محکمہ اطلاعات کی ری سٹرکچرنگ اور ری ماڈلنگ سے کارکردگی میں اضافہ ہو گا

محکمہ اطلاعات کی ری سٹرکچرنگ اور ری ماڈلنگ سے کارکردگی میں اضافہ ہو گا
 محکمہ اطلاعات کی ری سٹرکچرنگ اور ری ماڈلنگ سے کارکردگی میں اضافہ ہو گا

  

وطن عزیز میں اگرچہ دیانتدار ، فرض شناس اور مستعد افسر و اہل کار خال خال ہی نظر آتے ہیں، لیکن وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کا وجود غنیمت ہے، کیونکہ وہ قابل قدر قومی اثاثہ ہیں اور اپنے فرائض منصبی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں۔ ایسے افسران ریاستوں اور قوموں کی تعمیر میں گراں قدر خدمات انجام دیتے ہیں۔

موجودہ ترقی یافتہ دور میں آئی ٹی کے اس انقلاب آفرین عہد میں اطلاعات کی فوری رسائی کے مربو ط تسلسل کے بغیرہم خود کو لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال سے باخبرنہیں رکھ سکتے۔ اس لئے اطلاعات و نشریات کے ادارے قومی ہوں یا نجی، ان کے پیشہ وارانہ کردار کی وجہ سے عوام الناس کو آگاہی حاصل ہوتی ہے اس لئے ان سب میں سے کسی ایک کی بھی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور یہ سب ادارے اپنے اپنے طور پر بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دورحاضر میں میڈیا کو وہ اہمیت اور فوقیت حاصل ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن وزیر اعلی پنجاب محمدشہباز شریف کے ایک معتمد ساتھی ہیں اور انہوں نے جس طرح محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو نمایاں اصلاحات کے ذریعے اس محکمے کی کارکردگی میں کئی گنااضافہ کیا ہے، اسی طرح قوی امید ہے کہ ان کی زیر قیادت پنجاب کا محکمہ اطلاعات بھی قابل فخر کردار ادا کرکے اعلی پیشہ وارانہ روایات قائم کرے گا۔ سیکرٹری اطلاعات کے طور پر راجہ جہانگیر انور بھی ایک نہایت زیرک میڈیا منیجر کی طور پر محکمہ اطلاعات میں ایک نئی روح پھونک رہے ہیں اور جس طرح محکمے کی ری سٹرکچرنگ اور ری ماڈلنگ کے ذریعے ابلاغ عامہ کے تمام شعبوں کی طرح پیشہ وارانہ مہارت سے لیس کرنے کے لئے ایک ایسے روڈ میپ پر عملدرآمد کرارہے ہیں جس سے اس محکمے کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

سرکاری محکموں میں افسروں اور اہلکاروں کے تقرر و بتادلے ایک معمول کا عمل ہے۔ اس معمول کے تحت محکمہ اطلاعات پنجاب میں بہت سے نیک نام آفیسر آئے اور ایسے بھی آئے، جن کے حوالے سے بعض تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ حال ہی میں محکمہ اطلاعات پنجاب میں سیکرٹری آغا مومن اچھی شہرت کے ساتھ رخصت ہوئے اور ان کی جگہ راجہ جہانگیر انور نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، وہ خوش اخلاق، خوش لباس، فرض شناس اور دیانت دار افسر ہیں۔ یہ میری ذاتی رائے نہیں ،بلکہ یہ ان سے معاملات کرنے والے ایڈیٹروں اور صحافیوں کی آراء کانچوڑ ہے۔ راجہ جہانگیر انور پہلے افسر ہیں جن کومالکان اخبارات کی تنظیم اے پی این ایس کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے ’’حسنِ سلوک،، پرپسندیدگی کی سند عطا کی گئی ہے ان کی تقرری کے بعد اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذمہ داروں کے اشتہارات کے حوالے سے تحفظات دور ہوئے، بلکہ اطلاعات اور ثقافت کے شعبوں کی کارکردگی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح نظری�ۂ پاکستان ٹرسٹ، بزم اقبال، پنجاب آرٹس کونسل اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج کو درپیش مسائل بھی خوش اسلوبی سے حل ہورہے ہیں۔

نظامت تعلقات عامہ پنجاب کی کارگردگی بہتر بنانے کے سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی نگاہ انتخاب بالکل صحیح افسر پر پڑی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ اور حکومت پنجاب کو صوبے اور عوام کی بہتری کے لئے اقدامات سے لوگوں کو بہتر انداز سے آگاہی ہورہی ہے۔ وزیرا علیٰ کی تقاریب میں بیٹ رپورٹرز کے ساتھ ایسے کالم نگار بھی نظر آنے لگے ہیں جو پہلے ایسی تقاریب میں شرکت سے گریز کرتے رہے ہیں۔ صحافتی حلقوں میں بعض اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ’’خصوصی برتاؤ،، کی شکایات سنی جاتی رہی ہیں۔ راجہ جہانگیر انور نے اس سلسلے میں ایسی حکمت علمی اختیار کی جس کے نتیجے میں اس شکایت کا ازالہ ہوگیا۔ اشتہارات کی تقسیم میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طرز عمل اختیار کیا گیا اس طرح اخبارات کے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کا خاتمہ کیا گیا جبکہ معاملات کومزید بہتر بنانے کے لئے وہ دن رات کوشاں ہیں۔ راجہ جہانگیر انورکی حُب الوطنی اور راست فکری کی دلیل ان کا نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اور بزمِ اقبال کے معاملات میں منصبی تقاضے سے بڑھ کر ذاتی دلچسپی ہے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ جو نئی نسل کو قائداعظمؒ کے افکار، تحریک پاکستان اور مقاصد پاکستان کو اسے روشناس کرانے کے لئے قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے اس کو درپیش مسائل حل کرنے میں ذاتی دلچسپی کوئی پاکستانی سوچ رکھنے والا افسر ہی لے سکتا ہے۔

انہوں نے ٹرسٹ کے ذمہ داروں کو درپیش مسائل جلد از جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایوان قائداعظم کے لئے پانچ کروڑ کی گرانٹ کا اعلان کیا تھا، انہوں نے اس سلسلے میں بہت مثبت یقین دہانی کرائی ہے۔ اُمید ہے کہ معاملہ جلد طے ہوجائے گا۔

بزمِ اقبال صوبائی محکمہ اطلاعات کے زیر انتظام ادارہ ہے جو کافی عرصہ سے بعض مشکلات و مسائل کا شکار چلا آرہا ہے۔ یہ صورتحال راجہ جہانگیر انور کے علم میں لائی گئی تو انہوں نے بزمِ اقبال کے دفتر میں اجلاس طلب کرکے جائزہ لیا اور درپیش مشکلات و مسائل کو دور کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات کیے۔ بزمِ اقبال نے 2016ء کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا تاکہ فکر اقبال کو موثر انداز سے فروغ دیا جائے اس منصوبے سے اتفاق کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور نے متعلقہ افسروں کا اجلاس طلب کرکے اس منصوبے کو جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت کی اور اس کے لئے حکومت سے خطیر گرانٹ کی بھرپور سفارش کی۔ اس منصوبے کے تحت بزمِ اقبال کے احاطے میں گوشۂ اقبال کے حوالے سے ایک بڑی لائبریری قائم کی جائے گی دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی علامہ اقبال کی شخصیت پیغام اور نظریات کے بارے میں تحقیقی کام ہوا ہے۔ مختلف زبانوں میں کتب شائع ہوئی ہیں ان سب کو اس لائبریری میں جمع کیا جائے گا۔ تاکہ آئندہ نسلوں کو علامہ اقبال اور ان کے نظریات و افکار اور مسلمانوں کے لئے درد مندانہ جذبات و خیالات سے آگاہی اور راہنمائی کے سلسلے میں استفادہ کرنے کی سہولت حاصل ہو۔ اس طرح وطن عزیز کی مختلف یونیورسٹیوں میں علامہ اقبال اور ان کی شاعری کے حوالے سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات تحریر ہوئے ان کی اس لائبریری میں دستیابی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ راجہ جہانگیر انور نے اس منصوبہ کو بے حد پسند کیا اور وہ اس کے لئے خطیر گرانٹ کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے بزمِ اقبال میں لائبریری کے قیام کے سلسلے میں بزم اقبال اور اردو ترقیاتی بورڈز کے مشترکہ رقبہ کی حدبندی اور تقسیم کے لئے بھی اقدامات کیے۔ اس طرح سیکرٹری لائبریری اینڈ آڑکائیو احمد رضا نے بھی اقبال لائبریری کے لئے کتابوں کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے۔ راجہ جہانگیر انور کی ذاتی دلچسپی نے لائبریری کا جلد قیام ممکن بنادیا ہے۔ راجہ جہانگیر انور کی راہنمائی میں پنجاب آرٹس کونسل نے جنڈیالہ شیر خان (ضلع شیخوپورہ) میں لوک شاعر وارث شاہ کے نام سے ایک لائبریری کا پروگرام بنایا ہے ،جس میں وارث شاہ کی شخصیت اور فن شاعری کے حوالے سے کتابوں، مقالہ جات، لٹریچر اور دیگر کتب بھی فراہم کی گئی ہیں، جبکہ اس لائبریری کے لئے کافی کتابیں بطور عطیہ حاصل کی جاچکی ہیں۔

چند روز قبل آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کی پنجاب کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزیر اطلاعات مجتبیٰ شجاع کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں ایک اخبار کے مدیر و مالک نے ان سے گلہ کیا کہ ڈائریکٹر جنرل پنجاب پبلک ریلیشنز اور سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور ان کے ہمراہ نہیں آئے، جس پر میاں مجتبیٰ شجاع نے بتایا کہ وہ دو دن کی رخصت پر ہیں اس لئے نہیں آئے۔ اجلاس میں محکمہ اطلاعات کی کارکردگی کے حوالے سے بعض تحفظات کا اظہار کیا گیا تو ممتاز صحافی اور اے پی این ایس کے سابقہ وائس پریزیڈنٹ جمیل اطہر قاضی نے وزیر اطلاعات کو بتایا کہ راجہ جہانگیر انور کے منصب سنبھالنے کے بعد اخبارات کو درپیش مسائل خوش اسلوبی سے حل ہورہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ اخبارات کو ان کے حق کے مطابق اشتہارات کا اجراء کیا جارہا ہے اورکافی عرصہ کے بعد اشتہارات کی تقسیم کے حوالے سے اخبارات کی انتظامیہ مطمئن ہے۔ اے پی این ایس کے صدر اعجاز الحق (ایکسپریس) نے بھی جناب جمیل اطر قاضی کی تائید کی اور اس سلسلے میں اظہار اطمینان کیا۔ جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ سرکاری حکام بھی اس معاشرہ کا حصہ ہیں اس ملک سے ان کی محبت بھی ایک عام پاکستانی جتنی ہی ہوسکتی ہے۔ جہاں تک مروجہ دفتری نظام کا تعلق ہے کوئی بھی آفیسر لگے بندھے ضابطوں اور قواعد و ضوابط سے باہر نہیں جاسکتا جو عوامی سطح پر شکایات کا باعث بنتی ہے۔ بدقسمتی سے عوامی ہونے کے دعویدار کسی حکومت نے اس نظام میں انقلابی تبدیلیوں کے لئے اصلاحات رائج نہیں کیں، بلکہ اس دفتری نظام کے چنگل میں پھنسی بیورو کریسی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا چلن عام رہاہے۔

مزید : کالم