پاکستانی امریکنیز اور امریکہ

پاکستانی امریکنیز اور امریکہ
 پاکستانی امریکنیز اور امریکہ

  

مَیں نے گزشتہ کالم ’’پاکستانی امریکینیز اور پاکستان‘‘ لکھ کر ایک ادھار تو کچھ حد تک چکا دیا تھا۔ دل کا کچھ غبار نکالنا تھا سو نکال دیا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کا کوئی اثر لیتا ہے یا نہیں۔ اس لئے کہ ’’سوشل ریفارم‘‘ ایک میرے ہی ذمے نہیں ہے۔ اب فرمائش ہوئی ہے کہ مجھے ’’پاکستانی امریکینیز اور امریکہ‘‘ پر بھی لکھنا چاہئے۔ مَیں نے کہا اس کالم میں اس حوالے سے بھی مَیں نے کچھ ہلکا پھلکا ذکر تو کیا ہے اور پہلے بھی مَیں اس موضوع کو ٹچ کرتا رہا ہوں۔ میری وضاحت کے باوجود اصرار جاری رہا تو سوچا بات تو درست ہے۔ چلو اس موضوع پر باقاعدہ بات بھی کر دیکھتے ہیں۔ باتیں تو کتاب کا تقاضہ کرتی ہیں، لیکن جتنا بھی کہہ سکتے ہیں کہہ لیتے ہیں۔

اپنے تجربات، محسوسات، خیالات، مطالعے اور انٹرویوز کا نتیجہ اپنی ناقص عقل استعمال کر کے پیش کرنے سے پہلے مَیں چاہوں گا کہ اپنی عینک سے دیکھتے ہوئے آپ کو پہلے ’’امریکہ‘‘ اور بعد میں ’’پاکستانی امریکینیز ‘‘ کا تعارف کراؤں تاکہ جب مَیں ان دونوں کے انٹر ایکشن کو بیان کروں تو مجھے یقین کرنے اور آپ کو سمجھنے میں آسانی رہے تاہم اپنی آسانی کے لئے جسے امریکہ کہتے ہیں وہ52ریاستوں یا صوبوں کا مجموعہ ’’ریاست ہائے متحدہ امریکہ‘‘ یا یو ایس اے ہے۔ بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس کے درمیان دراصل دو براعظم ہیں۔ شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ۔ شمالی امریکہ دو ممالک کینیڈا اور یو ایس اے پر مشتمل ہے۔ آپ کو یہ سب کچھ معلوم ہو گا اس لئے بُرا نہ منائیں کہ مَیں آپ کو سبق پڑھانے لگ گیا ہوں۔دراصل مَیں چاہتا ہوں کہ مَیں جو کچھ لکھوں اس کا آپ تصور میں منظر دیکھیں۔ بدلتے مناظر کو پڑھنے کی بجائے ان کا براہِ راست مشاہدہ کریں، جس طرح انڈیا کے اصل مالک اور باشندے دراوڑ تھے اسی طرح اس خطے کے اصل مالک اور باشندے ریڈ انڈینز تھے ، جس طرح باہر سے آنے والے منگولوں، افغانوں،ایرانیوں، ترکوں اور عربوں نے طاقت کے زور سے انڈیا کی ملکیت سنبھالی اور بے چارے دراوڑوں کو جنوب کی طرف دھکیل کر پسماندہ اور محکوم بنا لیا۔

یو ایس اے میں بھی یورپ کے باشندے آئے اور انہوں نے آہستہ آہستہ اس ملک میں اپنے قدم مضبوط کر کے ریڈ انڈینز کو اپنی محدود بستیوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ یہاں فرق صرف اتنا تھا کہ انڈیا کے برعکس یو ایس اے میں آنے والے یورپی باشندے جنگ لڑ کر علاقے فتح کرنے نہیںآئے تھے۔ برطانیہ اور یورپ کے ایسے باشندے جن کا اپنی سوچ اور نظریات کے باعث وہاں رہنا محال بنا دیا گیا۔ سمندری جہازوں میں خشکی کا ایسا ٹکڑا ڈھونڈنے نکلے تھے جہاں وہ امن اور سکون سے رہ سکیں۔ یہ جنگجو حملہ آور نہیں، بلکہ پناہ گزین تھے اسی لئے صدر اوباما نے مہاجرین کے بارے میں اپنی پالیسی کو بڑے جذباتی انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ تو ملک ہی پناہ گزینوں کا ہے اس لئے وہ شام کے مظلوم مہاجروں کو پناہ دینے سے کیسے انکار کر سکتا ہے؟ مَیں بتا رہا تھا کہ یورپی پناہ گزینوں کے پہلے قافلے امریکہ کے شمال مشرقی ساحل پر واقع’’نیو انگلینڈ‘‘ کی ریاستوں میں اترے۔ان پناہ گزینوں کو بھوک پیاس اور بیماری سے بچانے کے لئے ریڈ انڈینز نے مکئی، ٹرکی، آلو اور مچھلی کھلائی۔ اس پہلی دعوت پر جس کے ذریعے مہاجروں کی زندگی بچ گئی، خدا کا شکر ادا کیا گیا اور امریکہ میں اس دن کو ’’یوم تشکر‘‘ یعنیThanks Giving Day کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کے بعد نو آبادیاتی کھیل شروع ہو گیا۔ انڈیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز تاجروں نے اپنی تجارت بڑھائی اور مقامی دولت دیکھ کر مقامی باشندوں کی کمزوریوں کو بھانپ کر تجارت چھوڑ کر سیاسی چالیں شروع کر دیں۔

حالات ساز گار دیکھ کر تاج برطانیہ ان تاجروں کی پشت پر آ کھڑا ہو اور بالآخر پورے انڈیا کو محکوم بنا ڈالا۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے حکمرانوں نے جن کے باشندے مستقبل کے یو ایس اے میں آباد ہوئے تھے، اس خطے کے مختلف ٹکڑوں پر اپنے اپنے جھنڈے لگا لئے اور اپنے ہی باشندوں کو ایک بار پھر اپنا محکموم بنانے کا اعلان کر دیا۔ اپنی ان نو آبادیوں میں گورنر مقرر کئے، اپنی فوجیں بھیجیں اور انہیں اپنی اعاعت پر مجبور کر دیا۔ نو آبادیاں بنانے کے کھیل میں ریڈ انڈینزبے دخل اور قتل ہوتے گئے، یعنی یہاں وہی کام ہوا جو آرین نے انڈیا میں دراوڑوں کے ساتھ کیا۔ جب یو ایس اے میں نو آبادیاں بن گئیں تو قابض اور غاصب ملکوں نے عام لیبر کے لئے افریقہ سے غلام درآمد کئے۔ ریڈ انڈینز تو سوسائٹی سے کٹ گئے اور پس منظر میں چلے گئے، لیکن افریقی غلاموں کے ساتھ انڈیا کے اچھوتوں اور ’’کمّی‘‘ قوموں کی طرح دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک شروع ہو گیا، جنہیں بہت بعد میں جا کر اپنی جدوجہد کے نتیجے میں اتنی مکمل آزادی ملی کہ آج انہی غلاموں کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایک غلام امریکہ کا صدر ہے۔

مجھے نہ ہی آپ کو تاریخ بتانی ہے اور نہ ہی میرے پاس اس کی تفصیل کے لئے حوالے کی کتابیں ہیں، صرف اپنی یاد داشت سے یو ایس اے کی بنیاد بننے کی موٹی موٹی باتیں آپ کو بتانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ایک وقت آیا کہ اس نئے مُلک میں آباد انگریزوں سمیت تمام ملکوں کے گوروں نے اپنے اپنے ملکوں کے حاکموں کی اطاعت سے انکار کر دیا اور اس تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ شروع کر دی جو سات سال تک جای رہی اور بالآخر تیرہ کالونیوں نے اپنے آپ کو الگ ریاستوں کا درجہ دے کر یو ایس اے کے وفاق میں شامل ہو کر اس کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ 4 جولائی1776ء کو آج تک یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس اعلان کے باوجود برطانیہ سے آزادی کی جنگ جاری رہی اور بالآخر برطانیہ کے حاکم انگریزوں کو1783ء میں باقاعدہ شکست ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری کالونیاں جو آزاد ہو کر ریاست کا درجہ حاصل کر چکی تھیں وہ بھی یو ایس اے میں شامل ہوتی گئیں اور اس طرح آج کا یو ایس اے52ریاستوں پر مشتمل ہے۔

اس خطے میں جو بعد میں ’’یو ایس اے‘‘ بنا ریڈ انڈینز کو بھگانے یا قتل کرنے والی امپیریل طاقتوں کی فوجیں تھیں، جنہوں نے انڈیا پر تسلط جمایا اور اس خطے پر بھی قبضہ کیا، لیکن آزادی کی سات سالہ جنگ میں ان کی اپنی اچھی خاصی تعداد بھی ماری گئی، جن لوگوں نے اس سامراج کے خلاف جنگ لڑ کر اس ملک کو آزاد کیا۔ انہوں نے ریڈ انڈینز پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ البتہ امریکی گوروں نے قدیم رواج کے مطابق کالوں سے مشقت کا سلسلہ جاری رکھا، نوبل انعام یافتہ مارٹن لوتھر کنگ کی قیادت میں1954ء سے 1968ء تک شہری حقوق کی تحریک چلی جو بالآخر کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ آج امریکہ میں یہ کالے حبشی ’’افریقن امریکن‘‘ کہلاتے ہیں اور امریکی سوسائٹی کا اہم حصہ ہیں۔

ریڈ انڈینز میں سے زیادہ تر خود ہی پس منظر میں چلے گئے اور کچھ مین سٹریم میں بھی شامل ہوئے اور نامور ہوئے۔ تاہم موجودہ ’’یو ایس اے‘‘ کی اکثریت یورپ سے بھاگے ہوئے مظلوم گوروں کی ہے جن میں سے کچھ کے آباؤ اجداد جرائم پیشہ بھی تھے، لیکن یہاں آسودگی ملنے کے بعد وہ مہذب لوگوں کے دائرے میں آ گئے۔ ان کے بعد اپنی جدوجہد کے نتیجے میں باعزت مقام پانے والے ’’افریقن امریکن‘‘ کا نمبر آتا ہے۔امریکی آبادی کا تیسرا بڑا حصہ ان امیگرنٹس پر مشتمل ہے جو بعد کے دور میں یو ایس اے کی آزاد پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وقتاً فوقتاً یہاں آ کر اپنا خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر کرتے رہے۔ پاکستانی امریکنیز بھی ان امیگرنٹس کا ایک حصہ ہیں۔

اگر آپ پاکستانی ہیں یا مسلمان ہیں تو یہ دونوں باتیں یقیناًآپ کے لئے فخر کا باعث ہیں، لیکن جس یو ایس اے کو آپ امریک کہہ کر پکارتے ہیں وہ نہ پاکستانی ہے اور نہ مسلمان۔ اس کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے، اپنا کوئی رنگ، کوئی نسل نہیں ہے۔ وہ ایک وسیع پناہ گاہ ہے جو ہر مذہب رنگ اور نسل کے لوگوں کو اپنے پروں میں ہر وقت چھپانے کے لئے تیار رہتی ہے، خوبصورتی کے پردے میں جمہوریت کے ساتھ پاکستان میں جو سلوک ہوتا ہے اس سے سب پاکستانی آگاہ ہیں۔ انہیں سات سمندر پار نیو یارک میں نصب آزادی کے مجسمے کی دُنیا بھر کے محکوم، مظلوم اور راندۂ درگاہ لوگوں کو اپنی پناہ میں لینے کی دعوت پاکستانی لیڈروں کا ’’انتخابی وعدہ‘‘ لگتی ہے، لیکن یہی بات کسی انصاف پسند سچے پاکستانی امریکن سے پوچھ کر دیکھیں تو وہ اس پیغام کی سچائی کی گواہی دے گا۔ یہ سب پاکستانی امریکنیز سمیت کوئی ایک بھی امیگرنٹ ایسا نہیں ملے گا جو کہے کہ اسے اپنی محنت کا صلہ نہیں ملا یا جس کا جائز جدوجہد کے ذریعے دولت مند اور باعزت بننے اور ایک آزاد جمہوری معاشرے میں سانس لینے کا خواب پورا نہیں ہوا۔

جو لوگ دُنیا بھر میں اسلام کا نام لے کر قتل و غارت کے ذریعے انقلاب برپا کرنے نکلے ہوئے ہیں انہوں نے یورپ کی طرح امریکہ میں بھی مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ اس کے باوجود مَیں نے یہاں جب بھی موقع ملا ہے مساجد کے پاکستانی ماحول اور مذہبی رہنماؤں سے ایک سوال ضرور پوچھا ہے جس کے جواب میں سب نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ انہیں امریکہ میں جتنی مذہبی آزادی حاصل ہے اس کا پاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں پاکستانی امریکنیز کی ایک پہلی نسل ہے اور دوسرے وہ ہیں، جن کے ماں باپ یا آباؤاجداد پاکستان سے آئے تھے۔ پہلی نسل کے لوگوں کے اس نئے وطن کے بارے میں تحفظات تھے، جو وقت کے ساتھ زیادہ تر ختم ہو گئے۔اگر آپ اپنے آپ کو ایک الگ مخلوق بنا کر اس دھارے میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو کوئی آپ سے زبردستی نہیں کر سکتا، لیکن جو لوگ مین سٹریم میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے ’’مواقع کی سرزمین‘‘ سے اتنے فائدے حاصل کئے ہیں کہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ان لوگوں کے ذہن ہی روشن ہو سکتے ہیں جو اپنے مذہب اور اقدار پر صحیح طریقے سے عمل کرتے ہوئے دل بھی کشادہ رکھتے ہوں۔ پاکستانی امریکنیز کو جتنا پوری طرح معلوم ہے شاید باقی پاکستانیوں کو علم نہ ہو کہ ماہِ رمضان میں انتہائی سختی کے دور میں بھی تراویح پڑھانے کے لئے ’’مذہبی ویزے‘‘ پر پاکستان سے حافظ قرآن امریکہ آتے ہیں۔ زیادہ مساجد میں تراویح کی جگہ کم ہونے پر اسلامی مراکز کرسچین کے گرجا گھروں اور یہودیوں کی عیادت گاہوں سے برائے نام کرائے پر جگہ لے کر استعمال کرتے ہیں۔ اگر کرسچین یا یہودیوں میں اتنی مذہبی روا داری ہو سکتی ہے تو مسلمانوں میں کیوں نہیں؟ یہ ایک الگ سوال ہے، لیکن پاکستانی امریکنیز پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ کبھی کچھ چرچ مروتاً کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔

پاکستانی امریکنیز کی تمام نسلیں جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں دوسرے امیگرنٹس کی طرح ایک ثقافتی الجھن کا شکار ہو جاتی ہیں اگرچہ اقدار ثقافت سے ہی جنم لیتی ہیں، لیکن مَیں ثقافت یا کلچر کا نام لوں گا۔ یہاں مشرقی اور مغربی کلچر دونوں ملتے ہیں، جس میں سے بلاشک مغربی کلچر کی فرا وانی ہے۔ ان دونوں کے ساتھ کیسے چلا جائے یا توازن کیسے پیدا کیاجائے؟ پہلے مَیں آپ کی ایک غلط فہمی دور کر دوں۔ مَیں نے ابھی مغربی یا مشرقی کلچر کی بات کی ہے امریکی کلچر کی نہیں، جو ان دونوں سے مختلف ہے اور عمر کے لحاظ سے ان کے سامنے ایک نوزائیدہ بچے کی طرح ہے یا اس سے بھی کم ہے۔مغربی اور مشرقی کلچر کتنے پرانے ہیں یہ مجھے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس تحریر کے وقت تک امریکی کلچر کی عمر تقریباً 240 سال بنتی ہے۔1776ء میں اپنی ابتداء سے اس نے کافی کچھ مغربی کلچر سے لیا ہے، لیکن کلچر کے اس MELTING POT میں اور پھی بہت کچھ مسلسل شامل ہو رہا ہے۔ اس لئے امریکی کلچر کیا ہے اس کے بارے میں حتمی طور پر آپ کچھ کہیں گے تو غلطی میں رہیں گے، کیونکہ اس کا حلیہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک بات طے شدہ ہے کہ اب یہ گورا نہیں رہا۔اگرچہ انگریزوں سے انڈیا کی بجا طور پر روایتی نفرت کا نشانہ بننے والے گوروں کو غلطی سے امریکی ہی بنا دیا جاتا ہے۔ یہ حلیہ کالا بھی نہیں، البتہ اب یہ کھلتا ہوا براؤن ضرور ہو چکا ہے۔ مَیں صرف ظاہری شکل و صورت کی بات نہیں، اقدار کی بات بھی کر رہا ہوں۔

مختصر لفظوں میں جو بات مَیں یہاں پیدا ہونے والے پاکستانی امریکن بچوں کو بتاتا رہتا ہوں وہ مَیں یہاں بھی لکھ رہا ہوں۔ ہماری پاکستانی شاندار اقدار میں جائنٹ فیملی سسٹم، مردوں اور عورتوں کا عدم اختلاط اور مشرقی لباس شامل ہیں۔ امریکی کلچر میں متعدد خوبیاں بھی ہیں، جیسے عصمت دری قتل سے بھی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ جنسی طور پر ہراساں کرنا امریکی معاشرے میں برداشت نہیں ہوتا، لیکن اس نے مغرب سے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا ناپسندیدہ تصور لیا ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور گھر سے باہر رہنے کی آزادی ہے۔18سال کے بعد انڈی پنڈنٹ ہونے کا تصور بھی غلط ہے۔مَیں یہی کہتا ہوں کہ ہمیں دونوں کلچر کی اچھی اچھی باتیں اپنا کر توازن پیدا کرنا ہو گا۔ امریکی کلچر کے اس برتن میں سب حصہ ڈال رہے ہیں ہم اپنی اچھی باتیں اس میں ڈالیں۔ سوسائٹی اچھی باتوں کی دیوانی ہے، لیکن کوئی اس سے پرہیز کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر اسے سمجھائے تو!

آپ پاکستانی امریکنیز سے پوچھئے جس نے مکینک کے طور پر کام شروع کیا وہ گیس سٹیشنوں کا مالک بنا، جو گراسری سٹور کے کاؤنٹر پر کھڑا ہوا وہ متعدد سٹوروں کا مالک بنا، جس نے ٹیکسی چلائی وہ گاڑیوں کی کمپنی کا مالک بنا۔ ہوٹلوں میں ڈش صاف کرنے والے ہوٹلوں کے چین کے مالک بنے۔ایسے مواقع دُنیا میں کہاں ملتے ہیں؟ ڈاکٹر، انجینئر، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور دیگر تعلیمی اور ٹیکنیکل شعبوں میں اپنی تعلیم اور تجربے کے باعث آگے بڑھنے والے پاکستانی امریکنیز بے شمار ہیں۔ سیاسی اور سرکاری شعبوں میں بھی ان کی موجودگی محسوس ہو رہی ہے جیسا کہ مَیں نے پہلے کالم میں لکھا تھا کہ ان کا امریکی سوسائٹی میں ٹریک ریکارڈ صرف اچھا نہیں بہترین ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام پاکستانی امریکنیز امریکی سوسائٹی، کلچر اور سیاست کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اس میں اپنا بھرپور مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان میں بھی آپ کو بہت سے ایسے افراد جو شکل صورت سے بہت معقول نظر آتے ہیں، لیکن اول درجے کے ذہنی مفلس ہیں، جس طرح پاکستان میں آج بھی آپ کو ایسے عقل سے پیدل لوگ مل جائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ نائن الیون کا سانحہ امریکہ نے خودہی کرایا تھا یا ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن مارا نہیں گیا۔ یہاں بھی پاکستانی امریکنیز میں آپ کو زیادہ نہیں تو ایک آدھ بندہ ایسا بھی مل جائے گا، جو پاکستان کی محبت میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا نظر آئے گا کہ کیلیفورنیا میں شوٹنگ کرنے والے پاکستانی نہیں کوئی اور تھے، لیکن بحیثیت مجموعی پاکستانی امریکنیز یو ایس اے کو اس کی اصل صورت میں سمجھتے ہیں اور اس سوسائٹی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید :

کالم -