نہ ٹائیگر فورس مؤثر نہ رسپانس فورس کوئیک

نہ ٹائیگر فورس مؤثر نہ رسپانس فورس کوئیک
نہ ٹائیگر فورس مؤثر نہ رسپانس فورس کوئیک

  



فیصل آباد میں ڈاکوؤں‘راہزنوں‘ چوروں نے یہاں کے مکینوں کا جینا جب دوبھر کر دیا‘ لوگ نہ گھروں میں محفوظ رہے نہ بازاروں‘ گلی کوچوں‘شاہراہوں اور پارکوں میں______اصلی وارداتوں کو جب فرضی فون کالوں میں لپیٹ دیا گیا______ جب ان وارداتوں کے مقدموں کا اندراج کرانے کیلئے عدالتوں اور بڑے پولیس آفیسرز کے دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے متاثرین مایوس ہو کر صبر کر کے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے اور تھانوں میں تعینات پولیس اپنی من مرضیاں کرتی رہی______ توشاید ’’اوپر‘‘ والوں نے فیصل آباد کے پولیس حکام کو ان کی ڈیوٹی کا احساس دلایا اور تب کچھ کر دکھانے کی کوشش کے طور پر فیصل آباد شہر میں پولیس کی ٹاؤن حکام نے تین ٹاؤنز کی سطح پر 120رکنی ٹائیگر فورس بنائی جسے 60موٹر سائیکل دینے کا فیصلہ کیا گیا جن پر دو دو مسلح چاک و چوبند اہلکاروں کو بٹھانے کا حکم دیا گیا‘ چار پانچ روز قبل انہیں پولیس کے پاس پہلے سے موجود موٹر سائیکلوں کی لاکھوں روپے خرچ کر کے مرمت وغیرہ کروا کر ان کے حوالے کر دیا گیا. اس کیلئے باقاعدہ افتتاحی تقریب بھی منعقد کی گئی. اس ٹائیگر فورس کو جب فنکشنل کرنے کا وقت آیا اور انہیں دیئے گئے موٹر سائیکل سٹارٹ کرنے کا مرحلہ آیا تو نصف درجن کے قریب وہ موٹر سائیکل سٹارٹ ہی نہ ہو سکے جن کے ذریعے ڈاکوؤں کو پکڑنا تھا. اس ٹائیگرفورس کی افادیت کا تھوڑا بہت اندازہ تو اسی مرحلے پر ہو گیا تھا‘ بہرحال وہ ٹائیگرفورس کمرشل مارکیٹوں اور بڑی سڑکوں پر ڈیوٹی دیتی نظر آئی جن کی تعداد 120کے بجائے تقریباً نصف تھی. یہ ٹائیگر فورس چونکہ شہری حلقوں لائل پور ٹاؤن‘ اقبال ٹاؤن اور مدینہ ٹاؤن تک ہی محدود ہے اسلئے لائل پور ٹاؤن کو 14‘ اقبال ٹاؤن اور مدینہ ٹاؤن کو سولہ سولہ موٹر سائیکل دیئے گئے. اس طرح 44موٹر سائیکل رہ گئے‘ باقی اہلکاروں کو ہفتہ وار چھٹی کی سہولت دینے کیلئے ریزرو رکھ لیا گیا. بہترین گاڑیوں اور جدید اسلحہ کے ساتھ کوئیک رسپانس فورس پہلے سے ہی شہر میں گشت کرتی دکھائی دے رہی ہے‘ادھر ڈاکوؤں اور راہزنوں نے بھی کچھ عرصہ قبل اپنے وحشیانہ طرز عمل میں شدت پیدا کر لی ہے وہ واردات کے دوران لوٹ مار کر کے جب فرار ہونے لگتے ہیں تو لٹنے والے کو گولیاں مار کر شدید زخمی بھی کرنے لگے ہیں جن میں چند ایک زخمی تو اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے. بہرحال ٹائیگرفورس اور کوئیک رسپانس فورس دونوں ڈیوٹی دینے لگیں مگروارداتوں کا یہ سلسلہ پھر بھی نہ رک سکا مگر ’’کاغذوں‘‘میں یہ وارداتیں بہت ہی کم دکھائی دینے لگیں پہلے اگر 15فیصد وارداتوں کے مقدمات درج ہوتے تھے تو وہ اب تین چار فیصد تک ہی نظر آتے ہیں اس طرح فیصل آباد کے تھانوں کے ریکارڈ میں تو وارداتیں کم ہو گئیں مگر شہری اسی طرح لٹتے رہے‘زخمی ہوتے رہے‘ مایوس ہوتے رہے اور اس گڈ گورننس سے توبہ توبہ کرتے رہے______بھاری سیکورٹی کے ساتھ بلند فصیلوں اور ان کے اوپر لگی خاردار تاروں میں گھرے گھروں اور خوبصورت دفاتر میں محفوظ غالباً اس حقیقی مگر خوفناک صورتحال سے بے خبر یا بے بس پولیس حکام اس کو ’’سب اچھا‘‘ کا نام دے رہے ہیں یا باخبر ہو کر ڈنگ

ٹپاؤ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں. گزشتہ روز ان پولیس حکام نے شہر میں اس ٹائیگر فورس کے فلیگ مارچ کے ذریعے لوگوں میں موجود مایوسی اور خوف و ہراس کو کم کرنے کی مقدور بھر کوشش کی مگر انہیں اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ لوگوں کو ڈاکوؤں‘راہزنوں کی لوٹ مار اور ان کے ظلم و ستم سے عملی طور پر بچا کر ہی اس مایوسی اور خوف و ہراس کو کم کیا جا سکتا ہے اور اس کیلئے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے‘تھانوں کے اندر کیا ہو رہا ہے ______ ناکوں‘سڑکوں‘ گلی کوچوں میں مقدس وردی پہنے پولیس ملازم تھوڑے تھوڑے ذاتی فائدے کی خاطر کس طرح پولیس کے حقیقی امیج کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں یہ دو واقعات تو صرف مثال کے طور پر تحریر کئے جا رہے ہیں ورنہ اس جیسے بے شمار واقعات تو ہر تھانے میں روزانہ کی بنیاد پر ہی ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں کہ تھانوں میں کس طرح لوگوں کو ناجائز حراست میں مہینوں رکھا جاتا ہے اور پھر ان پر کوئی نہ کوئی مقدمہ بنا دیا جاتا ہے اور پولیس کے بڑے بڑے افسر اس ناانصافی اور زیادتی سے یا تو بے خبر ہوتے ہیں یا چشم پوشی کر جاتے ہیں. 29جولائی 2015کو تھانہ ڈجکوٹ کے علاقہ میں ایک شخص جاوید ندیم پراسرار طور پر مردہ حالت میں پڑا یایا گیا‘ جس کا کردار مشکوک تھا‘تیل چوری یا ڈکیتی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر تھے‘اس کے ورثاء نے اس وقت کے ایس ایچ او کو نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی. اس ایس ایچ او نے اس واقعہ کو خودکشی قرار دیا اورمقدمہ درج نہ کیا جس کو سزا کے طور پر وہاں سے تبدیل یا معطل کر دیا گیا‘ نیا ایس ایچ او آیا تو اس نے اس کی ایف آئی آر نمبر 15/383بجرم 302/148/149درج کر لی پھر مقتول کے فون ڈیٹا کے ذریعے نمبر ٹریس کئے گئے جس کے ساتھ اس مقتول کا جھگڑا تھا اسے چھوڑ دیا گیا اور عبدالستار جو اس سے تیل خریدتا تھا اس کو پکڑ لیا گیا ڈجکوٹ پولیس نے اسے تین ماہ تک تھانہ کی حوالات میں بند رکھا‘ اس دوران دو مرتبہ اسے ایس پی اقبال ٹاؤن کے سامنے پیش کیا گیا اور پھر واپس تھانہ میں بھیج دیا گیا ‘تین ماہ تک اسے نہ تو کسی عدالت میں ریمانڈر کیلئے پیش کیا گیا اور نہ ہی اس کی گرفتاری ڈالی گئی تھانہ کے اندر اور تھانیداروں کے عقوبت خانوں میں اس پر تشدد کا ہرطریقہ آزمایا گیا مگر وہ اپنے آپ کو بے قصور کہتے ہوئے صحت جرم سے انکار کرتا رہا‘ پھر تین ماہ گزر جانے کے بعدایک روز اسے قتل کا ملزم ٹھہرا کر اس کی گرفتاری ڈال دی گئی______ملزم عبدالستار نے متعلقہ عدالت کو بھی ریمانڈ کے لئے پیش ہوتے وقت سارا ماجرا بھی بتایا مگر عدالت پولیس کے خود ساختہ شواہد کے سامنے خاموش ہو گئی اور بالآخر اس پر پسٹل ڈال کراس کا چالان بنا کر جوڈیشل حوالات میں بھیج دیا گیا______کیا یہ سارا واقعہ مقامی اعلیٰ پولیس حکام کے علم میں تھا اگر علم میں تھا تو انہوں نے کیا انصاف دلایا اور اگر علم میں نہیں تھا تو متعلقہ حکام کی بے خبری تو اس سے بھی زیادہ جرم سمجھی جاتی ہے‘دوسرا واقعہ تھانہ کھرڑیانوالہ کا ہے. شیخوپورہ روڈ پر ایک مزدا ڈالہ اور کار کی ٹکر ہو گئی کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر دونوں گاڑیاں بری طرح ٹوٹ پھوٹ گئیں. کھرڑیانوالہ پولیس ڈالہ پکڑ کر تھانہ میں لے آئی اس دوران دونوں فریقین کا تھانہ کے اندر ہی محرر کی موجودگی میں پنچائتی طور پر تحریری سمجھوتہ ہو گیا مگر کھرڑیانوالہ پولیس کو چونکہ کوئی منافع نہیں ہوا تھا اس لئے اس نے ڈالہ چھوڑنے سے انکار کر دیا زیادہ اصرار کیا تو پولیس نے مزدا ڈالہ کے ڈرائیور کے ساتھ آنے والے بھائی کو حوالات میں بند کر دیا جسے 36گھنٹے بند رکھنے کے بعد ایک’’ ڈیل ‘‘کے نتیجے میں چھوڑ دیا اس دوران تھانہ میں کھڑے ڈالہ کی بیٹریاں چوری کر لی گئیں. مزدا ڈالہ ڈرائیور نے اس واقعہ کی تحریری شکایت ایس ایس پی آپریشنز فیصل آباد سے کی تو انہوں نے انکوائری انسپکٹر اشتیاق رسول کو لگا دی جس نے ابھی ایس ایچ او اور محرر کو طلب ہی کیا تھا کہ پولیس نے درخواست دہندہ کو صلح کرنے کے لئے پریشر ڈالنا شروع کر دیا وہ نہ مانا تو رات کے وقت پولیس کی بھاری نفری کھرڑیانوالہ کے نواح میں واقع ان کے گھر پر چڑھ دوڑی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئی گھر میں درخواست دہندہ موجود نہ تھا تو اس کے بھائی کو گھر کی خواتین کے سامنے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تھانہ میں لے گئی جہاں اسی پرانے ایکسیڈنٹ کا مقدمہ درج کر کے اس میں اسے گرفتار کر لیا اوراس پر مزید تشدد کیا گیا کہ درخواست واپس لو‘ درخواست دہندہ انکوائری آفیسر کے پاس جاتا رہا جہاں وہ آج تک جا رہا ہے‘ دس روز بعد گرفتار بھائی کی ضمانت ہوئی______

اس میں کس کس کا قصور ہے کیا پولیس حکام نے کسی کو کوئی سزا جزا دی‘ اب پھر اسے صلح پر مجبور کیا جا رہا ہے بالآخر انصاف سے محروم و مایوس شخص اب مجبور ہو کر صلح کرنے والا ہے ایسے بے شمار واقعات پولیس تھانوں میں روزانہ پیش آ رہے ہیں کیا پولیس حکام اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ______ مایوس ومتاثرہ لوگ یہ سوال لئے روز ضلع کونسل چوک اور دیگر سڑکوں و دفاتر کے سامنے احتجاج کی صورت میں ایک سوال کر رہے ہیں مگر ان کا کوئی جواب نہیں مل رہا‘ دوسری طرف پولیس سنگین وارداتوں میں ملوث خطرناک مجرموں کو ترجیحی بنیادوں پر پکڑنے کی بجائے چھوٹے موٹے منشیات فروشوں‘قمار بازوں کو پکڑنے کے ’’ڈرامے ‘‘کر کے اپنی کارکردگی کی خبریں دینے میں لگی ہوئی ہے ورنہ کیا پولیس حکام کے علم میں یہ نہیں ہے کہ منشیات فروش اور قمار باز کیسے پکڑے جاتے ہیں اور ان پر کیا کیا چیزیں کیسے کیسے ڈالی جاتی ہیں اگر وہ اس ’’طریقہ ء پکڑ دھکڑ ‘‘سے بھی بے خبر ہیں تو پھر فیصل آباد کا خدا ہی حافظ ہے۔

مزید : کالم