فیس کی بجائے سکول انتظامیہ نے ایسا مطالبہ کردیا کہ والدین کے لئے یقین کرنا مشکل ہوگیا

فیس کی بجائے سکول انتظامیہ نے ایسا مطالبہ کردیا کہ والدین کے لئے یقین کرنا ...
فیس کی بجائے سکول انتظامیہ نے ایسا مطالبہ کردیا کہ والدین کے لئے یقین کرنا مشکل ہوگیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک سکول نے بچوں کی تعلیم کے عوض فیس کی بجائے ان کے والدین سے ایسا مطالبہ کر دیا ہے کہ اگر باقی دنیا بھی یہ روش اپنا لے تو دنیا کو درپیش گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے سے نجات مل جائے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ کے علاقے امبیکرپور میں ایک سکول نے پرائمری تک بچوں کو مفت تعلیم دینے کا اعلان کر دیا ہے اوروالدین سے کہا ہے کہ جو اپنے بچوں کی فیس دینے کی سکت نہیں رکھتے وہ بدلے میں درخت لگائیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ معیاری انگلش میڈیم سکول مقامی کاروباری افراد اور پروفیشنلز کی طرف سے بنایا گیا ہے جس میں اس وقت چار سے پانچ سال کے 35بچے زیرتعلیم ہیں۔ والدین یہ جان کر ہی بہت خوش تھے کہ ان کے گاﺅں میں ایک اچھا سکول کھل گیا ہے جہاں ان کے بچے معیاری انگریزی میڈیم تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اب درخت لگانے کے بدلے فیس معافی کا اعلان ان کے لیے دوہری خوشی لایا ہے۔

وہ پاکستانی جو کینیڈین پولیس سے بھی زیادہ چالاک نکلا، نوجوان لڑکی کے ساتھ انتہائی شرمناک حرکت کے بعد پولیس کو ایسے انداز میں چکما دے کر پاکستان آگیا کہ گورے حیران پریشان رہ گئے

گاﺅں کے ایک باسی سیوک داس کا کہنا تھا کہ ”یہ سکول گاﺅں کے غریب بچوں کے لیے کھولا گیا ہے جن کے والدین ان کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس سکول میں بچوں کو انگریزی میں تعلیم دی جا رہی ہے اور سکول کی انتظامیہ نے بچوں کی فیس کے بدلے ان کے والدین کو درخت لگانے اور خود ہی ان کی نگہداشت کرکے پروان چڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔“

رپورٹ کے مطابق اگر کسی بچے کے والدین کا لگایا ہوا درخت سوکھ جاتا ہے تو انہیں اس کی جگہ نیا درخت لگانا ہو گا۔ سکول انتظامیہ کے اس اقدام کی بدولت گزشتہ ایک سال میں گاﺅں کی حدود میں 700نئے درخت لگائے جا چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس