وزیراعلیٰ پنجاب کا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پہلے کانووکیشن سے خطاب

وزیراعلیٰ پنجاب کا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پہلے کانووکیشن سے خطاب
وزیراعلیٰ پنجاب کا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پہلے کانووکیشن سے خطاب

  

تحریر:انوارفرید:

طب ایک مقدس پیشہ ہے اور اس سے وابستہ افراد دکھی انسانیت کیلئے عظیم مسیحا ہیں۔ طب کے شعبہ سے وابستہ ڈاکٹروں کو دکھی انسانیت کی خدمت کے فریضہ کو عزم اور جذبے کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ پنجاب حکومت نے رواں مالی سال کے دوران صحت کے شعبہ کی ترقی اور عوام کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا اور ریکارڈ بجٹ دیا ہے جو حکومت کا عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے عزم کا عکاس ہے۔ پاکستان کے ڈاکٹرز انتہائی باصلاحیت اور قابل ہیں جنہوں نے بیرونی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ بلاشبہ ہمارے پاس انتہائی قابل ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور نرسز موجود ہیں جن میں دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی موجود ہے لیکن اس کے باوجود ہم ہیلتھ کئیر سروسز کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں مل بیٹھ کر طبی سہولیات کی بہتری کیلئے موثر لائحہ عمل مرتب کرکے اس پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور کے شمس آڈیٹوریم میں یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عام آدمی کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہیں توملک کو قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان اور صحیح معنو ں میں اسلامی فلاحی ریاست نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی خدمت ہم سب پر قرض بھی ہے اور فرض بھی، لہٰذا سیاستدان ہوں یا طب سے وابستہ افراد یا کسی اور شعبہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات، ہم نے اس ملک کی بے لوث خدمت کرکے اس کا قرض لوٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پہلے کانووکیشن میں شرکت میرے لئے باعث مسرت اور باعث اعزاز ہے۔ یونیورسٹی میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور پنجاب حکومت یونیورسٹی کے کالاشاہ کاکو کیمپس کی تکمیل اور دیگر منصوبوں کیلئے بھرپور تعاون کرے گی اور اس ضمن میں ہرممکن وسائل فراہم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت صحت کے شعبہ کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری، ادویات اور ڈاکٹرز کی دستیابی، دیہی و بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن کیلئے بھی موثر اقدامات کئے گئے ہیں۔ کیوبا جیسے ملک نے دنیا بھر میں ہیلتھ سروسز میں نمایاں حیثیت حاصل کی ہے اور ایران کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے پاس بہترین اور باصلاحیت ڈاکٹرز کی موجودگی کے باوجود ہیلتھ کئیر سروسز میں زیادہ بہتری نہیں آئی۔ بلاشبہ ہمارے ڈاکٹروں نے برطانیہ، نارتھ امریکہ، مشرق وسطیٰ، یورپ اور دیگر ممالک میں طب کے شعبہ میں نام پیدا کیا ہے لیکن پاکستان میں ہیلتھ سروسز کا بہتر نہ ہونا بھی لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب میں وسائل کی کمی نہیں ہے، ملک کے اندھیرے دور کرنے کیلئے توانائی اور عوام کو بہترین ٹرانسپورٹ کی فراہمی کیلئے اربوں روپے کے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے اور صحت کے شعبہ کی بہتری کیلئے بھی صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ دیا گیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ شعبہ صحت کی بہتری کیلئے اربوں روپے کے وسائل کی فراہمی کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ ملنا افسوسناک ہے۔ ہیلتھ سروسز کو بہتر کئے بغیر امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں پنجاب کو ڈینگی کی بدترین وباء کا سامنا تھا لیکن ہمارے طب کے شعبہ سے وابستہ افراد اور دیگر اداروں نے عزم، ہمت اور محنت کے ساتھ اس وباء کا مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔ ہماری اس کامیابی پر ہمیں ڈینگی سے لڑنے کیلئے سکھانے کی غرض سے آنے والے سری لنکا، ملائشیا، فلپائن اور انڈونیشیا کے ماہرین ہمارے تجربات سے سیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اس طرح ڈینگی کو شکست دی گئی ہے اسی جذبے کے تحت کام کرنا ہوگا اور صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ عام آدمی کا معیاری طبی سہولتوں پر پورا حق ہے اور یہ حق ہم نے مل کر لوٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی عزم، محنت اور جذبے سے کام کرکے ہم تاریخ کا دھارا موڑ سکتے ہیں اور صوبے میں ہیلتھ کئیر سروسز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ صحت کے شعبہ کے ماہرین کی مشاورت سے ہم اپنے ہیلتھ سیکٹر میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں، اس لئے میری آپ سے اپیل ہے کہ صحت کے شعبہ سے وابستہ افراد آگے آئیں اور ہیلتھ کئیر سروسز کی بہتری کیلئے رہنمائی اور مشاورت فراہم کریں۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز جنرل (ر)ڈاکٹر محمد اسلم نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں اور یونیورسٹی کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ وزیراعلیٰ نے کورسز مکمل کرنے والوں میں ڈگریاں، اسناد اور میڈلز تقسیم کئے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کو یونیورسٹی کا سوئنیر پیش کیا۔مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، وائس چانسلر یونیورسٹی جنرل (ر) ڈاکٹر محمد اسلم، یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، میڈیکل کالجز کے پرنسپلز، ڈاکٹرز، طلبا و طالبات اور ان کے والدین کی بڑی تعداد نے کانووکیشن میں شرکت کی۔ شعبہ طب سے وابستہ افراد کی مشاورت سے پنجاب میں صحت عامہ کی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی اور پنجاب کا محکمہ صحت دنیا میں بہترین اور معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی میں لیڈ لے گااور یہ عظیم مقاصد مشترکہ کاوشوں اور اجتماعی بصیرت سے حاصل ہو ں گی۔

مزید :

کالم -