلہ گزشتہ روز کھجوری چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو واپس لا رہا تھا کہ شدت پسندوں نے اس پر بھی حملے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے زبردست جوابی کارروائی کی گئی فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جس میں تین سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ ایک مقامی صحافی کے مطابق شدت پسند سیکیورٹی فورسز پر حملے کے لئے بارود سے بھری گاڑی تیار کر رہے تھے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی کی۔ خیبر ایجنسی کے علاقے لوئی شلمان میں شدت پسندوں نے سڑک کے تعمیراتی سامان کو جلا دیا، جس میں دو ایکسیویٹڑز، ایک ڈمپر،دو ٹرک اور ایک وین شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جو بھارت کے دورہ پر ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو بھارت سے فون کر کے شمالی وزیر ستان میں فورسز کی کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں زخمی افراد کو طبی امداد کی ضرورت ہے، جنہیں ہسپتال لے جانے کے لئے کرفیو میں نرمی کی جائے۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی اطلاعات اور امریکہ کی طرف سے یہاں فوجی آپریشن کرنے پر زور دینے کے باوجود پاکستان کی طرف سے بڑی حد تک درگزر سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ طالبان سے مذاکرات کی امید میں حکومت نے علاقے کے اردگرد چھوٹے موٹے واقعات اور شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کے آ کر پاکستانی علاقوں میں دہشت گرد حملے کرنے کے باوجود پاکستان کی طرف سے صبر کا ثبوت دیا جاتا رہا ہے۔ طالبان کی طرف سے مذاکرات کے سلسلے میں سرد مہری کو بھی برداشت کیا گیا۔ شمالی وزیرستان کے لوگوں کو پاکستان کے شہری ہونے کے ناتے سے ہر طرح کی سہولتیں اور مراعات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے بہت سے منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے اور بہت کچھ اس کے حالات کی وجہ سے رُکا ہو اہے۔ یہاں کے عام شہری اپنی روایات اور عسکریت پسندی کی وجہ سے مسلح اور نڈر ہیں۔ ان کی اکثریت پاکستان سے محبت کرتی ہے، لیکن علاقے میں دہشت گردوں اور طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کے ٹھکانوں کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگی اذیت میں گذر رہی ہے۔ کوئی بھی مسلسل بدامنی اور انتشار کی وجہ سے اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل برباد ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ علاقے کے عام لوگ طالبان کو مجاہدین اور افغانستان پر غاصب مغربی ممالک کی افواج کے خلاف جہاد کرنے والے مجاہدین خیال کرتے ہیں، جس وجہ سے ان علاقوں میں طالبان اپنے محفوظ ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہیں۔ پاکستانی افواج کے لئے طالبان کا اس علاقے سے صفایا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اپنے پُرامن شہریوں کے تحفظ کا خیال رکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔کوئی ایسی کارروائی نہیں کی جا سکتی، جس سے دہشت گردوں کے ساتھ عام شہری بھی ہلاک ہو جائیں۔ پاک فوج کی اسی احتیاط اور مشکل سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں فوج کا یہ اصول رہا ہے کہ جس گھر سے یا جس عمارت سے اس پر فائرکیا جاتا ہے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسی پوری عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دینا بھی درست اور جائز جانا جاتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یا تو اس عمارت میں رہنے والے دہشت گردوں کے ساتھ مل چکے ہیں یا انہیں عمارت سے بھگا دیا گیا ہے اور خود دہشت گرد اس پر قابض ہوگئے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں دہشت گرد گھروں کے مکینوں کو انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں،جس سے اپنے ملک کے اندر ایسی کارروائی کرنے والی فوج کے لئے دہشت گردوں سے نمٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں مناسب یہی سمجھا جاتا ہے کہ علاقے کے بزرگوں اور با اثر افراد کی مدد ہی سے ایسے لوگوں کو علاقے سے بھگایا جائے اور زیادہ تر مقامی لوگوں ہی پر انحصار کیا جائے، لیکن جب کسی علاقے کے لوگوں کو دہشت گرد یرغمال بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر مقامی لوگوں کی طاقت ختم ہوجاتی ہے۔ انہیں یا تو علاقہ خالی کرنا پڑتا ہے یا وہ بادل نخواستہ دہشت گردوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، کچھ لوگ انہیں مجاہدین سمجھتے ہوئے بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسی پیچیدہ صورت میں حکومت کو بہت صبر اور تحمل دکھانا پڑتا ہے، لیکن ان لوگوں کی طرف سے اپنے ملک میں دہشت گرد کارروائیوں اور ایسی کارروائیوں کی تیاریوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے سٹیٹس کو کی حالت برقرار نہیں رہتی۔ وزیرستان پاکستان کا حصہ ہے، جس کی اکثریت پاکستانی ہونے پر فخر کرتی ہے۔ اس آزاد قبائلی علاقے میں بھی فوج اور سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹس ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے کا صاف مفہوم یہ ہے کہ اب جبکہ طالبان پاکستان سے مذاکرات کے لئے بات آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے دشمن ایک بار پھر سے سرگرم ہیں اور وزیرستان میں”سٹیٹس کو“ ختم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہےں۔ سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر کسی بھی طرف سے حملہ ناقابل برداشت ہے۔ اس کا ردعمل قدرتی امر ہے۔ ایسی دہشت گردی کے مرتکب کسی بھی رنگ میں کسی بھی جگہ چھپے ہوئے ہوں ان تک پہنچنا ضروری تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی اور بہت سے دہشت گردوں کو جن میں دس سے زائد ازبک لوگ بھی شامل تھے ہلاک کیا۔ عام آباد علاقوں سے ڈھونڈ کر دہشت گردوں کو ختم کرنا آسان کام نہیں ہے، اس دوران بے گناہ افراد کا جانی اور مالی نقصان ہو جانا بھی دور کی بات نہیں ۔ ہزار احتیاط کے باوجود اس کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس کے لئے عام شہریوں کو کوشش کر کے دہشت گردوں اور قانون شکنوں کو خود سے دور رکھنا ہوتا ہے۔ جب وہ ان کے درمیان موجود رہیں گے تو اس سے ان کے اپنے نقصان کا احتمال بھی بڑھ جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن کے وزیراعظم کے نام فون سے معلوم ہو رہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے علاقے میں عام شہریوں کا بھی جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جو دُکھ کی بات ہے۔ اس موقع پر دشمن مسلسل ایسے منصوبے بنا کر ان پر عمل کر رہا ہے، جس سے پاکستان میں امن کے راستے ہموار نہ ہو سکیں ،بلکہ عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کا آپس کا تعاون اور اتحاد ختم کرکے ان میں دوری پیدا کی جائے۔ اس صورت حال میں سیکیورٹی فورسز کے لئے بے حد احتیاط اور صبر وتحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ شما لی وزیرستان کی صورت حال دگرگوں ہے اس کی اصلاح اور امن قائم کرنے کے لئے مقامی عمائدین ہی مثبت کارروائی کرسکتے ہیں۔ خود ان کی طرف سے علاقے میں مقیم لوگوں کو مسلح کارروائیوں سے باز رکھ کر ہی اپنے عام شہریوں کو دوسروں کے ہر طرح کے حملوں سے محفوط رکھا جا سکتا ہے۔ یہ وقت طالبان اور دوسرے ہر طرح کے مسلح عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن قائم کرنے کا وقت ہے۔ اس وقت بہت زیادہ احتیاط اور بہت زیادہ صبر کی ضرورت ہے۔ کسی طرح کا غم و غصہ، انتقامی جذبہ یا انا پسندی حکومت اور مولانا فضل الرحمن جیسے قائدین کی طرف سے امن بحالی کے لئے کی گئی طویل محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔ قبائلی عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ پاکستان کی محافظ افواج اور دوسری سیکیورٹی فورسز کا ہر طرح سے ساتھ دیں، تاکہ ملک میں امن قائم ہونے سے عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و رترقی کے کاموں پر توجہ دی جا سکے۔

ڈرون حملے اور اقوام متحدہ کی قرار داد

اقوام متحدہ نے پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ڈرون حملوں میں بے گناہ شہری نشانہ بنتے ہیں اوریہ حملے دہشت گردی میں اضافے کا باعث ہیں۔ ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کے طابع لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ پاکستان کے سیکرٹر ی خارجہ نے کہا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری سے ڈرون حملوں کے سلسلے میں پاکستان کی اخلاقی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، لیکن قرارداد کے نفاذاور اس کی مزید افادیت کے لئے سلامتی کونسل میں چپیٹر سات کے تحت اس کی منظوری ضروری ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف آواز پوری شدت سے اٹھائی گئی تھی، امریکہ میں بھی اس کے خلاف رائے عامہ ہموار ہو رہی ہے، پاکستان کو اس سلسلے میں اپنا دباﺅ جاری رکھنا چاہئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف ان کی جماعت کی طرف سے آواز بلند کرنے پر معیشت کی تباہی کا رونا رویا جاتا ہے، لیکن اقوام متحدہ نے ہمارے موقف کی تائید کردی ہے۔ بلاشبہ اقوام متحدہ میں ڈرون حملوں کے خلاف پاکستانی قرارداد کی منظوری ہماری اخلاقی فتح ہے، لیکن جنگ میں عام طور پر اخلاقی اور قانونی پہلوﺅں کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آپ ایک ملک کا نقصان کرتے ہیں تو وہ آپ کا نقصان کرتا ہے۔ تاہم پاکستان سلامتی کونسل میں بھی اس قرار داد کی منظوری کراسکے تو یہ بین الاقوامی سطح پر ڈرون حملوں کے خلاف مزید دباﺅ کا باعث ہو گی۔ امریکہ کی طرف سے ہم پر واضح کردیا گیا ہے کہ اگر ہم ان کی افغانستان میں سپلائی روکیں گے تو وہ ہماری بہت سی اقتصادی امداد بند کر دے گا۔ امریکہ جو کہتا ہے وہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ہمیں بلاوجہ اپنے لئے مزید مشکلات کو دعوت دینے کے بجائے سفارتی سطح پر ایسا دباﺅ بڑھانے کے کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ تحریک انصاف کی طرف سے جتنا احتجاج ہو چکا وہ کافی ہے، اس کے بعد اسے افغانستان میں امریکیوں کی سپلائی بند کرنے کے بجائے، اس پر دباﺅ بڑھانے کے دوسرے طریقے استعمال کرنے چاہئیں۔ قبائلی علاقوں میں جا کر قبائلیوں کو پاکستانی افواج پر حملے بند کرنے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہئے کہ یہی پاکستان کے مفاد میں بہتر راستہ ہے۔

مزید :

اداریہ -